حدیث نمبر: 27541
٢٧٥٤١ - حدثنا أبو الأحوص عن عاصم عن محمد قال: يسلم الراكب على الماشي، (و) (١) الماشي على (القاعد) (٢) فإذا التقيا بدأ آخرهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ اما م محمد نے ارشاد فرمایا : سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا ، اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے گا اور جب دو شخص ایک ہی حالت میں ملیں تو ان میں سے بہتر ہی سلام میں پہل کرے گا۔
حدیث نمبر: 27542
٢٧٥٤٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن (حصين) (١) قال: كنت أنا والشعبي فلقينا رجلًا راكبًا، فبدأه الشعبي (بالسلام) (٢)، فقلت: أتبدأه ونحن راجلان وهو راكب؟ فقال: لقد رأيت شريحًا يسلم على الراكب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ میں اور امام شعبی ایک سوار آدمی سے ملے تو امام شعبی نے سلام میں پہل کی، میں نے عرض کیا۔ آپ سلام میں پہل کررہے ہیں حالانکہ ہم دونوں پیدل ہیں اور وہ سوار ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے حضرت شریح کو دیکھا تھا کہ آپ نے سوار کو سلام کیا۔
حدیث نمبر: 27543
٢٧٥٤٣ - حدثنا (معتمر) (١) عن برد عن مكحول وسليمان بن موسى قالا: يسلم (الصغير على الكبير) (٢)، والقائم على القاعد، ويسلم الراكب على الماشي، والقليلون على الكثيربن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت برد فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول اور حضرت سلیمان بن موسیٰ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : چھوٹا بڑے کو سلام کرے گا، اور کھڑا شخص بیٹھے ہوئے کو سلام کرے گا، اور سوار شخص پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں گے۔