کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو یوں خط لکھے: اللہ کے نام کے ساتھ فلاں شخص کے لیے
حدیث نمبر: 27510
٢٧٥١٠ - حدثنا أبو أسامة (قال: حدثنا) (١) (٢) ابن عون عن ابن سيرين أن رجلًا كتب لابن عمر: بسم اللَّه لفلان، فقال ابن عمر: مه إن اسم اللَّه (هو) (٣) له وحده (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو خط میں یوں لکھا : اللہ کے نام کے ساتھ فلاں شخص کے لیے، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : رک جاؤ۔ یقینا اللہ کا نام صرف اسی کے لیے خاص ہے۔
حدیث نمبر: 27511
٢٧٥١١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره أن يكتب أول الرسالة بسم اللَّه الرحمن الرحيم لفلان، ولا يرى بأسًا أن يكتب في (العنوان) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم خط کے شروع میں یوں لکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم لفلان۔ اور اس کو پتہ کے شروع میں لکھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 27512
٢٧٥١٢ - حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن حميد عن بكر قال: اكتب (إلى فلان) (١) ولا تكتب لفلان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حضرت بکر نے ارشاد فرمایا : یوں لکھا کرو۔ (الی فلان) فلاں آدمی کی طرف ، یوں مت لکھا کرو ۔ لِفلان۔ یعنی فلاں آدمی کے لیے۔
حدیث نمبر: 27513
٢٧٥١٣ - حدثنا يحيى بن يمان عن إسرائيل عن إسماعيل بن (سلمان) (١) عن دينار (عن) (٢) ابن (٣) الحنفية قال: لا بأس أن يكتب: بسم اللَّه لفلان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت دینار فرماتے ہیں کہ حضرت ابن حنفیہ نے ارشاد فرمایا : کہ بسم اللّٰہ لفلان لکھنے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 27514
٢٧٥١٤ - حدثنا يحيى بن يمان عن اسرائيل (عن) (١) الشعبي مثله.
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی سے مذکورہ ارشاد اس سند سے منقول ہے۔