حدیث نمبر: 27495
٢٧٤٩٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر قال: سألته عن الرجل يستأذن علي ولا يسلم (آذن) (١) له؟ قال: أكره (أن) (٢) (آذن) (٣) له والناس يفعلونه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزبیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا : جو مجھ سے اجازت تو طلب کرے اور سلام نہ کرے کیا میں اسے اجازت دے دوں ؟ آپ نے فرمایا : میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں اس کو اجازت دوں اور لوگ تو ایسے ہی کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 27496
٢٧٤٩٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك عن عطاء عن أبي هريرة ⦗٢٧٦⦘ (قال) (١): (لا تأذنوا) (٢) حتى تؤذنوا بالسلام (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ نے ارشاد فرمایا : تم اجاز ت نہ دو ، یہاں تک کہ سلام کے ذریعہ تم سے اجازت مانگی جائے۔
حدیث نمبر: 27497
٢٧٤٩٧ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: إذا دعيت فهو إذنك، فسلم ثم ادخل (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب تجھے بلایا گیا ہو تو یہ تیرے لیے اجازت ہے، پس سلام کر پھر داخل ہوجا۔
حدیث نمبر: 27498
٢٧٤٩٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن الجريري عن (ابن) (١) بريدة قال: استأذن رجل على رجل من أصحاب النبي ﷺ وهو قائم على (الباب) (٢) فقال: (أأدخل) (٣) ثلاث مرات، وهو ينظر إليه فلم يأذن له، (ثم قال) (٤) (له) (٥): السلام عليكم (أأدخل) (٦) فقال (٧): (ادخل) (٨) ثم قال: لو (قمت) (٩) إلى الليل (تقول) (١٠): (أأدخل) (١١) ما أذنت لك، حتى تبدأ بالسلام (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی صحابی سے اجازت مانگی اس حال میں کہ وہ دروازے پر کھڑے ہوئے تھے۔ اس شخص نے تین مرتبہ کہا۔ کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ آپ اس کی طرف دیکھ رہے تھے مگر س کو اجازت نہیں دی۔ پھر اس نے ان سے یوں پوچھا : السلام علیکم کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ آپ نے اس سے کہا : داخل ہو جاؤ ۔ پھر فرمایا : اگر تم پوری رات بھی کھڑے ہو کر کہتے رہتے کہ کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ تو میں تمہیں اجازت نہ دیتا یہاں تک کہ تم سلام سے ابتداء کرتے۔
حدیث نمبر: 27499
٢٧٤٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن صالح (القدادي) (١) قال: بعثني أهلي إلى سعيد بن جبير بهدية، فانتهيت إلى الباب وهو يتوضأ (فقلت) (٢): أدخل، فسكت ثلاثًا قال: قل: السلام عليكم، قال: فدخلت، فقال: لم أرك تهتدي إلى السنة فعلمتك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صالح القدادی فرماتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے مجھے حضرت سعید بن جبیر کے پاس ہدیہ دے کر بھیجا، میں ان کے دروازے پر پہنچا اس حال میں کہ وہ وضو فرما رہے تھے۔ میں نے کہا : کیا میں داخل ہو جاؤں ؟ پس وہ تین دفعہ خاموش رہے۔ فرمایا : یوں کہو : السلام علیکم۔ راوی کہتے ہیں، پھر میں داخل ہوگیا تو آپ نے فرمایا : میں نے تمہیں سنت کے راستہ پر چلتے ہوئے نہیں دیکھا لہٰذا میں نے تمہیں سنت سکھا دی۔
حدیث نمبر: 27500
٢٧٥٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن محمد بن المنكدر عن جابر قال: استأذنت (على) (١) النبي ﷺ فقال: " (من) (٢) هذا؟ " فقلت: أنا، فقال: النبي ﷺ: "أنا أنا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : یہ کون شخص ہے ؟ میں نے کہا : میں ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں میں ! میں میں کیا ہوتا ہے۔