کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جو گھر میں داخل ہو تو وہ یوں کہے
حدیث نمبر: 27484
٢٧٤٨٤ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر قال: (حدثنا) (١) (عمر) (٢) بن قيس عن عمرو بن أبي قرة (الكندي) (٣) قال: انطلق سلمان وأبي حتى (أتيا) (٤) دار سلمان، ودخل سلمان الدار فقال: السلام عليكم، ثم أذن لأبي قرة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ابی قرۃ الکندی فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان اور میرے والد چلے یہاں تک کہ یہ دونوں حضرت سلمان کے گھر پہنچے اور حضرت سلمان گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا : السلام علیکم ، پھر آپ نے ابو قرہ کو داخل ہونے کی اجازت دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27484
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27484، ترقيم محمد عوامة 26333)
حدیث نمبر: 27485
٢٧٤٨٥ - حدثنا ابن فضيل عن عبد الملك عن عطاء قال: إذا دخلت على أهلك فقل: السلام عليكم تحية من عند اللَّه مباركة طيبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے گھر والوں پر داخل ہو تو یوں کہو : السلام علیکم : ترجمہ : سلام نیک دعا ہے اللہ کے یہاں سے برکت والی ستھری۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27485
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27485، ترقيم محمد عوامة 26334)
حدیث نمبر: 27486
٢٧٤٨٦ - حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن أبي مالك الغفاري قال: إذا دخلت على أهلك فقل: السلام عليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مالک الغفاری نے ارشاد فرمایا : جب تو اپنے گھر والوں پر داخل ہو تو یوں کہہ، السلام علیکم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27486
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27486، ترقيم محمد عوامة 26335)
حدیث نمبر: 27487
٢٧٤٨٧ - حدثنا زيد بن الحباب عن أبي خلدة قال: دخلت مع أبي العالية بيته فسلم (وليس) (١) فيه أحد، وقال شيئًا لم أفهمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو خلدہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو العالیہ کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوا تو آپ نے سلام کیا حالانکہ گھر میں کوئی نہیں تھا اور کچھ کلمات پڑھے جن کو میں سمجھ نہیں سکا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27487
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27487، ترقيم محمد عوامة 26336)
حدیث نمبر: 27488
٢٧٤٨٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا ابن عون عن محمد في قوله تعالى: ﴿وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا (الْحُلُمَ) (١) مِنْكُمْ﴾ [النور: ٥٨]، قال: كان أهلونا (يعلمونا) (٢) أن نسلم، وكان أحدنا إذا جاء يقول: السلام عليكم، أيدخل (فلان) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ امام محمد نے اللہ رب العزت کے اس قول : { وَالَّذِینَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ } ترجمہ : اور تم میں سے وہ لوگ جو بلوغ کو پہنچ چکے ہیں۔ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا : کہ ہمارے گھر والے ہمیں سکھاتے تھے کہ ہم سلام کریں اور جب ہم میں کوئی آتا تو وہ یوں کہتا۔ السلام علیکم۔ کیا فلاں داخل ہوجائے ؟۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27488
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27488، ترقيم محمد عوامة 26337)
حدیث نمبر: 27489
٢٧٤٨٩ - حدثنا محمد بن عبد (اللَّه) (١) الأسدي قال: حدثنا معقل عن عبد الكريم قال: كان عمر بن عبد العزيز إذا دخل بيتًا قال: بسم اللَّه والحمد للَّه ولا قوة إلا باللَّه (والسلام) (٢) على نبي اللَّه، اللهم افتح لي أبواب رحمتك، وأدخلني مدخل صدق، وأخرجني نحرج صدق، واجعل لي من لدنك سلطانًا نصيرًا، وهب لي من لدنك رحمة، إنك أنت الوهاب، اللهم احفظني من فوقي أن (أختطف) (٣)، ومن تحت رجلي أن يخسف بي (٤)، وعن يميني وعن شمالي من الشيطان الرجيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز جب گھر میں داخل ہوتے تو یہ کلمات کہتے۔ ترجمہ : اللہ کے نام کے ساتھ داخل ہوتا ہیں۔ اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے مگر اللہ کی مدد سے، اور اللہ کے نیا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام ہو، اے اللہ ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور تو مجھے سچائی کی جگہ میں داخل فرما اور مجھے سچائی کی جگہ نکال اور خالص کر دے میرے لیے اپنی جناب سے واضح مدد اور اپنی طرف سے مجھے رحمت عطا فرما، بیشک تو بہت عطا فرمانے والا ہے۔ اے اللہ ! تو اوپر سے میری حفاظت فرما اس بات سے کہ میں اچک لیا جاؤں، اور میری دونوں ٹانگوں کے نیچے سے بھی میری حفاظت فرما اس بات سے کہ میں اس میں دھنس جاؤں، اور میرے دائیں اور بائیں سے بھی حفاظت فرما شیطان مردود سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27489
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27489، ترقيم محمد عوامة 26338)
حدیث نمبر: 27490
٢٧٤٩٠ - حدثنا بن نمير عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة قال: كان عبد اللَّه إذا دخل (داره) (١) استأنس وتكلم ثم رفع صوته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب اپنے گھر مں داخل ہوتے تو مانوس ہوتے اور بات کرتے پھر اپنی آواز کو بلند کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27490
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27490، ترقيم محمد عوامة 26339)