کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس سے یوں پوچھا جائے تو نے کیسے صبح کی؟
حدیث نمبر: 27469
٢٧٤٦٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عثمان الثقفي عن سالم بن أبي الجعد عن ابن (أبي عمرة) (١) قال: قيل: يا رسول اللَّه، كيف أصبحت؟ قال: "بخير من قوم لم يشهدوا جنازة ولم يعودوا مريضًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرہ فرماتے ہیں کہ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے کس حالت میں صبح کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خیریت کے ساتھ اس قوم میں جو جنازے میں حاضر نہیں ہوتے اور نہ ہی مریض کی عیادت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 27470
٢٧٤٧٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن عبد اللَّه بن مسلم عن عبد الرحمن بن سابط عن جابر قال: (قلت) (١): (كيف أصبحت، يا رسول اللَّه؟) (٢) قال: "بخير من رجل لم يصبح صائمًا (ولم) (٣) يعد سقيمًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے کس حالت میں صبح کی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خیر کے ساتھ اس آدمی سے بہتر جس نے صبح نہیں کی روزے دار کی حالت میں اور نہ کسی بیمار کی عیادت کی۔
حدیث نمبر: 27471
٢٧٤٧١ - حدثنا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن الأعمش عن خيثمة قال: (سألت) (٢) عائشة: كيف أصبحت؟ قالت: بنعمة (من) (٣) اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : آپ نے کس حال میں صبح کی ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی نعمتوں کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 27472
٢٧٤٧٢ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون قال: مررت بعامر الشعبي وهو ⦗٢٧٠⦘ جالس بفنائه فقلت: كيف أنت؟ فقال: (كان) (١) شريح إذا قيل له: كيف أنت؟ قال: بنعمة -ومد إصبعه (السبابة) (٢) إلى السماء-.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں حضرت عامر شعبی کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے تھے، تو میں نے پوچھا : آپ کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جب حضرت شریح سے پوچھا جاتا کہ آپ کیسے ہیں ؟ تو وہ فرماتے : اس کی نعمتوں میں ہوں، اپنی شہادت کی انگلی سے آسمان کی طر ف اشارہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 27473
٢٧٤٧٣ - حدثنا معاذ بن معاذ قال: أخبرنا ابن عون (١) قال: حدثني بكر قال: (قال) (٢): (قال) (٣) رجل (لأبي) (٤) تميمة (الهُجيمي) (٥): كيف أنتم؟ قال: بين نعمتين: بين ذنب مستور، وثناء لا يعلم به أحد من هؤلاء الناس، واللَّه ما بلغته، ولا أنا بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابو تمیمہ الہجیمی سے پوچھا : آپ کیسے ہیں ؟ ّآپ نے فرمایا : دو نعمتوں کے درمیان ہوں : ایک تو چھپے ہوئے گناہوں کے درمیان ہوں اور ایسی تعریف کے درمیان ہوں کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی اس کو نہیں جانتا اور اللہ کی قسم میں بھی اس تک نہیں پہنچا اور نہ میں اس قابل ہوں۔
حدیث نمبر: 27474
٢٧٤٧٤ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: سمعت إبراهيم وسلم عليه فقال: وعليكم فقال: كيف أنت؟ قال: بنعمة من اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم کو سلام کیا جاتا تو آپ یوں جواب دیتے وعلیکم اور جب ان سے پوچھا جاتا : آپ کیسے ہیں ؟ تو آپ جواب دیتے اللہ کی نعمت میں ہوں۔
حدیث نمبر: 27475
٢٧٤٧٥ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا إبراهيم بن حميد (عن) (١) إسماعيل ابن أبي خالد عن الشعبي أن رجلًا قال له: كيف أصبحت يا أبا عمرو؟ (فقال) (٢): بنعمة، قلت: ممن؟ قال: من اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے امام شعبی سے پوچھا : اے ابو عمرو ! آپ نے کس حالت میں صبح کی ؟ آپ نے فرمایا : نعمتوں میں۔ میں نے پوچھا : کس کی نعمت میں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی نعمتوں میں۔
حدیث نمبر: 27476
٢٧٤٧٦ - حدثنا جرير عن مغيرة قال: كان علي إذا سئل وهو مريض، كيف أنت؟ قال: بشر، وقرأ هذه الآية: ﴿وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾ [الأنبياء: ٣٥] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جب بیماری کی حالت میں پوچھا جاتا کہ آپ کیسے ہیں ؟ آپ فرماتے بہت بری حالت میں اور یہ آیت تلاوت فرماتے ۔ ترجمہ : اور ہم تمہیں آزمائیں گے خیر اور شر کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 27477
٢٧٤٧٧ - حدثنا ابن علية عن أيوب قال: لقي رجل عكرمة بالمدينة فقال: كيف أنت؟ قال: (أنا) (١) (بشر) (٢) يداي (متشققتان) (٣) وأنا كذا (و) (٤) كذا، قال: وكان يتأول هذه الآية: ﴿وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾ [الأنبياء: ٣٥].
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ حضرت عکرمہ سے مدینہ میں ملا، اور پوچھا : آپ کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بری حالت میں ہوں، میرے دونوں ہاتھ پھٹے ہوئے ہیں اور میں اس طرح اور اس طرح ہوں۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ اس آیت کی تاویل کرتے تھے۔ { وَنَبْلُوکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً وَإِلَیْنَا تُرْجَعُونَ }۔
حدیث نمبر: 27478
٢٧٤٧٨ - حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب أن أبا عبد الرحمن السلمي كان إذا قيل له: كيف أنت؟ قال: بخير (نحمد) (١) اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن مبارک فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبد الرحمن سلمی سے جب پوچھا جاتا : کہ آپ کیسے ہیں ؟ تو آپ فرماتے خیریت کے ساتھ اور ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو البختری کے سامنے یہ ذکر کیا تو آپ نے تین مرتبہ فرمایا : انہوں نے یہ طریقہ کہاں سے لیا ؟
حدیث نمبر: 27479
٢٧٤٧٩ - قال عطاء: فذكرت ذلك لأبي البختري فقال: (أنى) (١) أخذها ثلاثًا.
حدیث نمبر: 27480
٢٧٤٨٠ - حدثنا إسماعيل عن ابن عون قال: لقي رجل محمدًا فقال: كيف أنت؟ قال: بشر، أجوع فلا أستطيع أن (أشبع) (١)، وأعطش فلا أستطيع أن أروى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ ایک آدمی امام محمد سے ملا اور پوچھا : آپ کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بہت بری حالت میں ہوں۔ مجھے بھوک لگتی ہے اور میں اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ میں سیر ہو سکوں اور مجھے پیاس لگتی ہے اور میں طاقت نہیں رکھتا کہ میں پیاس بجھا لوں۔