کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو یوں کہے : کہ فلاں آدمی کو سلام کہہ دینا
حدیث نمبر: 27364
٢٧٣٦٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن أبي غفار عن أبي عثمان قال: جاء رجل إلى سلمان، فقال: إن فلانًا يقرئك السلام، فقال: مذ كم؟ فذكر أيامًا قال: أما لو لم تفعل لكانت أمانة (تؤديها) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت سلمان کے پاس آیا اور کہنے لگا : بیشک فلاں آدمی نے آپ کو سلام کیا ہے ۔ آپ نے پوچھا : کتنے دن پہلے ؟ اس نے دن ذکر کیے آپ نے فرمایا : اگر تم ایسا نہ کرتے تو یہ امانت تھی جس کا ادا کرنا تمہارے لیے ضروری تھا۔
حدیث نمبر: 27365
٢٧٣٦٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن عبد الأعلى عن ابن الحنفية في الرجل يقول: (اقرئ) (١) قلانًا السلام، (قال) (٢): هي أمانة إلا أن ينسى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن حنفیہ نے ایک آدمی کے بارے میں کہا کہ فلاں کو سلام کہہ دینا اور فرمایا : یہ امانت ہے مگر یہ کہ وہ شخص بھول جائے۔
حدیث نمبر: 27366
٢٧٣٦٦ - حدثنا ابن فضيل عن عاصم قال: قلت لأبي مجلز: قول الرجل للرجل: اقرئ فلانًا السلام ولا حرج، قال: هي أمانة، وإذا قال: أبلغ عنك، كان في سعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابومجلز سے پوچھا کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو یوں کہنا : کہ فلاں کو سلام کہہ دینا اور کوئی حرج نہیں ۔ آپ نے فرمایا : یہ امانت ہوگی اور جب یوں کہے۔ میں تمہاری طرف سے سلام پہنچا دوں ؟ آپ نے فرمایا : اس میں گنجائش ہوگی۔