کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو شخص مکروہ سمجھے سلام کے جواب میں السلام علیک کہنے کو، یہاں تک کہ علیکم کہا جائے
حدیث نمبر: 27355
٢٧٣٥٥ - حدثنا إسماعيل بن علية عن (الجلد) (١) بن أيوب عن معاوية بن قرة ⦗٢٣٩⦘ عن (أبيه) (٢) قال: أوصاني أبي قال: إذا لقيت رجلًا فلا تقل: السلام عليك، قل السلام عليكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے وصیت فرمائی کہ جب تم کسی آدمی سے ملاقات کرو تو اسے السلام علیک مت کہو، یوں کہو السلام علیکم۔
حدیث نمبر: 27356
٢٧٣٥٦ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان عن زياد (بن بيان) (١) عن ميمون بن مهران أن رجلًا سلم على أبي بكر فقال: السلام عليك يا خليفة رسول اللَّه (٢)، فقال أبو بكر: من بين هؤلاء أجمعين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر کو یوں سلام کیا۔ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ ! السلام علیک۔ اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا : ان سب کے درمیان صرف مجھے ؟ !
حدیث نمبر: 27357
٢٧٣٥٧ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن (الرؤاسي) (١) عن حسن بن صالح عن إبراهيم بن محمد (بن) (٢) المنتشر عن خالد بن (الصلت) (٣) قال: دخل ابن سيرين على (ابن) (٤) (هبيرة) (٥) فقال: السلام (عليكم) (٦)، فقال (ابن) (٧) هبيرة: ما هذا السلام؛ فقال: هكذا كان يُسلّم على رسول اللَّه ﷺ (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی الصلت فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین حضرت ابن ھبیرہ کے پاس تشریف لائے اور کہا : السلام علیکم، اس پر حضرت ابن ھبیرہ نے فرمایا : یہ سلام کا کون سا طریقہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 27358
٢٧٣٥٨ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن موسى بن عبيدة عن عمران بن أبي أنس عن مالك بن أوس بن الحدثان قال: قدم أبو ذر من الشام (فدخل) (١) المسجد وفيه عثمان، فقال: السلام عليكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو زر شام سے تشریف لائے تو مسجد میں داخل ہوئے، مسجد میں حضرت عثمان موجود تھے۔ آپ نے فرمایا : السلام علیکم۔
حدیث نمبر: 27359
٢٧٣٥٩ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا (حسن) (١) عن سلمة بن كهيل عن سعيد بن جبير (عن) (٢) ابن عباس قال: جاء (عمر) (٣) إلى باب النبي ﷺ فقال: السلام (عليك يا) (٤) رسول اللَّه السلام عليكم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر تشریف لائے اور فرمایا : رسول اللہ پر سلام ہو، السلام علیکم۔
حدیث نمبر: 27360
٢٧٣٦٠ - حدثنا يحيى بن آدم عن حسن عن مجالد قال: كان يسلم على عمر: السلام عليك يا أمير المؤمنين، السلام عليكم، يعني: على من عنده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ حضرت مجالد حضرت عمر کو یوں سلام کرتے تھے ۔ اے امیر المؤمنین ! السلام علیک، السلام علیکم، یعنی ان لوگوں پر بھی جو آپ کے پاس ہیں۔
حدیث نمبر: 27361
٢٧٣٦١ - حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون قال: كان محمد يكره أن يقول: السلام (عليك) (١)، حتى يقول: السلام عليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ امام محمد یوں کہنے کو مکروہ سمجھتے تھے : السلام علیک، یہاں تک کہ یوں کہا جائے۔ السلام علیکم۔
حدیث نمبر: 27362
٢٧٣٦٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: إذا سلم الرجل على الرجل وإن كان وحده، فليقل: السلام عليكم، -يعني (معه) (١) الملائكة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی آدمی کسی آدمی کو سلام کرے اگرچہ وہ اکیلا بھی ہو تو اس کو یوں کہے : السلام علیکم ، کیونکہ اس کے ساتھ ملائکہ بھی ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 27363
٢٧٣٦٣ - حدثنا أبو أسامة عن عبد المؤمن قال: سلمت على رجل يمشي مع مسلم بن يسار فقلت: السلام عليك، فقال لي مسلم: (مه) (١)، فقلت: (إني) (٢) عرفته، فقال: وإن إذا سلمت فقل السلام (عليكم) (٣)، فإن معه حفظة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد المومن فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو سلام کیا جو حضرت مسلم بن یسار کے ساتھ چل رہا تھا ۔ میں نے یوں کہا : السلام علیک، اس پر حضرت مسلم نے مجھ سے فرمایا : رک جاؤ۔ میں نے کہا : میں اس کو جانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : اگرچہ پہچانتے ہو ۔ جب تم سلام کرو تو یوں کہا کرو : السلام علیکم، اس لیے کہ اس شخص کے ساتھ نگران فرشتے بھی ہوتے ہیں۔