کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو کسی دوسرے آدمی کو سلام پہنچائے تو اس کو یوں کہا جائے
حدیث نمبر: 27350
٢٧٣٥٠ - حدثنا (أبو بكر قال) (١): حدثنا إسماعيل بن علية عن غالب قال: إنا لجلوس بباب الحسن إذ (جاء) (٢) رجل، (فقال) (٣): حدثني أبي عن جدي قال: بعثني أبي إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: (ائته) (٤) فأقرئه السلام، فأتيته فقلت: (إن) (٥) أبي (يقرئك) (٦) السلام، فقال: "وعليك وعلى أبيك السلام" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غالب فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حسن بصری کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : میرے والد نے میرے دادا سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : کہ میرے والد نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا : کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میرا سلام کہنا، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا میں نے کہا کہ میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہہ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : علیک و علی رضی اللہ عنہابیک السلام۔ تجھ پر اور تیرے والد پر سلام ہو۔
حدیث نمبر: 27351
٢٧٣٥١ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن محمد بن أبي المجالد عن ابن (أبي) (١) أوفى قال: قلت له: (إن) (٢) بني (أخيك) (٣) يقرؤنك السلام ثم أهل المسجد، قال: (و) (٤) عليك وعليهم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابو المخالد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفی سے عرض کیا : آپ کے بھتیجوں نے آپ کو سلام کہا ہے پھر مسجد والوں نے بھی۔ آپ نے جواب دیا۔ وَعَلَیْک وَعَلَیْہِمْ ۔
حدیث نمبر: 27352
٢٧٣٥٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن شعبة عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود قال: قال (لي) (١) عبد اللَّه: إذا لقيت عمر -أو كلمة نحوها- (فأقرئه) (٢) السلام، فلقيته فأقرأته (السلام) (٣) فقال: عليه - (أو وعليه) (٤) - السلام ورحمة اللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : جب تم حضرت عمر سے ملو تو ان کو سلام کہنا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب میں آپ سے ملا تو میں نے ان کو سلام کہا۔ آپ نے یوں جواب دیا۔ وعلیہ یا یوں جواب دیا، وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ۔
حدیث نمبر: 27353
٢٧٣٥٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن الشعبي عن أبي سلمة أن عائشة حدثته أن النبي ﷺ قال لها: "إن جبريل يقرأ عليك السلام" فقالت: وعليه السلام ورحمة اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : بیشک جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ آپ نے یوں جواب دیا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ۔
حدیث نمبر: 27354
٢٧٣٥٤ - حدثنا معاذ بن معاذ وأبو أسامة عن ابن عون قال: كان محمد (إذا قيل له) (١): (إن) (٢) فلانًا يقرئك السلام، قال: وعليك وعليه السلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ جب امام سے کہا جاتا کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام کہا ہے تو آپ یوں جواب دیتے، وعلیک وعلیہ السلام۔