کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے سلام کا جواب دے تو وہ کس طرح جواب دے؟
حدیث نمبر: 27336
٢٧٣٣٦ - حدثنا عبد اللَّه بن ادريس عن حصين عن هلال بن يساف عن زهرة ابن (حميضة) (١) قال: ردفت أبا بكر فكنا نمر بالقوم (فنسلم) (٢) عليهم فيردون علينا أكثر مما نسلم، (فقال) (٣) (٤) أبو بكر: ما زال (الناس غالبين) (٥) لنا منذ اليوم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہرہ بن حمیضہ فرماتے ہیں کہ میں سواری پر حضرت ابوبکر کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا کہ چند لوگوں پر ہمارا گزر ہوا تو ہم نے ان پر سلام کیا، تو انہوں نے ہمارے سلام کا جواب خوب بڑھا کردیا۔ اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا : کہ آج کے دن تو لوگ ثواب میں ہم پر غالب آ رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 27337
٢٧٣٣٧ - حدثنا غندر وأبو أسامة عن شعبة عن عبد الملك بن (ميسرة) (١) عن زيد بن وهب عن (عمر) (٢) قال: كنت (ردف أبي بكر) (٣) -فذكر مثله-، ثم قال: لقد فضلنا (الناسُ) (٤) اليوم بخير كثيرًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : میں حضرت ابوبکر کے پیچھے سواری پر سوار تھا، پھر انہوں نے مذکورہ حدیث ذکر کی ، اور فرمایا : کہ لوگ آج ثواب میں ہم سے آگے بڑھ گئے۔
حدیث نمبر: 27338
٢٧٣٣٨ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البختري قال: جاء رجل (إلى علي فقال: السلام عليك يا أمير المؤمنين ورحمة اللَّه وبركاته، فقال: وعليكم) (١)، فظن أنه لم يسمع فقال: السلام (عليك) (٢) يا أمير ⦗٢٣٤⦘ المؤمنين ورحمة اللَّه وبركاته، فقال: وعليكم، (فقال) (٣): ألا ترد علي (كما) (٤) أقول لك؟ قال: أليس قد فعلت؟ (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو البختری فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا : اے امیر المؤمنین : السلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے فرمایا : وعلیکم ، وہ آدمی سمجھا کہ آپ نے سنا نہیں۔ اس نے پھر کہا : اے امیرالمؤمنین ! السلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے فرمایا : وعلیکم، اس آدمی نے کہا : آپ مجھے ویسے جواب کیوں نہیں دے رہے جیسا کہ میں نے آپ کو کہا ؟ آپ نے فرمایا : کیا میں نے ایسا نہیں کیا ؟
حدیث نمبر: 27339
٢٧٣٣٩ - حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه بن عمر قال: حدثني سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة أن رجلا دخل المسجد ورسول اللَّه ﷺ جالس في ناحية المسجد، (فصلى) (١) ثم جاء فسلم عليه (فقال) (٢): (و) (٣) عليك السلام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کے کونے میں بیٹھے ہوئے تھے، اس آدمی نے نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وعلیک السلام، تجھ پر بھی سلام ہو۔
حدیث نمبر: 27340
٢٧٣٤٠ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن (عن) (١) موسى بن عبيدة عن عمران بن أبي أنس عن مالك بن أوس بن الحدثان قال: قدم أبو ذر من الشام فدخل المسجد (وفيه) (٢) عثمان فقال: السلام عليكم، فقال: وعليكم السلام، كيف أنت يا أبا أبا ذر؟ قال: بخير، كيف أنت يا عثمان؟ (قال: بخير) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن اوس بن حمد ثان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر شام سے واپس آئے اور مسجد میں داخل ہوگئے۔ اس حال میں کہ حضرت عثمان بھی مسجد میں تھے۔ آپ نے فرمایا : السلام علیکم، انہوں نے جواب دیا : وعلیکم السلام، اے ابو ذر، کیسے ہو تم ؟ انہوں نے فرمایا : خیریت سے ہوں، تم کیسے ہو ؟ اے عثمان ! آپ نے جواب میں کہا، میں بھی خیریت سے ہوں۔
حدیث نمبر: 27341
٢٧٣٤١ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر عن ميمون أن رجلًا سلم على ⦗٢٣٥⦘ سلمان الفارسي فقال: السلام (عليكم) (١) ورحمة اللَّه (تعالى) (٢) وبركاته، فقال سلمان: حسبك (حسبك) (٣)، ثم رد (عليه) (٤) الذي قال، ثم (زاد) (٥) أخرى فقال له الرجل: (أتعرفني) (٦) يا أبا عبد اللَّه؟ فقال: أما روحي فقد (عرف) (٧) روحك (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سلمان فارسی کو سلام کیا اور کہا : السلام علیک و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، حضرت سلمان نے کہا، کافی ہے کافی ہے، پھر آپ نے ویسے ہی اس کو جواب دیا جیسا کہ اس شخص نے سلام کیا تھا، پھر چند اور کلمات کا اضافہ فرمایا : اس پر اس شخص نے آپ سے پوچھا : اے ابو عبد اللہ ! کیا آپ مجھے جانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میری روح تمہاری روح کو جانتی ہے۔
حدیث نمبر: 27342
٢٧٣٤٢ - حدثنا ابن نمير عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر أنه كان يرد السلام كما يقال له: السلام عليكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ویسے ہی سلام کا جواب دیتے تھے جیسے ان کو سلام کہا جاتا تھا، مثلاً السلام علیکم۔
حدیث نمبر: 27343
٢٧٣٤٣ - حدثنا ابن علية عن (الجلد) (١) بن أيوب عن معاوية بن قرة قال: أوصاني أبي قال: إذا سلم عليك، فلا تقل: وعليك، قل: وعليكم، (فإن) (٢) (معه) (٣) ملائكة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے وصیت فرمائی کہ جب تمہیں سلام کیا جائے تو جواب میں وعلیک مت کہہ۔ بلکہ وعلیکم۔ کہو۔ اس لیے کہ اس شخص کے ساتھ فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 27344
٢٧٣٤٤ - حدثنا ابن علية عن (أبي) (١) (حيان) (٢) عن عبد الرحمن (٣) (الرحال) (٤) قال: كان الربيع بن خثيم إذا رد السلام يقول: وعليكم -يعني ينوي الرد على ما سلم عليه-.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن الرحال فرماتے ہیں کہ حضرت ربیع بن خثیم جب سلام کا جواب دیتے تو یوں کہتے : وعلیکم اور سلام کرنے والے پر جواب کی نیت کرلیتے۔
حدیث نمبر: 27345
٢٧٣٤٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق أن شريحًا إذا رد قال: وعليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت شریح جب سلام کا جوا ب دیتے تو یوں کہتے : وعلیکم : یعنی تم پر بھی ہو۔
حدیث نمبر: 27346
٢٧٣٤٦ - [(حدثنا) (١) أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب أنه كان إذا سُلّم عليه، قال: وعليكم السلام ورحمة اللَّه وبركاته ومغفرته] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن وھب کو جب سلام کیا جاتا تو آپ یوں جواب دیتے ۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ و مغفرتہ۔
حدیث نمبر: 27347
٢٧٣٤٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: إذا رد الرجل فليقل: وعليكم -يعني معه الملائكة-.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی آدمی سلام کا جواب دے تو اس کو چاہیے کہ وہ جمع کا صیغہ استعمال کرے اور یوں کہے وعلیکم، اس لے ب کہ آدمی کے ساتھ فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 27348
٢٧٣٤٨ - حدثنا وكيع عن إسماعيل وابن عون (عن إبراهيم) (١) أنه كان إذا رد قال: وعليكم ورحمة اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل اور حضرت ابن عون یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ابراہیم جب سلام کا جواب دیتے تو یوں کہتے، وعلیکم ورحمۃ اللہ۔
حدیث نمبر: 27349
٢٧٣٤٩ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون قال: كان محمد إذا رد قال: وعليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ امام محمد جب سلام کا جواب دیتے تو یوں کہتے : وعلیکم۔