کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو دوسرے آدمی کے پاس اجازت لینے سے قبل ہی بیٹھ جائے
٢٧٣٢٣ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن أبي بردة قال: دخلت مسجد المدينة فإذا عبد اللَّه بن سلام، فسلمت ثم جلست، فقال: يا ابن أخي إنك جلست (إلينا) (١) ونحن نريد القيام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی مسجد میں داخل ہوا تو حضرت عبد اللہ بن سلام بیٹھے ہوئے تھے، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا۔ اس پر آپ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم بیٹھ گئے اور ہمارا تو اٹھنے کا ارادہ ہے۔
٢٧٣٢٤ - حدثنا ابن علية عن أشعث قال: حدثني رجل أن رجلًا جلس إلى الحسن فقال له: جلست (إلينا) (١) على حين قيام منا أفتأذن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص حسن کے پاس بیٹھ گیا، تو آپ نے اس سے کہا : تم ہمارے اٹھنے کے وقت ہمارے پاس بیٹھ گئے ہو، تمہاری طرف سے اجازت ہے ! اٹھنے کی ؟
٢٧٣٢٥ - (حدثنا) (١) وكيع عن عمران عن أبي مجلز قال: إذا جلس إليك رجل متعمدًا فلا تقم حتى (تستأذنه) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص قصداً تمہارے پاس بیٹھے تو تم اس سے اجازت لینے سے پہلے مت اٹھو۔
٢٧٣٢٦ - حدثنا وكيع عن أبيه عن رجل عن إبراهيم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مذکورہ ارشاد اسی سند سے منقول ہے۔
٢٧٣٢٧ - حدثنا عباد بن العوام عن أبي حنيفة عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أنس بن مالك قال: ما جلس إلى رسول اللَّه ﷺ أحد (قط) (١) فقام حتى يقوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی بھی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں بیٹھا یہاں تک کہ وہ کھڑا ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے ۔
٢٧٣٢٨ - حدثنا أزهر عن ابن عون عن محمد قال: كان لا يرى بأسًا إذا جلس الرجل إلى الرجل أن يقوم ولا يستأذنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ محمد اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ جب کوئی آدمی کسی آدمی کے پاس بیٹھے تو وہ بغیر اجازت کے کھڑا ہوجائے ۔
٢٧٣٢٩ - حدثنا وكيع عن موسى بن نافع قال: قعدت إلى سعيد بن جبير فلما أراد أن يقوم قال: أتاذنون؟ إنكم جلستم إلي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن نافع فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب آپ نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو فرمایا : تم لوگ میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو، کیا تمہاری اجازت ہے ؟