کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جس کو مجلس اختیار کرنے اور دخل دینے کا حکم دیا گیاہو
حدیث نمبر: 27243
٢٧٢٤٣ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا زكريا بن أبي زائدة قال: حدثني علي بن الأقمر أن أبا جحيفة كان يقول: جالسوا (الكبراء) (١)، وخالطوا الحكماء، وسائلوا العلماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن اقمر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جحیفہ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ تم بڑے لوگوں کی مجلس اختیار کرو، اور عقل مندوں سے ملا کرو، اور علماء سے سوال کیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27243
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27243، ترقيم محمد عوامة 26102)
حدیث نمبر: 27244
٢٧٢٤٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن أبي جعفر (الخطمي) (١) أن جده -وهو عمير بن حبيب- أوصى بنيه فقال: يا بني! إياكم ومجالسة السفهاء فإن مجالستهم داء، إنه من يحلم عن السفيه يُسرُّ (بحلمه) (٢) ومن يجبه يندم، ومن لا يقر بقليل ما يجيء به السفيه يقر (بالكثير) (٣)، وإذا أراد أحدكم أن يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر فليوطن نفسه على الصبر على الأذى، فإنه من يصبر لا يجد للأذى مسًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر الخطمی فرماتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عمیر بن حبیب نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی : کہ اے میرے بیٹھے ! تم بیوقوفوں کی صحبت اختیار کرنے سے بچو پس بیشک ان کی صحبت تو بیماری ہے، اور جو شخص بیوقوف سے درگزر کرتا ہے تو اس کی درگزر کی وجہ سے اس کو خوشی ملتی ہے اور جو بیوقوف سے محبت کرتا ہے تو وہ شرمندہ ہوتا ہے، اور جو شخص بیوقوف کی تھوڑی بات سے بھی آنکھ ٹھنڈی نہیں کرتا تو اس کی آنکھ کثرت سے ٹھنڈی ہوتی ہے ، اور تم میں کوئی ارادہ کرے نیکی کے حکم کرنے کا اور برائی سے روکنے کا تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو تکلیف پر صبر کرنے کا عادی بنادے ۔ اس لیے کہ جو شخص صبر کرتا ہے تو اس کو تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27244
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27244، ترقيم محمد عوامة 26103)
حدیث نمبر: 27245
٢٧٢٤٥ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة قال: قال أبو الدرداء: أن من فقه (الرجل) (١) ممشاه ومدخله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے ارشاد فرمایا : بیشک آدمی کا چلنا اور اس کی مجلس کا تعلق اس کی سمجھ داری سے ہے۔ ابو قلابہ نے نصیحت کے انداز میں فرمایا : اللہ شاعر کو ہلاک کرے کہ اس نے یوں کہا : آدمی کے بارے میں کسی سے مت پوچھ بلکہ اس کے ساتھیوں کو دیکھ… ہر ساتھی اپنے ساتھیوں کے ذریعہ ہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے…
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27245
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27245، ترقيم محمد عوامة 26104)
حدیث نمبر: 27246
٢٧٢٤٦ - قال أبو (قلابة) (١): قاتل اللَّه الشاعر حيث يقول: عن المرء لا تسأل (وأبصر) (٢) عن قرينه … وكل قرين بالمقارن مهتدي.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27246
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27246، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 27247
٢٧٢٤٧ - حدثنا وكيع عن سفيان (عن أبي إسحاق) (١) عن مرة أو هبيرة قال: قال عبد اللَّه: اعتبروا (الناس) (٢) (بأخدانهم) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ یا حضرت ابن ھبیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : لوگوں کے دوستوں کے ذریعے ان کا اعتبار کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27247
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هبيرة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27247، ترقيم محمد عوامة 26105)