کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کسی آدمی کو برا بھلا کہنے اور اس کی غیبت سے رکنے کا بیان
حدیث نمبر: 27187
٢٧١٨٧ - حدثنا وكيع عن شعبة عن يحيى بن الحصين عن طارق بن شهاب قال: كان بين خالد بن الوليد وبين سعد كلام، قال: فتناول رجل خالدًا عند سعد، قال: (فقال) (١) سعد: مه، فإن ما بيننا لم يبلغ ديننا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شھاب فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت سعد کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوئی ، تو ایک آدمی حضرت سعد کے پاس حضرت خالد کو بُرا بھلا کہنے لگا، حضرت سعد نے فرمایا : رک جاؤ، بیشک جو لڑائی ہمارے درمیان ہے وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچتی !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27187
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27187، ترقيم محمد عوامة 26048)
حدیث نمبر: 27188
٢٧١٨٨ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن زيد بن (صوحان) (١) قال: قال عمر: ما يمنعكم إذا رأيتم الرجل (يخرق) (٢) أعراض الناس لا (تغيروا) (٣) عليه؟ قالوا: نتقي لسانه، قال: (ذاك) (٤) أدنى أن تكونوا شهداء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن صوحان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : تمہیں کس چیز نے روک دیا کہ جب تم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی عزتیں خراب کر رہا ہے اور تمہیں اس پر غیرت تک نہیں آئی ، لوگوں نے عرض کیا : ہم تو اس کی زبان سے بچتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : یہ تو اور بھی گھٹیا بات ہے کہ تم گواہ بن رہے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27188
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27188، ترقيم محمد عوامة 26049)
حدیث نمبر: 27189
٢٧١٨٩ - حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس أن عمرو بن العاص مر على بغل ميت فقال لأصحابه: (لأن) (١) يأكل أحدكم من هذا حتى (يملأ) (٢) بطنه خير من أن يأكل لحم أخيه المسلم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص ایک مردار خچر کے پاس سے گزرے تو اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک اس کو کھائے یہاں تک کہ اس کا پیٹ بھر جائے یہ بہت بہتر ہے اس بات سے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا گوشت کھائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27189
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27189، ترقيم محمد عوامة 26050)
حدیث نمبر: 27190
٢٧١٩٠ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثنا عبد الرحمن بن إبراهيم قال: حدثنا العلاء عن أبيه عن أبي هريرة عن رسول اللَّه ﷺ أنه (قيل) (٢) (له) (٣): ما الغيبة يا رسول اللَّه؟ قال: [" (ذكرك) (٤) أخاك بما يكره" قال: أفرأيت إن كان في أخي ما أقول يا رسول اللَّه؟ قال] (٥): "إن كان في أخيك ما تقول فقد اغتبته، وإن لم يكن فيه ما تقول فقد بهته" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! غیبت کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہ تو اپنے بھائی کی وہ بات ذکر کرے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، آپ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اگر وہ بات میرے بھائی میں موجود ہو تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم جو بات کرتے ہو اگر وہ تمہارے بھائی میں موجود ہے تو تحقیق تم نے اس کی غیبت بیان کی اور جو بات تم کرتے ہو اگر وہ تمہارے بھائی میں موجود نہیں ہے تو تحقیق تم نے اس پر بہتان باندھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27190
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ العلاء صدوق، أخرجه مسلم (٢٥٨٩)، وأحمد (٨٩٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27190، ترقيم محمد عوامة 26051)
حدیث نمبر: 27191
٢٧١٩١ - حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن (الحكم عن) (١) ابن (لأبي) (٢) الدرداء أن رجلا وقع في رجل فرد عنه آخر، فقال أبو الدرداء: سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (٣): "من (ذب) (٤) عن عرض أخيه كان له حجابا من النار" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء کے ایک بیٹے نے ارشاد فرمایا : کہ ایک آدمی نے کسی آدمی کی غیبت بیان کی تو دوسرے آدمی نے اس کو روک دیا۔ اس پر حضرت ابو الدرداء نے ارشاد فرمایا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرے گا تو یہ اس کے لیے جہنم سے آڑ بن جائے گی ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27191
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لسوء حفظ ابن أبي ليلى، أخرجه أحمد (٢٧٥٤٣)، والترمذي (١٩٣١)، وعبد بن حميد (٢٠٦)، والبيهقي (٨/ ١٦٨)، والدولابي (١/ ٢٤)، وابن أبي الدنيا في الصمت (٢٣٩)، وأبو نعيم في الحلية (٧/ ٢٥٧)، والطبراني في مكارم الأخلاق (١٣٤)، والبغوي (٣٥٢٨)، وابن السني (٤٢٩)، والعرياني (٢٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27191، ترقيم محمد عوامة 26052)
حدیث نمبر: 27192
٢٧١٩٢ - حدثنا وكيع عن مسعر عن ابن عون قال: وقع رجل (في رجل) (١) فرد عليه آخر (فقالت) (٢) أم الدرداء: لقد غبطتك، إنه من ذب عن عرض أخيه وقاه اللَّه، - (قال: مسعر) (٣) - نفح أو لفح النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی آدمی کی غیبت بیان کی تو دوسرے آدمی نے اس کی بات واپس لوٹا دی۔ اس پر حضرت ام الدرداء نے ارشاد فرمایا : تحقیق مجھے تجھ پر رشک ہے۔ اس لیے کہ جو شخص اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم کی ہوا کے جھونکے سے یا جہنم کی جلا دینی والی آگ سے محفوظ فرمائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27192
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27192، ترقيم محمد عوامة 26053)
حدیث نمبر: 27193
٢٧١٩٣ - حدثنا شريك عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: إذا قلت ما في الرجل فلم تزكه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب تم نے وہ بات بیان کی جو آدمی میں موجود ہو تو تم نے اس کی پاکی بیان نہیں کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27193
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27193، ترقيم محمد عوامة 26054)
حدیث نمبر: 27194
٢٧١٩٤ - حدثنا ابن عيينة عن زياد بن علاقة عن أسامة (بن) (١) شريك قال: شهدت الأعراب يسألون (٢) رسول اللَّه ﷺ: علينا حرج في كذا وكذا؟ فقال: "عباد اللَّه! وضع اللَّه الحرج إلا من (اقترض) (٣) من عرض أخيه شيئًا، (فذلك) (٤) الذي حرج" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن شریک نے ارشاد فرمایا : میں حاضر تھا کہ بدؤں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا : کہ اس طرح اور اس طرح کرنے میں ہم پر گناہ ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! اللہ کے بندو ! اللہ نے گناہ ہٹا دیا ہے مگر جو کوئی شخص اپنے بھائی کی غیبت کرتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27194
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٤٥٤)، وأبو داود (٢٠١٥)، وابن ماجه (٣٤٣٦)، والبخاري في الأدب (٢٩١)، والبيهقي في الأدب (٨٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27194، ترقيم محمد عوامة 26055)
حدیث نمبر: 27195
٢٧١٩٥ - حدثنا أبو داود عن شعبة عن معاوية بن قرة قال: لو رأيت أقطع فذكرته، فقلت: الأقطع كانت غيبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن قرہ نے ارشاد فرمایا : اگر تو کسی ہاتھ کٹے کو دیکھے پھر تو نے اس کا یوں ذکر فرمایا : کہ ہاتھ کٹا تو یہ بھی غیبت ہوگی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت ابو اسحاق کے سامنے ذکر کی ، تو آپ نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27195
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27195، ترقيم محمد عوامة 26056)
حدیث نمبر: 27196
٢٧١٩٦ - قال: فذكرتُه لأبي إسحاق فقال: صدق.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27196
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27196، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 27197
٢٧١٩٧ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن عبد اللَّه بن بكر عن أبيه (قال) (١) أبو موسى الأشعري: (لو) (٢) رأيتُ رجلا (يرضع) (٣) شاة في الطريق فسخرتُ منه خفتُ أن لا أموت حتى (أرضعها) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن بکر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے ارشاد فرمایا : اگر میں کسی آدمی کو دیکھوں کہ وہ راستہ میں بکری کا دودھ پی رہا ہے اور پھر اس کا مذاق بناؤں ، تو مجھے خوف ہے کہ مجھے موت نہیں آئے گی یہاں تک کہ میں بھی راستہ میں بکری کا دودھ پیوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27197
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن بكر صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27197، ترقيم محمد عوامة 26057)
حدیث نمبر: 27198
٢٧١٩٨ - حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: أخبرنا حسن عن عطاء (بن) (١) السائب عن الشعبي عن ابن مسعود قال: إذا قلت ما هو فيه وهو (لا) (٢) يسمع فقد اغتبته، وإذا قلت ما ليس فيه فقد بهته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے بھائی کے بارے میں وہ بات کرتے ہو جو اس میں موجود ہے اور وہ اس کو نہیں سن رہا تو تحقیق تم نے اس کی غیبت کی، اور جب تم نے وہ بات کی جو اس میں موجود نہیں تو تحقیق تم نے اس پر بہتان باندھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27198
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27198، ترقيم محمد عوامة 26058)
حدیث نمبر: 27199
٢٧١٩٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: لو سخرت من كلب لخشيت أن (أكون) (١) كلبًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر میں کسی کتے کا مذاق اڑاؤں تو مجھے خوف ہے کہ میں بھی کتا نہ بن جاؤں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27199
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27199، ترقيم محمد عوامة 26059)
حدیث نمبر: 27200
٢٧٢٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: البلاء موكل بالقول (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مصیبتیں تو باتوں کی وجہ سے مسلط ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27200
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27200، ترقيم محمد عوامة 26060)
حدیث نمبر: 27201
٢٧٢٠١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن إبراهيم) (١) عن أبي الضحى عن مسروق قال: إذا قلت ما فيه فقد اغتبته، (وإن) (٢) قلت ما ليس فيه فقد بهته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوا لضحیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق نے ارشاد فرمایا : جب تم نے ایسی بات کہی جو اس شخص میں موجود تھی تو تحقیق تم نے اس کی غیبت بیان کی اور جب تم نے ایسی بات کہی جو اس شخص میں موجود نہیں تھی تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27201
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27201، ترقيم محمد عوامة 26061)
حدیث نمبر: 27202
٢٧٢٠٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن الحارث قال: كنت (آخذا) (١) بيد إبراهيم ونحن نريد المسجد، قال: فذكرت رجلًا فاغتبته، قال: فقال (لي) (٢) إبراهيم: ارجع فتوضأ، كانوا يعدون هذا هُجرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عجلان فرماتے ہیں کہ حضرت حارث نے ارشاد فرمایا : کہ میں ابراہیم کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا اور ہم دونوں کا مسجد جانے کا ارادہ تھا اتنے میں میں نے ایک آدمی کا ذکر کیا اور اس کی غیبت کی تو ابراہیم نے مجھ سے فرمایا : واپس جاؤ اور وضو کرو ، صحابہ اس کو فحش گوئی شمار کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27202
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27202، ترقيم محمد عوامة 26062)