کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو کسی آدمی سے کوئی چیز لے تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے دکھا دے
حدیث نمبر: 27183
٢٧١٨٣ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن أبي هبيرة يحيى بن عباد قال: المسلم مرآة أخيه فإذا أخذ عنه شيئا فليره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہبیرہ یحییٰ بن عباد نے ارشاد فرمایا : مسلمان اپنے بھائی کا آئینہ ہے جب وہ اس سے کوئی چیز لے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کو بھی دکھلا دے۔
حدیث نمبر: 27184
٢٧١٨٤ - حدثنا عباد بن العوام عن غالب قال: سألت الحسن (أو) (١) سأله رجل عن الرجل يأخذ عن الرجل الشيء فيقول: (لا يكن) (٢) بك السوء، أو صرف عنك السوء، قال: فقال: (يقول) (٣): (لا يكن) (٤) بك السوء، فإنه (إلا) (٥) يكن (به) (٦) خير من أن يكون به ثم يُصرف.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی دوسرے سے کوئی چیز لے اور اسے کہے کہ تیرے پاس کوئی برائی نہ رہے یا برائی تجھ سے دور کردی جائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ کہے ک ہ تیرے پاس برائی نہ رہے۔
حدیث نمبر: 27185
٢٧١٨٥ - حدثنا عبد الأعلى عن برد عن سليمان بن موسى قال: قال عمر: إذا أخذ أحدكم عن أخيه شيئا فليره (إياه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن موسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی سے کوئی چیز لے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو بھی دکھلا دے۔
حدیث نمبر: 27186
٢٧١٨٦ - حدثنا عيسى بن يونس عن يحيى بن عبيد اللَّه التيمي قال: سمعت أبي يقولى: سمعت أبا هريرة يقول: قال رسول اللَّه ﷺ: "أحدكم مرآة أخيه، فإذا رأى أذى (١) فليمطه عنه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے، پس جب وہ کوئی تکلیف دہ چیز دیکھے تو اس کو اس سے دور کر دے۔