حدیث نمبر: 27179
٢٧١٧٩ - حدثنا أبو أسامة عن المجالد قال: أخبرني عامر عن ابن عباس قال: قال العباس لابنه عبد اللَّه (١): يا بني! إني أرى أمير المؤمنين يقربك (ويستشيرك) (٢) مِع أناس من أصحاب رسول اللَّه ﷺ ويخلو بك، (فاحفظ) (٣) عني ثلاثًا: ⦗١٩٠⦘ اتق (٤) (لا يجربنّ) (٥) عليك كذبة، ولا تفشين له سرًا، ولا (تغتابنّ) (٦) عنده أحدًا، قال: فقلت لابن عباس: يا أبا عباس! كل واحدة منهن خير من (ألف) (٧) قال: ومن عشرة آلاف (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عباس نے مجھ سے کہا : اے میرے بیٹے ! میں امیر المؤمنین کو دیکھتا ہوں کہ وہ تجھے اپنے قریب کرتے ہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ تجھ سے بھی مشورہ طلب کرتے ہیں اور تیرے ساتھ خلوت کرتے ہیں پس تو میری طرف سے تین باتیں محفوظ کرلے۔ تم بچو اس بات سے کہ وہ تم پر جھوٹ کو آزمائیں اور تم ہرگز کبھی بھی ان کے راز کو فاش مت کرنا اور ان کے سامنے کبھی کسی کی غیبت مت کرنا۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ان میں سے ہر ایک ایک ہزار سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا : بلکہ دس ہزار سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 27180
٢٧١٨٠ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن ابن عجلان عن إبراهيم بن مرة عن محمد بن شهاب قال: قال عمر: لا تعترض فيما لا يعنيك، واعتزل عسدوك، واحتفظ من (خليلك) (١) إلا (الأمين) (٢)، فإن (الأمين) (٣) (٤) يعادله شيء، ولا (تصحب) (٥) الفاجر فيعلمك من فجوره، ولا تفش إليه (بسرك) (٦)، واستشر في أمرك الذين يخشون اللَّه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن شھاب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا؛ اس کام کے پیچھے مت پڑو جو تمہیں فائدہ نہ پہنچائے اور اپنے دشمن سے بچو اور اپنے دوست سے بچو سوائے امانت دار شخص کے۔ اس لیے کہ قوم میں سے امانت دار شخص کی برابری کوئی چیز نہیں کرسکتی اور بدکار کی صحبت اختیار مت کرو۔ اس لیے کہ وہ اپنی بدکاری میں سے تمہیں بھی سکھلا دے گا اور اس کے سامنے اپنے کسی راز کو فاش مت کرو اور اپنے معاملہ میں ان لوگوں سے مشورہ مانگو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 27181
٢٧١٨١ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة قال: (لا) (١) تحدث بالحديث من لا يعرفه، (فإن من لا يعرفه يضره) (٢) ولا ينفعه.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کو اپنی بات مت بتاؤ، جو اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اس لیے کہ جو اس معاملہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا وہ نقصان پہنچائے گا، اور کم ازکم کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچائے گا۔
حدیث نمبر: 27182
٢٧١٨٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا حميد الطويل عن أنس قال: كنت مع الغلمان فمر علينا النبي ﷺ (١) فسلم (علينا) (٢)، ثم بعثني في حاجة وجلس في جدار أو في ظل حتى أتيته فأبلغته حاجته، فلما أتيت أم سليم قالت: ما حبسك اليوم؟ قلت: (بعثني) (٣) النبي ﷺ (في حاجة) (٤)، قالت: ما هي؟ قلت: إنها سر قالت: فاحفظ سر رسول اللَّه ﷺ (قال) (٥): فما حدثت بها أحدا (قط) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا اور دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے یہاں تک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کام کے بارے میں بتلایا۔ پھر جب میں حضرت ام سلیم کے پاس آیا تو انہوں نے کہا : آج کس بات نے تمہیں روکے رکھا ؟ میں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام بھیج دیا تھا۔ انہوں نے پوچھا : کیا کام تھا ؟ میں نے کہا : بیشک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز ہے۔ آپ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے کسی کو بھی اس کے بارے میں نہیں بتلایا۔