کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو اس طریقہ سے بیٹھے کہ اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ لے
حدیث نمبر: 27155
٢٧١٥٥ - (حدثنا) (١) ابن عيينة عن الزهري عن عباد بن تميم عن عمه (قال) (٢): (رأيت) (٣) النبي ﷺ مستلقيًا في (المسجد) (٤) قد وضع إحدى رجليه على الأخرى (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عباد کے چچا حضرت عبد اللہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 27156
٢٧١٥٦ - حدثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن عجلان عن يحيى بن عبد اللَّه بن مالك عن أبيه قال: دخل على عمر (أو رئي) (١) مستلقيا واضعا إحدى رجليه على الأخرى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مالک فرماتے ہیں کہ وہ حضرت عمر کے پاس آئے یا آپ کو چت لیٹے ہوئے دیکھا گیا اس حال میں کہ آپ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 27157
٢٧١٥٧ - [حدثنا (مروان) (١) بن معاوية عن سفيان بن حسين عن الزهري عن عمر بن عبد العزيز عن عبد اللَّه بن عبد اللَّه بن الحارث أنه رأى أسامة بن زيد جالسًا واضعا إحدى رجليه على الأخرى] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید کو دیکھا اس حال میں کہ وہ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے۔
حدیث نمبر: 27158
٢٧١٥٨ - حدثنا وكيع عن أسامة عن نافع قال: كان ابن عمر (يضطجع) (١) فيضع إحدى رجليه على الأخرى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما لیٹ جاتے پھر اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھ لیتے۔
حدیث نمبر: 27159
٢٧١٥٩ - حدثنا أبو أسامة (عن أسامة) (١) عن نافع قال: (كان) (٢) (ابن) (٣) عمر يستلقي على قفاه ويضع إحدى رجليه على الأخرى، (لا) (٤) يرى بذلك بأسًا، ويفعله وهو جالس لا يرى بذلك بأسًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما گُدّی پر چیت لیٹ جاتے اور اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھ لیتے اور وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، اور وہ اس حال میں بیٹھتے بھی تھے اور اس طرح بیٹھنے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 27160
٢٧١٦٠ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عكرمة قال: إنما ينهى عن ذلك أهلُ الكتاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : بیشک اہل کتاب اس طرح بیٹھنے سے منع کرتے تھے اور حضرت عامر اور حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 27161
٢٧١٦١ - وقال عامر ومحمد بن علي: لا بأس (به) (١).
حدیث نمبر: 27162
٢٧١٦٢ - حدثنا وكيع عن ابن (الغسيل) (١) قال: حدثني عمرو بن أبي عمرو أن بلالا فعله: وضع إحدى رجليه على الأخرى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن ابی عمرو فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نے ایسا کیا کہ اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھ لیا۔
حدیث نمبر: 27163
٢٧١٦٣ - حدثنا وكيع عن عبد العزيز الماجشون عن الزهري عن سعيد بن المسيب أن عمر وعثمان كانا يفعلانه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان دونوں حضرات اس طریقہ سے بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 27164
٢٧١٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عبد الرحمن ابن الأسود عن عمه قال: رأيت ابن مسعود في الأراك مستلقيا واضعا إحدى رجليه على الأخرى وهو يقول: ﴿لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ﴾ [يونس: ٨٥] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن اسود کے چچا فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پیلو کے درخت کے نیچے گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا کہ آپ اپنی ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھے ہوئے تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے۔ (اے ہمارے رب ہمیں ظالم قوم کے لیے فتنہ نہ بنا) ۔
حدیث نمبر: 27165
٢٧١٦٥ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (عمران) (١) -يعني بن مسلم- قال: رأيت أنسًا واضعًا إحدى رجليه على الأخرى (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو دیکھا اس حال میں کہ انہوں نے اپنی ایک ٹانگ کو دوسری پر رکھا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 27166
٢٧١٦٦ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن الحكم قال: سألت أبا مجلز عن الرجل يجلس (ويضع) (١) إحدى رجليه على الأخرى (فقال: لا) (٢) بأس به، إنما هو شيء كرهته اليهود، قالوا: إنه خلق السماوات والأرض في ستة أيام، ثم استوى يوم السبت فجلس تلك الجلسة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو مجلز سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا : جو بیٹھ کر اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھ لے ؟ آپ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ۔ بیشک یہ تو ایسی چیز ہے جس کو یہود مکروہ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر وہ ساتویں دن مستوی ہوا اور اس انداز میں بیٹھ گیا۔
حدیث نمبر: 27167
٢٧١٦٧ - حدثنا وكيع عن أبي هلال عن ابن سيرين أن هارون بن رئاب قال له وهو جالس على (سريره) (١) واضعا إحدى رجليه على الأخرى: يكره هذا (يا) (٢) أبا بكر؟ قال: (لا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت ہارون ابن رئاب نے ان سے پوچھا اس حال میں کہ وہ اپنی ایک ٹانگ کو دوسرے پر رکھے ہوئے تھے ؟ اے ابوبکر ! کیا تم اس کو مکروہ سمجھتے ہو ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔
حدیث نمبر: 27168
٢٧١٦٨ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني الربيع بن المنذر قال: حدثني أبي قال: رأيت محمد بن الحنفية واضعًا إحدى رجليه على الأخرى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن المنذر فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت منذر نے ارشاد فرمایا : میں نے محمد ابن حنفیہ کو ایک ٹانگ دوسری پر رکھے ہوئے دیکھا۔
حدیث نمبر: 27169
٢٧١٦٩ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن إسرائيل قال: قيل له: (أرأيت) (١) الشعبي يضع إحدى رجليه على الأخرى؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت اسرائیل سے پوچھا گیا ! کیا آپ نے حضرت شعبی کو ایک پاؤں دوسرے پر رکھے ہوئے دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔