حدیث نمبر: 27058
٢٧٠٥٨ - حدثنا يزيد بن هارون وعبدة بن سليمان عن يحيى بن (سعيد) (١) عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت جبرائیل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ اس کو وراثت میں حقدار بنادیں گے۔
حدیث نمبر: 27059
٢٧٠٥٩ - حدثنا الفضل بن دكين عن (بشير) (١) بن (سلمان) (٢) عن مجاهد قال: كنا جلوسا عند عبد اللَّه بن عمرو فقال: إني سمعت رسول اللَّه ﷺ يوصي بالجار حتى (خشينا) (٣) أو رأينا أنه سيورثه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا : یقینا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑوسی کے متعلق وصیت فرما رہے تھے۔ یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا یا ہماری یہ رائے ہوئی کہ عنقریب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو وراثت میں حقدار بنادیں گے۔
حدیث نمبر: 27060
٢٧٠٦٠ - حدثنا (أبو) (١) (الأحوص) (٢) عن أبي (حَصِين) (٣) عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من كان يؤمن باللَّه واليوم الآخر فلا يؤذي جاره" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف مت پہنچائے۔
حدیث نمبر: 27061
٢٧٠٦١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) سلام بن مسكين قال: حدثنا (شهر) (٢) بن حوشب عن محمد بن (يوسف بن) (٣) عبد اللَّه بن سلام أن رجلا أتى النبي ﷺ فقال: آذاني جاري، فقال: "اصبر"، ثم أتاه الثانية فقال: آذاني جاري، فقال: "اصبر"، ثم أتاه الثالثة فقال: آذاني جاري، فقال: "اعمد إلى متاعك فاقذفه في السكة، فإذا مر بك أحد فقل: آذاني جاري، فتحق عليه اللعنة (أو) (٤) تجب عليه (اللعنة) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یوسف بن عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صبر کرو۔ پھر وہ دوسری مرتبہ آیا اور کہنے لگا ! میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صبر کرو، پھر وہ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ! میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اور اپنا سامان گلی میں پھینک دو ، اور جب تمہارے پاس سے کوئی بھی شخص گزرے تو اس کو کہو ! میرے پڑوسی نے مجھے تکلیف پہنچائی، پس اس پر لعنت ہوگی یا یوں فرمایا : اس پر لعنت واجب ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 27062
٢٧٠٦٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن داود بن (فراهيج) (١) قال: سمعت أبا هريرة يحدث عن النبي ﷺ قال: "أوصاني جبريل بالجار حتى ظننت أنه يورثه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کی یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو وارث قرار دے دیں گے۔
حدیث نمبر: 27063
٢٧٠٦٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن سعيد بن أبي سعيد عن ⦗١٥٨⦘ أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اللهم إني أعوذ بك من جار (سوء) (١) في دار المقامة، فإن جار البادية يتحول" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا فرمائی ! اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں رہنے کے گھر میں برے پڑوسی سے، اس لیے کہ گاؤں کا پڑوسی بدلتا رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 27064
٢٧٠٦٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن سنان (بن) (٢) (سعيد) (٣) عن أنس بن مالك قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "ما هو بمؤمن من لم (يأمن) (٤) جاره بوائقه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص کامل مومن نہیں ہے جس کا پڑوسی اس کی تکالیف سے محفوظ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 27065
٢٧٠٦٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأوزاعي عن عبدة بن أبي لبابة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا قليل من أذى الجار" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدہ بن ابی لبابہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص کا تھوڑا سا ایمان بھی نہیں جو پڑوسی کو تکلیف پہنچائے۔
حدیث نمبر: 27066
٢٧٠٦٦ - (حدثنا) (١) وكيع قال: حدثنا جعفر بن برقان عن ميمون (بن) (٢) مهران قال: كان رجل من المسلمين يصوم فكان يجعل (٣) لسحوره (قرصًا) (٤) فجاءت الشاة فأخذت القرص، (فقامت) (٥) المرأة ففكت (لحييَّ) (٦) الشاة فأخذت القرص (فثغت) (٧) الشاة فقال الرجل: ما يدريك ما بلغ (ثغاؤها) (٨) من أذى جارك؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی سحری کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا رکھتا تھا ۔ پس بکری آئی اور اس نے روٹی کا ٹکڑ ا لے لیا، اتنے میں اس کی بیوی نے کھڑے ہو کر اس سے محلہ دار کی بکری کو باندھ دیا اور اس سے روٹی کا ٹکڑا لے لیا، تو بکری نے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ اس آدمی نے کہا : کیا تو جانتی ہے کہ اس کی چیخنے سے بھی پڑوسی کو تکلیف پہنچے گی ؟
حدیث نمبر: 27067
٢٧٠٦٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن هشام بن عروة عن أبيه قال: أخبرني جار النبي ﷺ أنه كان (يرمي) (١) بالأرجام (والجيف) (٢) (٣) فقال: " (يا معشر) (٤) قريش أي مجاورة هذه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑوسی نے بتلایا : کہ وہ مردار اور پتھر پھینکا کرتا تھا ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے گروہ قریش ! یہ کیسی ہمسائیگی ہے ؟