کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو والدین سے نیک سلوک کے بارے میں ذکر کی گئیں
حدیث نمبر: 27039
٢٧٠٣٩ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن سهيل بن أبي صالح (عن أبيه) (١) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يجزئ (ولد والده) (٢) إلا أن يجده مملوكًا ⦗١٥٠⦘ فيشتريه فيعتقه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی لڑکا اپنے والد کا بدلہ نہیں چکا سکتا ، مگر یہ کہ وہ اپنے والد کو غلام پائے پھر اس کو خرید کر آزاد کر دے۔
حدیث نمبر: 27040
٢٧٠٤٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الوليد بن العيزار عن سعد بن إياس أبي عمرو الشيباني عن (ابن) (١) مسعود قال: قلت يا رسول اللَّه أي الأعمال أفضل؟ قال: الصلاة لميقاتها قال: قلت: ثم أي؟ قال: بر الوالدين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کون سا عمل افضل ترین ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا۔ میں نے پوچھا : پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : والدین سے نیک سلوک کرنا۔
حدیث نمبر: 27041
٢٧٠٤١ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن عن أبي الدرداء قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "الوالد أوسط أبواب الجنة فإن شئت فاحفظه وإن شئت فضيعه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، پس اگر تو چاہے تو اس کی حفاظت کر اور اگر چاہے تو اس کو ضائع کر دے۔
حدیث نمبر: 27042
٢٧٠٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن قال: للأم ثلثا البر وللأب الثلث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن نے ارشاد فرمایا : ماں کا حصہ اچھے سلوک میں سے دو تہائی کے برابر ہے اور باپ کا ایک تہائی کے برابر ہے۔
حدیث نمبر: 27043
٢٧٠٤٣ - حدثنا شريك عن منصور عن عبيد اللَّه بن علي عن أبي سلامة (السلامي) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أوصي امرءًا بأمه (ثلاثًا) (٢) (٣) أوصي امرءًا بأبيه، أوصي أمرءًا بمولاه الذي يليه، وإن (كان) (٤) عليه ⦗١٥١⦘ منه (أذى) (٥) يؤذيه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السلام ہ السلامی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی کو اپنی ماں سے حسن سلوک کے بارے میں تین مرتبہ وصیت کی گئی، اور اپنے باپ سے حسن سلوک کے بارے میں وصیت کی گئی، اور اس کو اپنے آقا کے بارے میں وصیت کی گئی اگرچہ وہ اس کو اذیت ہی دیتا ہو۔
حدیث نمبر: 27044
٢٧٠٤٤ - حدثنا شريك عن عمارة بن القعقاع وابن شبرمة عن أبي (زرعة) (١) عن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه نبئني (بأحق) (٢) الناس مني بحسن الصحبة؟ فقال: "نعم وأبيك (٣) (لتنبأن) (٤) أمك"، [قال: ثم (من) (٥)؟ قال: "أمك"] (٦)، قال: ثم (من) (٧)، قال: "أبوك" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بتلائیے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا کون حقدار ہے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تیرے باپ کی قسم ! تجھے ضرور خبر دی جائے گی ، تیری ماں سب سے زیادہ حقدار ہے۔ اس شخص نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیری ماں اس نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیری ماں ! اس نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا باپ۔
حدیث نمبر: 27045
٢٧٠٤٥ - حدثنا ابن علية عن عمارة أبي (سعيد) (١) قال: قلت للحسن إلى ما ينتهي العقوق؟ قال: أن (تحرمهما) (٢) وتهجرهما وتحد النظر إلى وجه والديك، يا عمارة كيف البر لهما؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ ابو سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا : کہ والدین کی نافرمانی کی انتہا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ کہ تم ان کو محروم کردو اور ان سے قطع تعلقی کرو اور تم ان دونوں پر غصہ کی نظر ڈالو۔ اے عمارہ ! ان کے ساتھ کیسا نیک سلوک ہوا !۔
حدیث نمبر: 27046
٢٧٠٤٦ - حدثنا ابن علية عن أسماء (بن) (١) عبيد عن يونس بن عبيد قال: يرجى (للموهق) (٢) بالبر الجنة، ويخاف على (المتأله) (٣) بالعقوق النار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یونس بن عبید فرماتے ہیں کہ والدین کی فرماں برداری کرنے والے کے لیے جنت کی امید ہے اور والدین کی نافرمانی کرنے والے کے لیے جہنم کا طوف ہے۔
حدیث نمبر: 27047
٢٧٠٤٧ - حدثنا حفص (بن) (١) غياث عن أشعث عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "بر الوالدين يجزئ من الجهاد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : والدین سے نیک سلوک کرنا جہاد کا جز ہے۔
حدیث نمبر: 27048
٢٧٠٤٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سليمان التيمي عن سعد بن مسعود عن ابن عباس قال: ما من مسلم له أبوان فيصبح وهو محسن إليهما إلا فتح اللَّه له بابين من الجنة، ولا يمسي وهو مسيء إليهما إلا فتح اللَّه له بابين من النار، ولا سخط عليه واحد منهما فيرضى اللَّه عنه حتى يرضى عنه، قال: (قلت) (١): وإن كانا ظالمين؟ (قال: وإن كانا ظالمين) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جس مسلمان کے والدین زندہ ہوں اور وہ صبح کرے ان دونوں سے نیک سلوک کرتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھول دیتے ہیں اور جو کوئی مسلمان شام کرے ان دونوں سے برا سلوک کرتے ہوئے تو اللہ اس کے لیے جہنم کے دو دروازے کھول دیتے ہیں اور جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اس سے ناراض ہو تو اللہ اس سے راضی نہیں ہوتے یہاں تک کہ وہ اس ناراض کو راضی کرے، راوی کہتے ہیں : میں نے پوچھاـ: اگرچہ وہ دونوں ظالم ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اگرچہ وہ دونوں ظالم ہوں۔
حدیث نمبر: 27049
٢٧٠٤٩ - حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن سالم بن ⦗١٥٣⦘ أبي الجعد (و) (٢) مجاهد عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يدخل الجنة عاق ولا مدمن خمر ولا منان" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نافرمان ہمیشہ شراب پینے والا، اور احسان جتلانے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 27050
٢٧٠٥٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن معاوية (بن) (١) إسحاق عن عروة بن الزبير قال: ما بر والده من (شد) (٢) الطرف إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ بن زبیر نے ارشاد فرمایا : جس نے اپنے والد کی طرف سخت نظر سے دیکھا اس نے فرماں برداری نہیں کی۔
حدیث نمبر: 27051
٢٧٠٥١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ليث عن مجاهد ﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ﴾ [الإسراء: ٢٣]، قال: إذا بلغا من الكبر ما كان يليان منه في الصغر فلا تقل لهما أف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے اس آیت کا معنی یوں بیان کیا، آیت { فَلاَ تَقُلْ لَہُمَا أُفٍّ } جب وہ دونوں بڑھاپے کو کہ وہ حرکتیں کرنے لگیں جو یہ بچپن میں کیا کرتا تھا تو یہ ان دونوں کو اُف مت کہے۔
حدیث نمبر: 27052
٢٧٠٥٢ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن محمد بن طلحة ابن معاوية بن (جاهمة) (١) السلمي عن أبيه قال: أتيت رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه إني أريد الجهاد معك (في سبيل اللَّه) (٢) قال: فقال: "أمك حية؟ "، (قال) (٣): ⦗١٥٤⦘ قلت: نعم، يا رسول اللَّه قال: "الزم (رجلها) (٤) فثم الجنة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن طلحہ بن معاویہ بن جاھمۃ السلمی فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے فرمایا : کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے عرض کیا :ـ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں آپ کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا :ـ کیا تمہاری والدہ زندہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کے پاؤں کو لازم پکڑ لو (خدمت کرو) پس وہاں جنت ہے۔
حدیث نمبر: 27053
٢٧٠٥٣ - (١) حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه: ﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ﴾ [الإسراء: ٢٣]، قال: لا تمنعهما شيئًا أراداه أو قال: أحباه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ بن زبیر نے اس آیت کی تفسیر یوں بیان فرمائی۔ آیت { فَلاَ تَقُلْ لَہُمَا أُفٍّ } ترجمہ : تم ان دونوں کو ” اُف “ تک مت کہو، فرمایا : اس کا مطلب ہے جب وہ دونوں کسی کام کے کرنے کا ارادہ کریں یا کوئی ان کو کوئی چیز پسند ہو تو ان دونوں کو روکو مت۔
حدیث نمبر: 27054
٢٧٠٥٤ - (حدثنا) (١) غندر عن شعبة عن الحكم عن ميمون بن أبي شبيب قال: قيل لمعاذ بن جبل: ما حق الوالد على الولد؟ قال: لو خرجت من أهلك ومالك ما أديت حقهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن ابی شبیب فرماتے ہیں کہ حضر ت معاذ بن جبل سے پوچھا گیا : اولاد پر والد کا کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا : اگر تم ان کے لیے اپنے گھر والوں سے اور اپنے مال سے نکل جاؤ تب بھی تم نے ان کا حق ادا نہیں کیا۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت منصور بن زاذان نے حضت حکم سے بھی نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 27055
٢٧٠٥٥ - قال شعبة: وإنما حدثني به منصور (بن) (١) (زاذان) (٢) عن الحكم.
حدیث نمبر: 27056
٢٧٠٥٦ - (حدثنا) (١) غندر عن شعبة عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن (نبيط) (٢) بن (شريط) (٣) عن (جابان) (٤) عن عبد اللَّه بن عمرو عن النبي ﷺ قال: "لا يدخل (الجنة) (٥) عاق ولا مدمن خمر ولا منان" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نافرمان، ہمیشہ شراب پینے والا اور احسان جتلانے والا جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔