کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ان روایات کا بیان جو غصہ کے بارے میں ہیں، اور آدمی غصہ میں کیا کہے
حدیث نمبر: 27019
٢٧٠١٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما تعدون الصرعة فيكم؟ " (قال) (١): (قالوا) (٢): الذي لا يصرعه (الرجال) (٣) قال: "لا، ولكنه الذي يملك نفسه عند الغضب" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ پہلوان کسے کہتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا : وہ شخص جسے بہت سے آدمی بھی نہ پچھاڑ سکیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ، بلکہ وہ شخص جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو رکھے وہ اصل پہلوان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27019
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٦٠٨)، وأبو داود (٤٧٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27019، ترقيم محمد عوامة 25887)
حدیث نمبر: 27020
٢٧٠٢٠ - حدثنا بن ادريس عن ليث عن طاوس عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يسروا ولا (تعسروا) (١) -قالها ثلاثًا- فإذا (غضبت) (٢) فاسكت" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ آسانی پیدا کرو، مشکل پیدا مت کرو، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر فرمایا : پس جب تجھے غصہ آجائے تو خاموش ہوجا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27020
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث، أخرجه أحمد (٢١٣٦)، والطيالسي (٢٦٠٨)، والطبراني (١٠٩٥١)، والبخاري في الأدب المفرد (١٣٢٠)، والبيهقي في الشعب (٨٢٨٦)، والبزار (١٥٢/ كشف)، وابن عدي ٤/ ١٥٧٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27020، ترقيم محمد عوامة 25888)
حدیث نمبر: 27021
٢٧٠٢١ - حدثنا ابن نمير عن هشام بن عروة عن أبيه عن الأحنف بن قيس عن ابن عم له من بني تميم (عن) (١) (جارية) (٢) بن قدامة أنه قال: يا رسول اللَّه قل ⦗١٤٣⦘ لي قولًا (وأقلل) (٣) لعلي أعيَه قال: "لا تغضب"، فأعاد عليه مرارًا كل ذلك يقول: "لا تغضب" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جاریہ بن قدامہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے کچھ نصیحت کردیں اور مختصر نصیحت ہو تاکہ میں اس کو محفوظ کرسکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو غصہ مت کیا کر، آپ نے بار بار اپنا سوال دہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر بار یہی بات ارشاد فرمائی : تو غصہ مت کیا کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27021
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ بدون لفظة (عن)، وأخرجه أحمد (١٥٩٦٤)، وابن حبان (٥٦٩٠)، والبخاري في التاريخ ٢/ ٢٣٧، والطبراني (٢٠٩٥)، والخطيب ٣/ ١٠٨، وابن بشكوال في غوامض الأسماء (١/ ١٢٢)، والحاكم ٣/ ٦١٨، وأبو يعلى (٦٨٣٨)، وابن عبد البر في التمهيد ٧/ ٢٤٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢١٠٥)، وابن قانع ١/ ١٥٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27021، ترقيم محمد عوامة 25889)
حدیث نمبر: 27022
٢٧٠٢٢ - حدثنا عبدة عن هشام عن أبيه عن الأحنف بن قيس عن (جارية) (١) ابن قدامة عن ابن عم له من بني تميم عن النبي ﷺ (٢) (مثله) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27022
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27022، ترقيم محمد عوامة 25890)
حدیث نمبر: 27023
٢٧٠٢٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عدي بن ثابت عن سليمان بن صرد قال: استب رجلان عند النبي ﷺ فجعل أحدهما تحمر عيناه، وتنتفخ أوداجه فقال رسول اللَّه ﷺ: "إني لأعرف كلمة لو قالها (١) لذهب عنه الذي يجد، أعوذ باللَّه من الشيطان الرجيم" (٢) فقال الرجل: وهل ترى بي من جنون؟ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن صرد فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دوسرے کو سب و شتم کیا پس ان دونوں میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اس کو پڑھ لے تو اس کا غصہ ختم ہوجائے۔ وہ کلمہ یہ ہے : أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے، پس وہ آدمی کہنے لگا کیا تم مجھے مجنون سمجھتے ہو ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27023
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٨٢)، ومسلم (٢٦١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27023، ترقيم محمد عوامة 25891)
حدیث نمبر: 27024
٢٧٠٢٤ - حدثنا حسين بن علي عن (زائدة) (١) عن عبد الملك بن عمير عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن معاذ قال: استب رجلان عند رسول اللَّه ﷺ فغضب أحدهما غضبًا شديدًا، حتى أنه (ليخيل) (٢) إليَّ أن أنفه (يتمزع) (٣)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إني لأعرف كلمة لو قالها هذا الغضبان (ذهب) (٤) غضبة، أعوذ باللَّه العظيم من الشيطان (الرجيم) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ فرماتے ہیں کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دوسرے کو گالیاں دیں، پس ان میں سے ایک کو بہت سخت غصہ آگیا یہاں تک کہ مجھے خیال آنے لگا کہ کہیں غصہ سے اس کی ناک ہی نہ پھٹ پڑے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر یہ غصہ میں مبتلا شخص اس کلمہ کو پڑھ لے تو اس کا غصہ ختم ہوجائے ، وہ کلمہ یہ ہے : میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں جو عظیم ذات ہے، شیطان مردود سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27024
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27024، ترقيم محمد عوامة 25892)
حدیث نمبر: 27025
٢٧٠٢٥ - حدثنا حسين بن علي (عن) (١) زائدة عن علي بن زيد عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "اتقوا الغضب، فإنها جمرة توقد في قلب بن آدم، ألم (تر) (٢) (إلى) (٣) انتفاخ أوداجه وحمرة عينيه، فمن (أحس) (٤) من ذلك شيئا فليلزق بالأرض" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سُنا : تم لوگ غصہ سے بچو۔ بیشک یہ انگارہ ہے جو ابن آدم کے دل میں سلگتا ہے۔ کیا تم غصہ میں مبتلا شخص کی پھولی ہوئی رگیں اور اس کی سرخ آنکھیں نہیں دیکھتے ؟ پس جو شخص تھوڑا سا بھی غصہ محسوس کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ زمین پر لیٹ جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27025
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (١١١٤٣)، والترمذي (٢١٩١)، والحاكم ٤/ ٥٠٥، وعبد الرزاق (٢٠٧٢٠)، والحميدي (٧٥٢)، والطيالسي (٢١٥٦)، وعبد ابن حميد (٨٦٤)، وأبو يعلى (١١٠١)، والطبراني في الأوسط (٣٨١٧)، والبيهقي في شعب الإيمان (٨٢٨٩)، والبغوي في شرح السنة (٤٠٣٩)، والخطيب ١٠/ ٢٣٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27025، ترقيم محمد عوامة 25893)
حدیث نمبر: 27026
٢٧٠٢٦ - حدثنا داود بن عبد اللَّه قال: أخبرنا مالك (بن) (١) أنس عن ابن شهاب عن سعيد بن (المسيب) (٢) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ليس الشديد بالصرعة إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے طاقت ور پہلوان جو لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ طاقت ور پہلوان تو وہ ہے جو اپنے نفس کو غصہ کے وقت میں قابو رکھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27026
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٣٦٢٦)، ومسلم (٢٦٠٨)، وبنحوه البخاري (٦١١٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27026، ترقيم محمد عوامة 25894)
حدیث نمبر: 27027
٢٧٠٢٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن عن رجل من أصحاب رسول اللَّه ﷺ أنه أتى النبي ﷺ (١) (رجلٌ) (٢) فقال: أوصني (بكلمات) (٣) (و) (٤) لا تكثر عليَّ، قال: "اجتنب الغضب"، فأعاد عليه فقال: "اجتنب الغضب"، فأعاد عليه فقال: "اجتنب الغضب" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ مجھے چند کلمات کی وصیت فرما دیجئے اور مجھ پر کثرت مت کیجئے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : غصہ سے اجتناب کرو، اس نے پھر اپنا سوال دہرایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : غصہ سے اجتناب کرو، اس شخص نے پھر اپنا سوال دہرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : غصہ سے اجتناب کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27027
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٣٤٦٨)، ومالك ٢/ ٩٠٥، وعبد الرزاق (٢٠٢٨٦)، والبيهقي ١٠/ ١٠٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27027، ترقيم محمد عوامة 25895)