کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو اچھے اخلاق اور بُرے اخلاق کے مکروہ ہونے کے بارے میں ذکر کی گئیں
حدیث نمبر: 26955
٢٦٩٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن زياد بن علاقة (سمعه) (١) (عن) (٢) أسامة بن شريك قال: قال رجل: (يا) (٣) رسول اللَّه! ما خير ⦗١٢١⦘ ما أعطي العبد؟ قال: "خلق حسن" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن شریک فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا ! اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ایک بندے کو سب سے بہترین چیز کیا دی گئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا اخلاق۔ “
حدیث نمبر: 26956
٢٦٩٥٦ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) وكيع عن سفيان ومسعر عن زياد بن علاقة (٢) عن أسامة بن شريك (قال) (٣) قالوا: يا رسول اللَّه (ما) (٤) أفضل ما أعطي (المسلم) (٥) قال: "خلق حسن" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ بن شریک فرماتے ہیں کہ لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مسلمان کو سب سے افضل چیز کیا مرحمت کی گئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اچھا اخلاق۔
حدیث نمبر: 26957
٢٦٩٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو أسامة) (١) عن زكريا (بن) (٢) (أبي) (٣) يحيى عن عمران بن (رياح) (٤) عن علي بن عمارة عن جابر بن سمرة قال: كنت في مجلس فيه النبي ﷺ (وأبي) (٥) سمرة جالس أمامي فقال ⦗١٢٢⦘ رسول اللَّه ﷺ: "إن الفحش والتفحش ليسا من الإسلام في شيء، وإن أحسن الناس إسلامًا أحسنهم خلقًا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں ایسی مجلس میں تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی موجود تھے ۔ اور حضرت ابو سمرہ میرے آگے بیٹھے ہوئے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک بداخلاقی اور بدکلامی دونوں کا اسلام میں کوئی حصہ بھی نہیں، اور لوگوں میں بہترین اسلام والا وہ شخص ہے جو ان میں اچھے اخلاق والا ہے۔
حدیث نمبر: 26958
٢٦٩٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن (شقيق) (١) عن مسروق عن عبد اللَّه ابن عمرو قال: لم يكن رسول اللَّه ﷺ فاحشًا ولا متفحشًا، وكان يقول: "إن من خياركم (أحاسنكم) (٢) أخلاقًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ تو بدخلق تھے اور نہ ہی بدکلامی کرنے والے تھے۔ اور فرمایا کرتے تھے : بیشک تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اچھے اخلاق والے ہیں۔
حدیث نمبر: 26959
٢٦٩٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أكمل الناس إيمانًا وأفضل المؤمنين إيمانًا: أحسنهم خلقًا، وخياركم خياركم لنسائهم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں کامل ترین ایمان والے، اور مؤمنین میں افضل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والے ہیں۔ اور تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے اچھے ہیں۔
حدیث نمبر: 26960
٢٦٩٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن خالد عن أبي قلابة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: (أكمل المؤمنين إيمانًا أحسنهم خلقًا ⦗١٢٣⦘ (وألطفهم) (١) (بأهله)) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومنین میں کامل ترین ایمان والاوہ شخص ہے جو ان سب میں سب سے اچھے اخلاق والا ہو اور اپنے گھر والوں پر سب سے زیادہ مہربان ہو۔
حدیث نمبر: 26961
٢٦٩٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن (داود) (١) عن مكحول عن أبي ثعلبة الخشني قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أحبكم الي وأقربكم مني يوم القيامة (أحاسنكم) (٢) أخلاقًا، وإن أبعدكم مني وأبغضكم إلي مساوئكم أخلاقًا: الثرثارون (المتشدقون) (٣) المتفيهقون" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ثعلبہ الخشنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہوگا جو تم میں سے سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا ہوگا۔ اور بیشک مجھ سے دور اور سب سے زیادہ مبغوضی وہ شخص ہوگا جو تم میں برے اخلاق والا ، بکواس کرنے والا، فحش کلام کرنے والا، اور تکبر کرنے والا ہوگا۔
حدیث نمبر: 26962
٢٦٩٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو عبد الرحمن (المقرئ) (١) عن سعيد بن أبي أيوب عن ابن عجلان عن القعقاع عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أكمل (المؤمنين) (٢) (إيمانًا) (٣) أحسنهم خلقًا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومنین میں کامل ترین ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ان میں اچھے اخلاق والے ہیں۔
حدیث نمبر: 26963
٢٦٩٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن معبد بن خالد عن حارثة بن وهب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يدخل الجنة الجواظ ولا الجعظري. والجواظ الفظ (الغليظ) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارثہ بن وہب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بد خلق اور بدکلام جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ جو اظّ سے مراد، بدخو بد کردار ہے۔
حدیث نمبر: 26964
٢٦٩٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن القاسم بن أبي (بزة) (١) عن عطاء (الكيخاراني) (٢) عن أم الدرداء عن أبي الدرداء عن النبي ﷺ قال: "ما من شيء أثقل في الميزان من خلق حسن" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ترازو میں اچھے اخلاق سے زیادہ کوئی چیز وزنی نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 26965
٢٦٩٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن حبيب ابن أبي ثابت عن ميمون بن أبي (شبيب) (٢) أن النبي ﷺ قال: "يا معاذ -وقد قال وكيع بآخرة-: (يا) (٣) أبا ذر أتبع (السيئة الحسنة) (٤) تمحها، وخالق ⦗١٢٥⦘ الناس خلقًا حسنًا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن ابی شعیب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ، اور حضرت وکیع نے دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا : اے ابو ذر ! برائی کے بعد نیکی کرلیا کرو۔ یہ نیکی برائی کو مٹا دے گی۔ اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔
حدیث نمبر: 26966
٢٦٩٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن محمد بن المنكدر عن عروة عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن (شرار) (١) الناس يوم القيامة (الذي) (٢) يتقى مخافة فحشه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک قیامت کے دن بدترین لوگ وہ ہوں گے جن کی فحش باتوں کے ڈر سے بچا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 26967
٢٦٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن (عبد اللَّه) (١) قال: (ألأم) (٢) أخلاق المؤمن الفحش (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاحوص فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مومن کا گھٹیا اخلاق فحش گوئی ہے۔
حدیث نمبر: 26968
٢٦٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن حكيم بن جابر قال: قال رجل لرجل: أوصني قال: أتبع (السيئة الحسنة) (١) تمحها وخالق الناس خلقًا حسنًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن جابر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کہا : مجھے کچھ نصیحت کردو، اس شخص نے کہا : برائی کے بعد نیکی کرلیا کرو یہ نیکی اس برائی کو مٹا دے گی۔ اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آیاکرو۔
حدیث نمبر: 26969
٢٦٩٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن ثابت بن عبيد قال: كان زيد بن ثابت من (أفكه) (١) الناس إذا خلا مع أهله، (وأزمته) (٢) إذا جلس مع القوم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بن عبید فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت لوگوں میں سب سے زیادہ خوش طبع ہوتے جب وہ خلوت میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ہوتے، اور سب سے زیادہ باوقار اور کم گو تھے جب لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ۔
حدیث نمبر: 26970
٢٦٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة أن النبي ﷺ قال لها: "يا عائشة! لا تكوني فاحشة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا : تم فحش گو مت بنو۔
حدیث نمبر: 26971
٢٦٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن زكريا عن أبي إسحاق عن (الجدلي) (١) أبي عبد اللَّه قال: قلت لعائشة كيف كان خلق رسول اللَّه ﷺ قالت: كان أحسن الناس خلقا، لم يكن فاحشًا ولا متفحشًا ولا سخابًا في الأسواق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے ۔ نہ بدکردار تھے اور نہ ہی بدکلام اور نہ ہی بازار میں شور شرابا کرنے والے تھے۔
حدیث نمبر: 26972
٢٦٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن رجل من جهينة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "خير ما أعطي (١) المؤمن خلق حسن (وشر) (٢) ما أعطي الرجل (قلب) (٣) سوء في صورة حسنة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
قبیلہ جھینہ کے ایک آدمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مومن کو سب سے بہتر چیز جو عطا کی گئی وہ اچھا اخلاق ہے۔ اور سب سے بری چیز جو آدمی کو عطا کی گئی وہ خوبصورت چہرے میں بُرا دل ہے۔
حدیث نمبر: 26973
٢٦٩٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن المقدام بن شريح (عن أبيه المقدام ابن شريح) (١) عن أبيه شريح عن جده هانئ بن (شريح) (٢) قال: قلت: يا رسول اللَّه أخبرني بشيء يوجب لي الجنة. قال: "عليك بحسن الكلام وبذل الطعام" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہانی ٔ بن شریح فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے کوئی ایسی چیز بتلائیے جو میرے لیے جنت کو واجب کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم پر کلام کی عمدگی اور کھانا کھلانا لازم ہے۔
حدیث نمبر: 26974
٢٦٩٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) ابن (إدريس) (٢) عن عبد اللَّه بن سعيد ⦗١٢٨⦘ عن جده عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لن تسعوا الناس بأموالكم فليسعهم منكم بسط وجه وحسن خلق" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ہرگز اپنے مالوں کے ذریعہ لوگوں سے مقابلہ مت کرو ، پس چاہیے کہ تم ان سے خوشگوار چہرے اور اچھے اخلاق میں مقابلہ کرو۔
حدیث نمبر: 26975
٢٦٩٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا بن نمير (قال) (١): حدثنا إسماعيل عن الشعبي قال: قال عمر: حَسَب الرجل: دينه، ومروءته خلقه، وأصله (عقله) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : آدمی کا حسب اس کا دین ہے۔ اور اس کی مروت اس کا اخلاق ہے۔ اور اس کی اصل اس کی عقل ہے۔
حدیث نمبر: 26976
٢٦٩٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب عن معاوية بن صالح قال: أخبرني عبد الرحمن بن جبير عن أبيه أنه سمع النواس بن سمعان الأنصاري قال: سألت رسول اللَّه ﷺ عن البر والإثم قال: "البر حسن الخلق والإثم ما حاك في نفسك وكرهت أن (يطلع) (١) عليه الناس" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نواس بن سمعان انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق سوال کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نیکی اچھا اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تم یہ ناپسند کرو کہ لوگ اس پر واقف ہوں۔
حدیث نمبر: 26977
٢٦٩٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان (قال) (١): حدثنا عبد الوارث قال: حدثنا أبو التياح قال: حدثنا أنس قال: كان رسول اللَّه ﷺ أحسن الناس خلقًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق کے حامل تھے۔
حدیث نمبر: 26978
٢٦٩٧٨ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا شريك عن خلف بن حوشب عن ميمون بن مهران قال: قلت لأم الدرداء (أسمعت) (٢) من النبي ﷺ (٣) (شيئًا) (٤)؟ قالت: نعم. دخلت عليه وهو جالس -أو قالت: في المسجد أو ذكرت غيره- فسمعته (يقول) (٥): "أول ما يوضع في الميزان الخلق الحسن" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مھران فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ام الدرداء سے پوچھا : کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے یا فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تھے یا کوئی اور بات ذکر فرمائی۔ پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سُنا : ترازو میں سب سے پہلے اچھے اخلاق کو رکھا جائے گا۔
حدیث نمبر: 26979
٢٦٩٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه قال: مكتوب في التوراة: (ليكن) (١) وجهك بسطًا (و) (٢) كلمتك طيبة (تكن) (٣) أحب (٤) إلى الناس من الذين يعطونهم العطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : تورات میں یوں لکھا ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ اس کا چہرہ خوشگوار ہو اور اس کی بات پاکیزہ ہو۔ تو وہ لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوجائے گا جس کو وہ انعام سے نوازتے ہیں۔