کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو نرمی اور محبت کرنے کے بارے میں ذکر کی گئیں
حدیث نمبر: 26944
٢٦٩٤٤ - حدثنا أبو بكر (١) عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال: حدثنا (أبو) (٢) معاوية ووكيع عن الأعمش عن تميم بن سلمة عن عبد الرحمن بن هلال عن جرير قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من يحرم الرفق يحرم الخير (٣) " (٤).
حدیث نمبر: 26945
٢٦٩٤٥ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) شريك عن المقدام بن شريح عن أبيه قال: سألت عائشة عن البداوة فقالت: كان رسول اللَّه ﷺ يبدو إلى هذه التلاع وأنه أراد البداوة مرة فأرسل إلي ناقة (محرمة) (٢) من إبل الصدقة فقال: لي يا عائشة ارفقي فإن الرفق لم يكن في شيء (قط) (٣) إلا زانه ولا نزع من شيء قط إلا شانه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحرا میں مقام ہونے سے متعلق سوال کیا ؟ آپ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ٹیلوں کی طرف جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ صحرا میں جانے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کی اونٹنیوں میں سے ایک سرکش اونٹنی میری طرف بھیجی اور مجھ سے فرمایا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! نرمی اختیار کرو ، اس لیے کہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور کسی چیز سے نرمی نہیں کھینچی جاتی مگر وہ بدصورت ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 26946
٢٦٩٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو (عن) (١) ابن أبي ⦗١١٨⦘ مليكة عن يعلى بن مَمْلَك عن أم (الدرداء) (٢) (عن أبي الدرداء) (٣) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أعطي حظه من الرفق أعطي حظه من الخير (ومن منع حظه من الرفق منع حظه من الخير) " (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو نرمی میں سے حصہ دیا گیا تو اس کو بھلائی میں سے حصہ دیا گیا۔ اور جس شخص کو نرمی سے محروم رکھا گیا اس کو بھلائی سے محروم رکھا گیا۔
حدیث نمبر: 26947
٢٦٩٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن محمد بن (أبي) (١) إسماعيل عن عبد الرحمن بن هلال عن جرير عن النبي ﷺ قال: "من يحرم الرفق يحرم الخير" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص بھلائی سے محروم رکھا گیا وہ بھلائی سے محروم رکھا گیا۔
حدیث نمبر: 26948
٢٦٩٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن محمد بن أبي إسماعيل عن عبد الرحمن بن هلال عن جرير عن النبي ﷺ بنحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 26949
٢٦٩٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن هشام عن أبيه قال: بلغني أنه مكتوب في التوراة: الرفق رأس الحكمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تورات میں یوں لکھا ہوا تھا : نرمی حکمت کی بنیاد ہے۔
حدیث نمبر: 26950
٢٦٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (عن إسماعيل بن أبي خالد) (١) عن ⦗١١٩⦘ قيس قال: كان يقال: من (يؤتى) (٢) الرفق في (الدنيا) (٣) ينفعه في الآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی خالد فرماتے ہیں کہ حضرت قیس نے ارشاد فرمایا : یوں بیان کیا جاتا تھا۔ جس شخص کو دنیا میں نرم برتاؤ دیا گیا تو یہ آخرت میں اس کو نفع پہنچائے گا۔
حدیث نمبر: 26951
٢٦٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ثور عن خالد بن معدان قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه رفيق يحب الرفق، ويعطي عليه، ويعين عليه ما لا يعين على العنف" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن معدان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ نرم برتاؤ والے ہیں، نرمی کو پسند فرماتے ہیں۔ اور اس پر اپنی عطاء سے نوازتے ہیں اور نرمی کی صورت میں مدد فرماتے ہیں جو کہ سختی کی صورت میں نہیں فرماتے ۔
حدیث نمبر: 26952
٢٦٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن يونس وحميد عن الحسن عن عبد اللَّه بن (مغفل) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه رفيق يحب الرفق ويرضاه ويعطي (عليه) (٢) ما لا يعطي على العنف" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مغفل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ نرم برتاؤ والے ہیں اور نرمی کو پسند فرماتے ہیں اور اس سے راضی ہوتے ہیں اور نرمی کی صورت میں جو انعام دیتے ہیں وہ سختی کی صورت میں نہیں عطاء فرماتے ۔
حدیث نمبر: 26953
٢٦٩٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن (سعد) (١) بن سعيد عن الزهري عن رجل من بلي قال: دخلت مع أبي على النبي ﷺ فانتجاه دوني فقلت ⦗١٢٠⦘ (له) (٢): يا (أبت) (٣) أي شيء قال لك رسول اللَّه ﷺ؟ فقال: قال (لي) (٤): "إذا هممت بالأمر فعليك بالتؤدة حتى يأتيك اللَّه بالمخرج من أمرك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
امام زہری فرماتے ہیں کہ ایک بلوی آدمی فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے سرگوشی فرمائی۔ تو میں نے اپنے والد سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا بات کہی ؟ تو انہوں نے فرمایا : جب تم کسی کام کا ارادہ کرو تو محبت کرنے کو لازم پکڑ لو یہاں تک کہ اللہ تمہارے معاملہ کا کوئی نہ کوئی حل نکال دے گا۔
حدیث نمبر: 26954
٢٦٩٥٤ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) أبو الأحوص عن سماك عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اللَّه (تعالى) (٢) رفيق يحب الرفق ويعطي عليه (ما) (٣) لا يعطي على العنف" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نرم برتاؤ کرنے والے ہیں اور نرمی کو پسند فرماتے ہیں اور نرمی کی صورت میں وہ کچھ دیتے ہیں جو سختی کی صور ت میں عطا نہیں فرماتے ۔