حدیث نمبر: 26889
٢٦٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حكيم بن جبير عن علي بن (حسين) (١) قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يستر الجدر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حسین سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیوار کو پردہ کرنے سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 26890
٢٦٨٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى بن عبيد عن فضيل بن غزوان عن نافع عن ابن عمر قال: بلغ عمر أن ابنًا له ستر حيطانه فقال: واللَّه (لئن) (١) كان ⦗١٠٢⦘ (ذلك) (٢) لأحرقن بيته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کو یہ بات پہنچی کہ ان کے ایک بیٹے نے اپنی دیوار پر پردہ لگایا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا …خدا کی قسم ! اگر یہ بات ایسی ہی ہوئی تو ضرور اس کا گھر جلا دوں گا۔
حدیث نمبر: 26891
٢٦٨٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن الزهري عن سالم بن عبد اللَّه قال: (أعرست) (١) في عهد أبي فآذن أبي الناس، وكان فيمن آذن أبو أيوب، وقد سترت بيتي (بجنادي) (٢) أخضر، فجاء أبو أيوب فدخل وأبي قائم ينظر، فإذا البيت (مُسّتر) (٣) بجنادي أخضر، فقال: (إي) (٤) عبد اللَّه: تسترون (الجدر) (٥) فقال أبي (واستحيا) (٦): غلبنا النساء يا أبا أيوب، (قال) (٧): من (خشي) (٨) أن يغلبه النساء (فلم) (٩) أخش أن يغلبنك، لا أطعم (لك) (١٠) طعامًا ولا أدخل (لك) (١١) بيتًا ثم خرج (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے عہد میں ولیمہ کیا۔ پس میرے والد نے بہت سے لوگوں کو بلایا۔ جن لوگوں کو بلایا تھا ان میں حضرت ابو ایوب بھی تھے۔ اور میں نے اپنے کمرے کو سبز پردوں سے تیار کیا ہوا تھا۔ حضرت ابو ایوب تشریف لائے اور میرے والد کھڑے دیکھ رہے تھے۔ کہ گھر سبز پردوں سے مستور تھا۔ حضرت ابوایوب نے کہا۔ اے ابو عبد اللہ ! تم دیواروں پر پردے لگاتے ہو ؟ میرے والد نے کہا۔ اور انہیں تب شرمندگی ہو رہی تھی… اے ابو ایوب ! ہم پر عورتیں غالب آگئیں ہیں۔ حضرت ابو ایوب نے کہا۔ جو شخص یہ خوف رکھتا ہے کہ اس پر عورتیں غالب آجائیں گی تو پھر مجھے اس کا کوئی خوف نہیں کہ وہ تم پر غالب آجائیں۔ میں تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا۔ اور تمہارے گھر میں داخل نہیں ہوں گا۔ پھر آپ باہر نکل گئے۔