کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: مردار کی دباغت دی ہوئی کھال سے بنائے ہوئے لباس کے بارے میں
حدیث نمبر: 26379
٢٦٣٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن زيد بن أسلم عن عبد الرحمن ابن وعلة عن ابن عباس قال: سمعت النبي ﷺ يقول: "أيما إهاب دبغ (فقد) (١) طهر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے ہوئے سُنا : ” جس کسی چمڑے کو بھی دباغت دی جائے تو وہ یقینا پاک ہوجاتا ہے۔ “
حدیث نمبر: 26380
٢٦٣٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) عبد الرحيم بن سليمان عن ليث عن شهر بن حوشب عن سلمان قال: كان لبعض أمهات المؤمنين شاة، فماتت فمر عليها رسول اللَّه ﷺ فقال: "ما ضر أهلها لو انتفعوا (بإهابها) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت امہات المؤمنین میں سے کسی کے پاس ایک بکری تھی۔ وہ مرگئی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور ارشاد فرمایا : ” اگر اس بکری کے مالک اس کی کھال سے نفع حاصل کرتے تو ان کو نقصان نہ ہوتا۔ “
حدیث نمبر: 26381
٢٦٣٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس عن ميمونة أن شاة لمولاة ميمونة مر بها قد أعطيتها من الصدقة ميتة، فقال: هذا أخذوا إهابها (فدبغوه) (١) فانتفعوا (به) (٢) (قالوا) (٣): يا رسول اللَّه إنها ميتة، قال: "إنما حرم أكلها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمونہ سے روایت ہے کہ ان کی آزاد کردہ لونڈی کی مرد ہ بکری… جو انہیں صدقہ کے مال سے عطاء ہوئی تھی…کے پاس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا تو فرمایا : ” ان لوگوں نے اس بکری کی کھال کیوں نہیں اتاری کہ اس کو دباغت دیتے اور پھر وہ اس سے نفع لیتے ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ تو مردار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا صرف کھانا حرام ہے۔ “
حدیث نمبر: 26382
٢٦٣٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا إسماعيل عن الشعبي قال: أخبرنا عكرمة عن ابن عباس أن شاة لسودة بنت زمعة ماتت، (قالت) (١): فدبغنا جلدها فكنا ننبذ (فيه) (٢) حتى صار شنًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت سودہ بنت زمعہ کی ایک بکری تھی جو مرگئی۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم نے اس کی کھال کو دباغت دے دی اور ہم اس میں نبیذ بناتے تھے یہاں تک کہ وہ بوسیدہ ہوگئی۔
حدیث نمبر: 26383
٢٦٣٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: (أنبأنا) (١) (٢) أبو بشر عن عكرمة أن رسول اللَّه ﷺ (مر) (٣) بشاة لسودة بنت زمعة فقال: (ألا (تنتفعوا) (٤) بإهابها، فإن دبغها طهورها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت سودہ بنت زمعہ کی (مری ہوئی) بکری کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” ان لوگوں نے اس کی کھال سے کیوں نفع نہیں لیا۔ کیونکہ کھال کی دباغت ` کھال کی طہارت ہے۔ “
حدیث نمبر: 26384
٢٦٣٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم (عن) (١) محمد (بن) (٢) (أبي) (٣) إسماعيل عن سعيد بن جبير قال: دباغها طهورها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کھال کی دباغت ہی کھال کی طہارت ہے۔
حدیث نمبر: 26385
٢٦٣٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد عن مالك بن أنس عن يزيد بن قسيط عن محمد بن عبد الرحمن عن أمه عن عائشة قالت: أمر رسول اللَّه ﷺ أن يستمتع بجلود الميتة (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ مرداروں کی کھالوں سے نفع حاصل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 26386
٢٦٣٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن عبد الملك عن عطاء عن ابن عباس أن النبي ﷺ (مر) (١) بشاة لمولاة لميمونة ميتة فقال: "هذا انتفعوا بإهابها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت میمونہ کی آزاد کردہ لونڈی کی مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا : ” ان لوگوں نے اس بکری کی کھال سے نفع کیوں نہیں لیا ؟ “
حدیث نمبر: 26387
٢٦٣٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه قال: (حدثنا) (١) ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس عن ميمونة قالت: ماتت شاة لإحدى نساء النبي ﷺ فقال النبي ⦗٥١٣⦘ ﵇ (٢): "ألا (انتفعتم) (٣) بإهابها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت میمونہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عورتوں میں سے کسی ایک کی بکری مرگئی تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے اس کے چمڑے سے کیوں نفع نہیں لیا ؟ “
حدیث نمبر: 26388
٢٦٣٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم قال: أخبرنا إسماعيل (عن) (١) قيس (ابن) (٢) أبي حازم قال: حدثت أن رسول اللَّه ﷺ (مر) (٣) بشاة ميتة فقال: "ما ضر أهلها لو انتفعوا بإهابها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کی گئی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ـ: ” اس بکری کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا اگر یہ اس کے چمڑے سے منتفع ہوتے ؟ “
حدیث نمبر: 26389
٢٦٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن صدقة عن جده (رياح) (١) ابن الحارث عن مسعود قال: ذكاته دباغه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کھال کو دباغت دینا ہی اس کی طہارت ہے۔
حدیث نمبر: 26390
٢٦٣٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد -وليس بالأحمر- عن هشام عن قتادة عن الحسن عن (جون) (١) بن (قتادة) (٢) عن سلمة بن (المحبق) (٣) قال: ⦗٥١٤⦘ قال رسول اللَّه ﷺ: "ذكاة الجلود دباغها" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن محبق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چمڑوں کی پاکی، ان کو دباغت دینا ہے۔ “
حدیث نمبر: 26391
٢٦٣٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه قال: حدثنا همام عن قتادة (عن الحسن) (١) (عن جون بن قتادة) (٢) عن سلمة بن (المحبق) (٣) عن النبي ﷺ بمثله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن محبق ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (اوپر والی) حدیث کے مثل ہی روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 26392
٢٦٣٩٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن منصور عن جون بن قتادة عن النبي ﵇ (١) بمثله. (ولم يذكر منصور (سلمة) (٢) بن (محبق)) (٣) (٤)] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سلمہ والی حدیث کے مثل ہی روایت کرتے ہیں لیکن راوی منصور، سلمہ بن محبق کا ذکر نہیں کرتے ۔
حدیث نمبر: 26393
٢٦٣٩٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن (المغيرة) (١) عن إبراهيم قال] (٢): كان يقال: دباغ الميتة طهورها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مردار (کی کھال) کو دباغت دینا ہی اس کی طہارت ہے۔