حدیث نمبر: 26368
٢٦٣٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن سيار عن الشعبي قال: (سئل عن الفراء) (٢) فقال: أحبها إلي ألينها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسار، حضرت شعبی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ان سے چمڑا لگے ہوئے کپڑے (کے پہننے) کے متعلق سوال کیا گیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : اس میں سے نرم کپڑا مجھے پسند ہے۔
حدیث نمبر: 26369
٢٦٣٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (ابن عون) (١) قال: رأيت على إبراهيم مستقة فراء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم پر بڑی آستین والا چمڑا لگا ہوا لباس دیکھا۔
حدیث نمبر: 26370
٢٦٣٧٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي (كبران) (١) قال: رأيت عليه مستقة فراء] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو کبران سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ضحاک پر بڑی آستین والا چمڑا لگا ہوا لباس دیکھا۔
حدیث نمبر: 26371
٢٦٣٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا ابن عون عن مجاهد قال: أبصر ابن عمر على رجل (فروا) (١) فأعجبه لينه فقال: لو أعلم هذا ذكي لسرني أن يكون لي منه ثوب (٢).
حدیث نمبر: 26372
٢٦٣٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هشام عن ابن أبي ليلى عن ثابت قال: كانت جالسًا مع عبد الرحمن بن أبي ليلى فأتاه رجل ذو (ضفرين) (١) ضخم فقال له: يا أبا عيسى قال له: نعم قال (له) (٢): حدثني ما سمعت في الفراء، فقال: ⦗٥٠٩⦘ سمعت أبي يقول كانت جالسًا عند النبي ﷺ (فأتاه) (٣) رجل فقال: يا رسول اللَّه أصلي في الفراء؟ (فقال) (٤): " (أين) (٥) الدباغ؟ " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا جس کی دو موٹی موٹی مینڈھیاں تھیں۔ اس نے ابن ابی لیلیٰ سے کہا : آپ نے چمڑا لگے لباس کے بارے میں جو بات سُن رکھی ہے وہ مجھے بیان کریں تو انہوں نے کہا میں نے اپنے والد کو کہتے سُنا ہے کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں چمڑا لگے کپڑے میں نماز پڑھ لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” دباغت کہاں گئی ؟ “
حدیث نمبر: 26373
٢٦٣٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن أيوب عن محمد ونافع أن عائشة أمرت إنسانًا من أهلها إذا صلى أن يضع فروه (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد اور حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو فرمایا تھا کہ جب نماز پڑھو تو اپنے چمڑے والے کپڑے اتار دو ۔
حدیث نمبر: 26374
٢٦٣٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن ابن (جبر) (١)، (قال: رأيت على سعيد بن جبير) (٢) (مستقة) (٣) فراء فقال: ما لبستها إلا (لتُرى) (٤) عليَّ أو لأسأل عنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جبیر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعیدبن جُبیر پر بڑی بڑی آستین والا چمڑے کا کپڑا دیکھا۔ انہوں نے فرمایا : میں نے اس لباس کو صرف اس لیئے پہنا ہے تاکہ یہ میرے جسم پر نظر آئے …یا فرمایا … تاکہ مجھ سے اس لباس کے بارے میں پوچھا جائے۔
حدیث نمبر: 26375
٢٦٣٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) وكيع عن هشام عن قتادة عن سعيد ابن المسيب أنه قال في الفراء من جلود الميتة: لوددت أن عندي منها فرو (لين) (٢) فألبسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، حضرت سعید بن مسیب کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مردار کی کھال سے بننے والے لباس کے بارے میں فرمایا : مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرے پاس اس چمڑے سے بنا ہوا لباس ہو اور میں اس کو پہنوں۔
حدیث نمبر: 26376
٢٦٣٧٦ - حدثنا أبو بكر (١) قال: حدثنا يونس بن محمد عن سلام بن أبي مطيع قال: حدثني (أبو) (٢) حصين عن الشعبي قال: خرجت مع أبي وائل حتى أتينا الفرائين، فاشترى فروا فقال صاحب الفرو: أما إني أزيدك يا أبا وائل، إنه ذكي، فقال: ما يسرني أني اشتريت الذي قلت بقيراط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو وائل کے ہمرا ہ باہر نکلا ۔ یہاں تک کہ ہم چمڑے سے بنے ہوئے لباس بیچنے والوں کے پاس پہنچے۔ اور حضرت ابو وائل نے وہ لباس خریدا۔ لباس (بیچنے) والے نے کہا۔ اے ابو وائل ! مں۔ آپ سے زیادہ (پیسے) لوں گا کو ن کہ یہ پاک (کردہ کھال کا) ہے۔ حضرت وائل نے کہا۔ جو بات تم نے کہی ہے میں اس کو ایک قیراط میں خریدوں گا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے۔ حضرت ابو حصین کہتے ہیں۔ کہ ابراہیم بھی یہ کہا کرتے تھے اور حضرت سعید بن جُبیر بھی یہ بات کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 26377
٢٦٣٧٧ - قال (أبو) (١) حصين: وكان إبراهيم يقول ذلك.
حدیث نمبر: 26378
٢٦٣٧٨ - وكان سعيد بن جبير يقول ذلك.