کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: عقیقہ کے بارے میں، بچہ کی طرف سے کتنے اور بچی کی طرف سے کتنے (جانور)
حدیث نمبر: 25820
٢٥٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي (يزيد) (٢) عن أبيه عن (سباع بن) (٣) ثابت عن أم كرز عن النبي ﷺ قال: "عن الغلام ⦗٣٦٣⦘ شاتان (مكافئتان) (٤) وعن الجارية شاة لا يضركم إناثًا كن أم ذكرانا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام کرز، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” بچہ کی طر ف سے دو پوری بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری۔ “ اس بات سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا کہ وہ بکریاں ہوں یا بکرے ہوں۔ “
حدیث نمبر: 25821
٢٥٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عطاء عن حبيبة بنت ميسرة عن (أم كرز) (١) سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: " (عن) (٢) الغلام (شاتان) (٣) (مكافئتان) (٤) و (عن) (٥) الجارية شاة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام کرز سے روایت ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سُنا۔ ” بچہ کی طرف سے دو پوری بکریاں اور بچہ کی طرف سے ایک بکری۔ “
حدیث نمبر: 25822
٢٥٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن أسلم عن عطاء أن أم السباع سألت رسول اللَّه ﷺ أعق عن (أولادي) (١) قال: "نعم عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے کہ حضرت ام السباع نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ کیا میں اپنی اولاد کی طرف سے عقیقہ کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہاں۔ “ بچہ کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری۔ “
حدیث نمبر: 25823
٢٥٨٢٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن عطاء عن ابن عباس قال: عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بچے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری۔ “
حدیث نمبر: 25824
٢٥٨٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن داود بن قيس عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: سئل النبي ﷺ عن العقيقة (قال) (١): "لا أحب (العقوق) (٢)، من وُلد له (٣) مولود فأحب أن ينسك عنه، فليفعل: عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب، اپنے والد سے ، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں (والدین کی) نافرمانی کرنے کو پسند نہیں کرتا۔ جس آدمی کے بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے قربانی کرنے کو پسند کرے تو اس کو قربانی کرنی چاہیے، بچہ کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری۔ “
حدیث نمبر: 25825
٢٥٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شهاب بن محمد (الغاضري) (١) عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: في العقيقة (شاتان) (٢) (مكافئتان) (٣) وعن الجارية شاة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عقیقہ میں دو پوری بکریاں ہیں اور بچی کی طرف سے ایک بکری ہوگی۔
حدیث نمبر: 25826
٢٥٨٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن (عبد اللَّه) (١) بن عثمان عن يوسف بن ماهك عن حفصة بنت عبد الرحمن عن ⦗٣٦٥⦘ عائشة أنها قالت: أمرنا رسول اللَّه ﷺ أن نعق عن الغلام (شاتين) (٢)، وعن الجارية شاة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفصہ بنت عبد الرحمن، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے ارشاد فرمایا : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عقیقہ کریں بچہ کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری۔
حدیث نمبر: 25827
٢٥٨٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن عبد الملك عن عطاء عن عائشة قالت: السنة عن الغلام شاتان (مكافئتان) (١) (وعن الجارية شاة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ غلام (بچہ) کی طرف سے دو پوری بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری کا (عقیقہ کرنا) سُنت ہے۔