حدیث نمبر: 25796
٢٥٧٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي الزبير عن جابر ⦗٣٥٥⦘ أن أبا حميد أتى النبي ﷺ بشراب وهو في البقيع (١) فقال: ألا خمرته، ولو تعرض عليه عودا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضرت ابو حمید، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کوئی مشروب لے کر حاضر ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع میں تھے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اس کو ڈھانپ کیوں نہیں لیا۔ اگرچہ اس پر عرضاً لکڑی ہی رکھ دی جاتی۔ “
حدیث نمبر: 25797
٢٥٧٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (فطر) (١) عن أبي الزبير عن جابر قال: قال: رسول اللَّه ﷺ: "غلقوا أبوابكم، وخمروا آنيتكم، و (أوكلوا) (٢) (أسقيتكم) " (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے دروازے بند کرلیا کرو۔ اور اپنے برتن ڈھانپ لیا کرو۔ اور اپنے مشکیزوں (کے منہ) کو باندھ لیا کرو۔ “
حدیث نمبر: 25798
٢٥٧٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن يونس بن أبي إسحاق عن أبي (الوداك) (١) (جبر) (٢) بن (نوف) (٣) عن أبي سعيد الخدري قال: كنا نؤمر أن نوكئ الأسقية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم مشکیزوں کو باندھ لیں۔
حدیث نمبر: 25799
٢٥٧٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (حبيب بن جري) (١) عن ⦗٣٥٦⦘ أبي جعفر قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعجبه الإناء (المطبق) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپا ہوا برتن پسند تھا۔
حدیث نمبر: 25800
٢٥٨٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن (أبي جعفر) (١) محمد بن عبد الرحمن بن يزيد عن زاذان قال: إذا بات الإناء غير مخمر تفل فيه الشيطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب برتن رات اس حالت میں پڑا رہے کہ وہ ڈھانپا نہ ہوا ہو تو شیطان اس میں تھوک دیتا ہے۔ پس میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا۔ یا اس پانی میں سے شیطان پی لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 25801
٢٥٨٠١ - (فذكرت) (١) ذلك لإبراهيم فقال: أو شرب منه.
حدیث نمبر: 25802
٢٥٨٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سلام بن القاسم (عن) (١) أمه عن أم سعيد (قالت) (٢): أتيت عليا بسحور، فوضعته بين يديه وهو يصلي، فلما صلى قال: هلا (خمرتيه) (٣)، هل رأيت الشيطان حين ولغ فيه؟ أهرقيه، وأبى أن يشربه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سعید سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سحری لے کر حاضر ہوئی اور میں نے وہ سحری آپ کے سامنے رکھ دی۔ اور آپ تب نماز پڑھ رہے تھے۔ پھر جب آپ نماز پڑھ چکے تو فرمایا : تم نے اس کو ڈھانپ کیوں نہیں دیا۔ جب شیطان نے اس میں مُنہ مارا تو کیا تو نے دیکھا ؟ اس کو گرا دو ۔ آپ نے اس کو پینے سے انکار فرما دیا۔