کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: منہ لگا کر … نہر وغیرہ سے …پینے کے بیان میں
حدیث نمبر: 25791
٢٥٧٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (ابن) (١) أبي ذئب عن منذر بن أبي المنذر قال: رأيت ابن عباس يكرع في حوض زمزم وهو قائم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منذر بن ابو المنذر سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس حال میں دیکھا کہ وہ زم زم کے حوض سے منہ لگا کر پانی پی رہے تھے اور وہ ا س وقت کھڑے ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25791
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25791، ترقيم محمد عوامة 24695)
حدیث نمبر: 25792
٢٥٧٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (علية) (١) عن عمارة عن عكرمة أنه كره الكرع في (النهر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ، حضرت عکرمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ نہر سے منہ لگا کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25792
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25792، ترقيم محمد عوامة 24696)
حدیث نمبر: 25793
٢٥٧٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد عن فليح بن سليمان عن سعيد بن الحارث عن جابر بن عبد اللَّه قال: دخل رسول اللَّه ﷺ على رجل من الأنصار وهو يُؤتِّى الماء في حائطه، ومعه صاحب له، فقال رسول اللَّه ﷺ: "هل عندك ماء بات في هذه الليلة في شن (وإلا) (١) كرعنا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار میں سے ایک آدمی کے ہاں تشریف لے گئے۔ وہ صاحب اپنے باغ کے لئے پانی کا راستہ بنا رہے تھے۔ اور ان کے ساتھ ان کا ایک ساتھی بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تمہارے پاس کوئی ایسا پانی ہے جو اس رات کسی لگن وغیرہ میں موجود ہو۔ وگرنہ ہم منہ لگا کر (ندی سے ہی) پی لیتے ہیں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25793
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ فليح بن سليمان صدوق، وأخرجه البخاري (٥٦١٣)، وأحمد (١٤٨٢٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25793، ترقيم محمد عوامة 24697)
حدیث نمبر: 25794
٢٥٧٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن ليث عن سعيد بن عامر (عن ابن عمر) (١) قال: مررنا مع رسول اللَّه ﷺ على برك ماء، فجعلنا نكرع فيها، فقال: "لا تكرعوا، ولكن اغسلوا أيديكم واشربوا فيها، فإنه ليس من إناء أطيب من اليد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ پانی کے ایک حوض پر سے گزرے۔ پس ہم نے اس سے منہ لگا کر پینا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’ ’ منہ لگا کر نہ پیو۔ “ بلکہ تم اپنے ہاتھ دھو لو اور ہاتھوں سے پیو۔ کیونکہ ہاتھ سے زیادہ کوئی برتن زیادہ پاکیزہ نہیں ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25794
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ليث، أخرجه أحمد (٦٢١٧)، وابن ماجه (٣٤٣٣)، وأبو يعلى (٥٧٠١)، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٥٣٠)، وعبد الرزاق (١٩٥٩٦)، والمزي ١٠/ ٥١٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25794، ترقيم محمد عوامة 24698)
حدیث نمبر: 25795
٢٥٧٩٥ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا بشر بن (المفضل) (٢) عن عبد اللَّه بن عثمان قال: أفضت مع سعيد بن جبير عشية النحر، فأتى حوضا فيه ماء زمزم، فغرف بيده فشرب منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عثمان سے روایت ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جُبیر کے ساتھ یوم النحر کی شام واپس ہوا۔ پس وہ ایک حوض کے پاس پہنچے جس میں زم زم کا پانی تھا۔ تو انہوں ں نے اپنے ہاتھ سے چلو بنا کر پانی لیا اور پھر اس چلو سے پیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25795
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25795، ترقيم محمد عوامة 24699)