کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات کہتے ہیں جب (کوئی مشروب) تمہیں سخت محسوس ہو تو تم اس کو پانی ملا کر توڑ ڈالو
حدیث نمبر: 25784
٢٥٧٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم عن همام بن الحارث قال: أتي عمر بنبيذ زبيب، فشرب منه، فقطب فدعا بماء فصبه عليه، ثم شرب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہمام بن حارث سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس کشمش کی نبیذ لائی گئی۔ پس آپ نے اس میں سے نوش فرمائی۔ پھر آپ نے اس میں آمیزش کی۔ چناچہ آپ نے پانی منگوایا اور اس کو نبیذ میں انڈیل دیا پھر نوش فرمایا۔
حدیث نمبر: 25785
٢٥٧٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن (أبي) (١) عون قال: أتى عمر قوما من ثقيف قد حضر طعامهم (فقال: كلوا) (٢) الثريد قبل اللحم، فإنه يسد مكان (الخلل) (٣)، وإذا اشتد نبيذكم فاكسروه بالماء، ولا تسقوه الأعراب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر قبیلہ ثقیف کے کچھ لوگوں کے ہاں اس وقت تشریف لائے جب ان لوگوں کا کھانا حاضر تھا۔ پس آپ نے فرمایا : گوشت کھانے سے پہلے ثرید کھاؤ۔ کیونکہ یہ خلل کی جگہ کو پُر کرتی ہے اور جب تمہاری نبیذ سخت ہوجائے تو تم اس کو پانی کے ذریعہ سے توڑ دو اور یہ نبیذ دیہاتیوں کو نہ پلاؤ۔
حدیث نمبر: 25786
٢٥٧٨٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (شعبة عن) (١) (شمسية) (٢) ⦗٣٥٢⦘ (قالت) (٣): (سمعت) (٤) عائشة: تقول إن خشيت من نبيذك فاكسره بالماء] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمیہ سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سُنا۔ اگر تمہیں اپنی نبیذ سے خوف ہو تو تم اس کو پانی سے توڑ دو ۔
حدیث نمبر: 25787
٢٥٧٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن قرة العجلي عن عبد الملك بن القعقاع عن ابن عمر قال: كنا عند النبي ﷺ، فأتي بقدح فيه شراب، فقربه إلى فيه، ثم رده، [فقال (له) (١) بعض جلسائه: أحرام هو يا رسول اللَّه، قال: (ردوه) (٢)] (٣)، فردوه، ثم دعا بماء فصبه عليه ثم شربه فقال: انظروا هذه الأشربة، فإذا اغتلمت عليكم فاقطعوا (متونها) (٤) (٥) بالماء (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پیالہ کو اپنے منہ کے قریب کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس رکھ دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض مجلس نشینوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہ حرام ہے ؟ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا۔ ” اس مشروب کو واپس لاؤ۔ “ چناچہ صحابہ نے وہ مشروب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس میں انڈیل دیا۔ اور پھر اس کو نوش فرما لیا۔ اور ارشاد فرمایا : ان مشروبات کو دیکھ لیا کرو۔ پس جب یہ تم پر سخت ہوجائیں تو تم ان کی شدت کو پانی سے توڑ لیا کرو۔ “
حدیث نمبر: 25788
٢٥٧٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن المبارك عن يحيى بن أبي (كثير) (١) عن سالم الدوسي أنه سمع أبا هريرة يقول: من رابه من نبيذه فليشن عليه الماء، فيذهب حرامه ويبقى حلاله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم دوسی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ کو کہتے سُنا ۔ جس آدمی کو اس کی نبیذ شک میں ڈالے تو اس کو اس نبیذ پر پانی چھڑ ک لینا چاہیئے۔ پس اس کا حرام چلا جائے گا اور اس کا حلال باقی رہ جائے گا۔
حدیث نمبر: 25789
٢٥٧٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عكرمة بن عمار عن (أبي) (١) كثير الحنفي عن أبي هريرة قال: من رابه من شرابه شيء فليكسره بالماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ جس شخص کو اس کا مشروب شک میں ڈالے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اس مشروب کو پانی سے پتلا کرلے۔
حدیث نمبر: 25790
٢٥٧٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عبد الواحد بن أيمن عن أبيه عن نافع بن عبد الحارث قال: قال: عمر اشربوا هذا النبيذ في هذه الأسقية، (فإنه يقيم) (١) الصلب، ويهضم ما في البطن، وإنه (لن) (٢) يغلبكم ما وجدتم الماء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع بن عبد الحارث سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کا ارشاد ہے۔ اس نبیذ کو ان اسقیہ یعنی برتنوں میں پی لو۔ کیونکہ یہ پشت کو سیدھی رکھتی ہے اور پیٹ میں موجود غذا کو ہضم کرتی ہے۔ اور جب تک تمہیں پانی ملتا ہو یہ مشروب تم پر غالب نہیں آئے گا۔