کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات ایک سانس میں پینے کی رخصت دیتے ہیں
حدیث نمبر: 25736
٢٥٧٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن سالم عن عطاء أنه كان لا يرى بالشرب بالنفس الواحد بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم ، حضرت عطاء کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک سانس میں پینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25736
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25736، ترقيم محمد عوامة 24642)
حدیث نمبر: 25737
٢٥٧٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد اللَّه بن يزيد قال: لم أر أحدا كان أعجلَ إفطارا (من) (١) سعيد بن المسيب، كان لا ينتظر مؤذنا، ويؤتى بقدح من ماء فيشربه بنفس واحد لا يقطعه حتى يفرغ منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے زیادہ افطار میں جلدی کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ آپ مؤذن کا انتظار نہیں کرتے تھے۔ (یعنی وقت ہوجانے کے بعد) ان کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا جاتا تھا پس وہ اس کو ایک ہی سانس میں اس طرح پی لیتے تھے کہ پینے کے دوران ختم ہونے تک سانس نہیں توڑتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25737
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25737، ترقيم محمد عوامة 24643)
حدیث نمبر: 25738
٢٥٧٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن أيوب قال: نبئت عن ميمون بن مهران قال: رآني عمر بن عبد العزيز وأنا أشرب، فجعلت أقطع شرابي وأتنفس فقال: إنما (نهي) (١) أن تتنفس في الإناء، فإذا لم تتنفس (في الإناء) (٢) فاشربه إن شئت بنفس واحد.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت میمون بن مہران کے بارے میں خبر ملی کہ وہ فرماتے ہیں ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس حالت میں دیکھا کہ میں پانی پی رہا تھا۔ پھر پانی پیتے ہوئے رُک جاتا اور سانس لیتا تو انہوں نے فرمایا صرف اس بات سے روکا گیا ہے کہ برتن کے اندر سانس لیا جائے۔ پس اگر تم برتن کے اندر سانس نہیں لیتے تو پھر تم اگر چاہو تو ایک ہی سانس میں پانی پی لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25738
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25738، ترقيم محمد عوامة 24644)
حدیث نمبر: 25739
٢٥٧٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن طاوس قال: رآني أبي ونحن نشرب بنفس واحد (فنهاني أو نهانا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طاؤس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں ۔ مجھے میرے والد صاحب نے اس حالت میں دیکھا کہ ہم ایک سانس میں پانی پی رہے تھے، پس انہوں نے ہمیں منع کر دیا… یا راوی کہتے ہیں …انہوں نے مجھے منع کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25739
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25739، ترقيم محمد عوامة 24645)
حدیث نمبر: 25740
٢٥٧٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن خالد عن عكرمة أنه كره (الشرب) (١) (٢) بنفس واحد وقال: هو (شرب) (٣) الشيطان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد، حضرت عکرمہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک سانس میں پانی پینے کو ناپسند سمجھتے تھے اور فرماتے یہ شیطان کا پینا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25740
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25740، ترقيم محمد عوامة 24646)