کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کچی ، پکی کھجور اور کشمش کو ملانے کے بارے میں، جو لوگ اس سے منع کرتے ہیں
حدیث نمبر: 25581
٢٥٥٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن (أبي) (١) إسحاق عن ⦗٣٠٠⦘ (بريد) (٢) بن أبي مريم عن أفس بن مالك قال: كنا (ننبذ) (٣) الرطب والبسر على عهد رسول اللَّه ﷺ، فلما نزل تحريم الخمر (أهرقناهما من) (٤) الأوعية، ثم تركناهما (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں کچی اور پکی کھجوروں کی نبیذ بنایا کرتے تھے، پھر جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو ہم نے ان دونوں کی نبی ذوں کو بھی برتنوں سے بہا دیا پھر ہم نے ان دونوں کو ترک کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25581
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الطحاوي (٤/ ٢١٣)، وانظر: ما سيأتي برقم [٢٥٥٩٩].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25581، ترقيم محمد عوامة 24488)
حدیث نمبر: 25582
٢٥٥٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (النجراني) (١) قال: قلت لعبد اللَّه بن عمر: إنا بأرض ذات تمر وزبيب، (فهل) (٢) (يخلط) (٣) التمر والزبيب فننبذهما جميعًا؟ قال: لا، قلت: لم؟ (قال) (٤): إن رجلًا سكر على عهد رسول اللَّه ﷺ فأتي به النبي وهو سكران، فضربه ثم سأله عن شرابه، (قال) (٥): شربت نبيذًا، (قال) (٦): أي نبيذ؟ قال: نبيذ تمر وزبيب، قال: قال النبي ﷺ: "لا تخلطوهما فإن كل واحد منهما يكفي وحده" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نجرانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا، ہم لوگ کھجوروں اور کشمش کی زمین میں ہوتے ہیں کیا اس بات کی اجازت ہے کہ کھجور اور کشمش کو ملا لیا جائے پھر ہم ان دونوں کی اکٹھی نبیذ بنالیں۔ انہوں نے جواب دیا، نہیں۔ میں نے پوچھا، کیوں ؟ انہوں نے جواباً فرمایا، ایک آدمی ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں حالت سکر میں تھا کہ اس کو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں اس حال میں لائے کہ وہ نشہ کی حالت میں تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مارا (یعنی مارنے کا حکم دیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے مشروب کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا میں نے نبیذ پی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ” کون سی نبیذ ؟ “ اس نے جواب دیا، کھجور اور کشمش کی نبیذ۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ان دونوں کو باہم خلط نہ کرو کیونکہ ان میں سے ہر ایک علیحدہ کافی ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25582
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25582، ترقيم محمد عوامة 24489)
حدیث نمبر: 25583
٢٥٥٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر العبدي عن حجاج (بن) (١) أبي عثمان عن يحيى بن أبي كثير عن عبد اللَّه بن أبي قتادة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ ⦗٣٠١⦘ قال: "لا تنتبذوا التمر والزبيب جميعًا، ولا تنتبذوا الزهو والرطب، وانتبذوا كل واحد منهما على حدة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابو قتادہ، اپنے والد کے واسطہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’ ’ تم کھجور اور کشمش کو اکٹھے نبیذ بنانے میں استعمال نہ کرو اور تم کچی ، پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ نہ بناؤ اور ان میں سے ہر ایک کی علیحدہ نبیذ بناؤ۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25583
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٠٢)، ومسلم (١٩٨٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25583، ترقيم محمد عوامة 24490)
حدیث نمبر: 25584
٢٥٥٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا الأعمش عن حبيب عن (أبي) (١) أرطأة عن أبي سعيد قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الزهو والتمر وعن الزبيب والتمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور اور کشمش اور کھجور سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25584
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25584، ترقيم محمد عوامة 24491)
حدیث نمبر: 25585
٢٥٥٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن حبيب عن سعيد بن جبير عن (ابن) (١) عباس قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يخلط التمر والزبيب جميعًا، وأن يخلط البسر والتمر جميعًا، وكتب إلى أهل (جرش) (٢) (نهاهم) (٣) عن خلط التمر والزبيب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کھجور اور کشمش کو باہم خلط کیا جائے اور نیم پختہ اور پختہ کھجور کو اکٹھا کیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل جُرش کو خط لکھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو کھجور اور کشمش اکٹھے کرنے سے منع کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25585
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٩٥)، وأحمد (٢٤٩٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25585، ترقيم محمد عوامة 24492)
حدیث نمبر: 25586
٢٥٥٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن (ابن) (١) جريج (عن عطاء) (٢) عن جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن ينبذ التمر والزبيب جميعًا، (والتمر والبسر جميعا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کھجور اور کشمش کو ملایا جائے اور پختہ اور نیم پختہ کھجور کے ملانے سے بھی منع کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25586
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٦٠١)، ومسلم (١٩٨٦)، وأحمد (١٤١٣٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25586، ترقيم محمد عوامة 24493)
حدیث نمبر: 25587
٢٥٥٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن (ابن) (١) عون عن محمد عن عقبة بن عبد الغافر قال: كان أبو سعيد الخدري ينهى أن يجمع بين التمر والزبيب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت عقبہ بن عبد الغافر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری کھجور اور کشمش کو ملانے سے منع کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25587
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25587، ترقيم محمد عوامة 24494)
حدیث نمبر: 25588
٢٥٥٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن حميد عن عكرمة عن (ابن) (١) عباس أنه كان يكره البسر وحده، وأن يجمع بينه وبين التمر، ولا يرى بأسًا بالتمر والزبيب، ويقول: حلالان اجتمعا (و) (٢) تفرقا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ اکیلے نیم پختہ کھجور کو ناپسند کرتے تھے۔ اور اس بات کو بھی ناپسند کرتے تھے کہ نیم پختہ اور پختہ کھجور کو اکٹھا کیا جائے۔ لیکن وہ کشمش اور کھجور کو اکٹھے کرنے میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے اور فرماتے تھے، یہ دونوں حلال چیزیں ہیں، اکٹھی ہوں یا علیحدہ علیحدہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں حسن کھجور اور کشمش کو جمع کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25588
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25588، ترقيم محمد عوامة 24495)
حدیث نمبر: 25589
٢٥٥٨٩ - قال: وكان الحسن يكره أن يجمع بين التمر والزبيب.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25589
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25589، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 25590
٢٥٥٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد عن سماك بن موسى الضبي قال: رأيت جارية أنس بن مالك (تقطع) (١) التذنيب من البسر، فتنبذه على حدة، (وتنبذ البسر على حده) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک بن موسیٰ ضبی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی لونڈی کو دیکھا کہ وہ نیم پختہ کھجوروں میں سے دم کی طرف سے پختہ کھجوروں کو توڑ رہی تھی، پس یہ لونڈی ان دم کی طرف سے پختہ کھجوروں کی نبیذ علیحدہ تیا کرتی تھی اور نیم پختہ کھجوروں کی نبیذ علیحدہ تیار کرتی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25590
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25590، ترقيم محمد عوامة 24496)
حدیث نمبر: 25591
٢٥٥٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن حاتم (بن) (١) أبي صغيرة عن أبي مصعب المدني قال: سمعت أبا هريرة يقول: لما حرمت الخمر كانوا يأخذون البسر فيقطعون منه كل مذنب، ثم يأخذ البسر (فيفضخه) (٢) ثم (يشربه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مصعب مدنی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو کہتے سُنا کہ جب حُرمتِ خمر کا حکم آیا تو لوگ نیم پختہ کھجوروں کو لیتے اور ان سے ہرمذنَّب (دُم پکی کھجور) کو کاٹ لیتے پھر نیم پختہ کو پکڑ کر درمیان سے چیر کر پانی میں ڈالتے اور پھر اس کو پی لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25591
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25591، ترقيم محمد عوامة 24497)
حدیث نمبر: 25592
٢٥٥٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محارب (١) عن جابر قال: البسر والتمر خمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ پختہ اور نیم پختہ کھجور (کا نبیذ) خمر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25592
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25592، ترقيم محمد عوامة 24498)
حدیث نمبر: 25593
٢٥٥٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس ومحمد بن فضيل عن يزيد عن مجاهد قال: سأل رجل عمر عن (الفضيخ) (١) (قال) (٢): (وما الفضيخ؟ قال) (٣): بسر (يفتضخ) (٤) ثم يخلط بالتمر، فقال: ذاك الفضوخ، قال: حرمت الخمر وما شراب غيره (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر سے فضیح کے بارے میں دریافت کیا ؟ تو انہوں نے پوچھا، فضیح کیا ہوتی ہے ؟ اس آدمی نے جواب دیا نیم پختہ کھجور کو شق کر کے پختہ کھجور کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ پھر اس نے کہا یہ فضوح ہے۔ آپ نے فرمایا : شراب حرام کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی شراب نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25593
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ يزيد ضعيف، ومجاهد لا يروي عن ابن عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25593، ترقيم محمد عوامة 24499)
حدیث نمبر: 25594
٢٥٥٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن أبي الزبير عن جابر قال: (كان) (١) يكره خلط البسر والتمر، والزبيب (والتمر) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الزبیر، حضر ت جابر کے بارے میں روایت کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ وہ پختہ اور نیم پختہ کھجوروں کے ملانے اور کشمش ، کھجور کے ملانے کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25594
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أشعث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25594، ترقيم محمد عوامة 24500)
حدیث نمبر: 25595
٢٥٥٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن يزيد بن كيسان قال: سألت أبا الشعثاء جابر بن زيد عن (الفضيخ) (١) قال: وما (الفضيخ؟) (٢) قلت: ⦗٣٠٤⦘ البسر والتمر، فقال: واللَّه لأن تأخذ الماء فتغليه، فتجعله في بطنك، خير من أن تجمعهما جميعا في بطنك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن کیسان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الشعثاء حضرت جابر بن زید سے فضیخ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے پوچھا : فضیخ کیا ہے ؟ میں نے بتایا، پختہ اور نیم پختہ کھجور۔ اس پر انہوں نے فرمایا : خدا کی قسم ! اگر تم سادہ پانی ہی لے لو اور اس کو جوش دے لو پھر اس کو تم اپنے پیٹ میں ڈال دو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم پختہ اور نیم پختہ کھجوروں کو اکٹھے اپنے پیٹ میں جمع کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25595
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25595، ترقيم محمد عوامة 24501)
حدیث نمبر: 25596
٢٥٥٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم (عن) (١) أشعث عن ثابت (ابن) (٢) عبيد قال: كان أبو مسعود الأنصاري يأمر أهله بقطع (المذنب) (٣) من البسر، فينبذ كل واحد منهما على حدة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت بن عبید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو مسعود انصاری اپنے گھر والوں کو نیم پختہ کھجور سے مذنب (دُم پکی کھجور) علیحدہ کرنے کا حکم دیتے تھے پھر ان میں سے ہر ایک کھجور کی علیحدہ نبیذ بناتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25596
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أشعث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25596، ترقيم محمد عوامة 24502)
حدیث نمبر: 25597
٢٥٥٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا المثنى بن عوف قال: حدثنا أبو عبد اللَّه (الجسري) (١) عن معقل بن يسار أنه (سأله) (٢) (عن) (٣) الشراب فقال: كنا بالمدينة وكانت كثيرة التمر، فحرم علينا رسول اللَّه ﷺ (الفضيخ) (٤) قال: جاء رجل يسأله عن أمه قد بلغت سنًا لا تأكل الطعام: (يسقيها) (٥) النبيذ؟ (قال) (٦): قلت له: يا معقل بن يسار (٧) (ما) (٨) أمرته به؟ ⦗٣٠٥⦘ قال: أمرته أن لا يسقيها (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد اللہ جسری، حضرت معقل بن یسار کے بارے مں ؟ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معقل سے شراب کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا، ہم مدینہ میں ہوتے تھے اور وہ کھجوروں کی کثرت والا علاقہ تھا۔ لیکن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر فضیخ کو حرام فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے اپنی والدہ کے بارے میں ان سے سوال کیا کہ اس کی والدہ عمر کے اس حصہ کو پہنچ گئی ہے کہ جہاں وہ کھانا نہیں کھا سکتی تو کیا سائل اپنی والدہ کو نبیذ پلا دے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا، اے معقل بن یسار ! آپ نے اسے اس کے بارے میں کیا حکم دیا ؟ انہوں نے کہا، میں نے اس کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنی والدہ کو نبیذ نہ پلائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25597
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٠٢٩٩) وفي الأشربة (١٨٤)، والطيالسي (٩٣٤)، وابن قانع ٣/ ٧٩، والطبراني ٢٥/ (٥٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25597، ترقيم محمد عوامة 24503)
حدیث نمبر: 25598
٢٥٥٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن (التيمي) (١) عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن التمر والزبيب (يخلطان) (٢)، وعن (البسر) (٣) (والتمر) (٤) يخلطان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور اور کشمش کے ملانے سے منع کیا ہے اور پختہ ، نیم پختہ کھجوریں جو ملائی جاتی ہیں ان سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25598
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٨٧)، وأحمد (١١٠٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25598، ترقيم محمد عوامة 24504)
حدیث نمبر: 25599
٢٥٥٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن أنس بن مالك قال: كنا في بيت أبي طلحة ومعنا سهيل بن بيضاء وأبي بن كعب وأبو عبيدة، وهم يشربون شرابًا لهم، إذ نادى منادٍ: ألا إن الخمر قد حرمت، فواللَّه ما نظروا (أصدق أم) (١) كذب، حتى قالوا: يا أنس أكفئ (ما) (٢) بقي في الإناء، (فأكفأناه) (٣)، وهو يومئذ البسر والتمر، فواللَّه ما عادوا فيها (حتى) (٤) لقوا اللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو طلحہ کے گھر میں تھے اور ہمارے ساتھ حضرت سہیل بن بیضا ، حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابو عبیدہ تھے اور یہ لوگ شراب پی رہے تھے کہ اسی دوران ایک منادی نے آواز دی۔ خبردار ! شراب حرام قرار دے دی گئی ہے۔ پس خدا کی قسم ! ان حضرات نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ بات سچی ہے یا جھوٹی ہے، یہاں تک کہ انہوں نے یہ کہہ دیا۔ اے انس ! برتنوں میں جو شراب باقی رہ گئی ہے وہ الٹ دو ۔ پس ہم نے وہ بقیہ شراب الٹ دی اور اس دن یہ شراب پختہ اور نیم پختہ کھجور سے تیار کردہ تھی۔ پس خدا کی قسم ! پھر یہ لوگ موت تک دوبارہ اس کی طر ف نہیں لوٹے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25599
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٥٨٢)، ومسلم (١٩٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25599، ترقيم محمد عوامة 24505)
حدیث نمبر: 25600
٢٥٦٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن يحيى عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "لا تجمعوا بين الزهو والرطب ⦗٣٠٦⦘ والزبيب والتمر، انبذوا كل واحد منهما على حدة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ ، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کچی اور پکی کھجور کو جمع نہ کرو اور کشمش اور کھجور کو بھی جمع نہ کرو، ان میں سے ہر ایک کی علیحدہ طور پر نبیذ بناؤ۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25600
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن مصعب صدوق، أخرجه مسلم (١٩٨٩)، والنسائي (٨/ ٢٩٣)، وابن ماجه (٣٣٩٦)، وابن حبان (٥٣٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25600، ترقيم محمد عوامة 24506)
حدیث نمبر: 25601
٢٥٦٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاوية بن هشام عن عمار بن (رزيق) (١) عن (ابن) (٢) أبي ليلى عن الحكم (عن) (٣) عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: كان الرجل يمر على أصحاب النبي ﷺ وهم متوافرون، فيلعنونه ويقولون: هذا يشرب الخليطين: الزبيب والتمر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ کوئی (مخلوط مشروب پینے والا) آدمی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کے پاس سے گزرتا جبکہ صحابہ کرام کثیر تعداد میں موجود ہوتے تو وہ اس کو لعن طعن کرتے اور کہتے، یہ شخص خلیطین یعنی کشمش اور کھجور کو ملا کر پیتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25601
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25601، ترقيم محمد عوامة 24507)