کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: طلاء کے بارے میں جن لوگوں نے کہا ہے کہ جب اس کے دو تہائی ختم ہو جائیں تو پھر تم اس کو پی لو
حدیث نمبر: 25553
٢٥٥٥٣ - حدثنا أبو بكر (١) (عبد اللَّه بن (محمد) (٢) بن أبي شيبة) (٣) قال: حدثنا علي بن مسهر عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس أن أبا عبيدة ومعاذ بن جبل وأبا طلحة كانوا يشربون من الطلاء ما ذهب ثلثاه وبقي ثلثه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ابو عبیدہ ، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو طلحہ ایسا طلاء (شیرہ انگور کا پختہ مشروب) پیا کرتے تھے، جس کے دو تہائی ختم ہوگئے ہوں اور اس کا ایک تہائی باقی ہو۔
حدیث نمبر: 25554
٢٥٥٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن داود بن أبي هند قال: سألت سعيد بن المسيب عن الشراب الذي كان عمر بن الخطاب ⦗٢٩٢⦘ أجازه للناس، قال: هو الطلاء الذي قد طبخ حتى ذهب ثلثاه وبقي ثلثه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن ابی ہند سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب سے اس مشروب کے بارے میں دریافت کیا جس کی حضرت عمر نے لوگوں کے لئے اجازت دے رکھی تھی ؟ حضرت سعید نے جواب دیا۔ یہ وہ طلاء تھا جس کے دو تہائی ختم ہوجائیں اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔
حدیث نمبر: 25555
٢٥٥٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن ميمون عن أم الدرداء [(قالت) (١): كنت (٢) أطبخ لأبي الدرداء الطلاء ما ذهب ثلثاه وبقي ثلثه فيشربه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام دردائ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں حضرت ابو الدرداء کے لئے وہ طلاء پکایا کرتی تھی۔ جس کا دو تہائی حصہ ختم ہوجاتا اور ایک تہائی باقی رہ جاتا، پس حضرت ابو الدرداء اس کو نوش فرما لیتے۔
حدیث نمبر: 25556
٢٥٥٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن ميمون عن أم الدرداء] (١) عن أبي الدرداء أنه كان يشرب من الطلاء ما ذهب ثلثاه وبقي ثلثه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام دردائ ، حضرت ابو الدرداء کے بارے میں روایت کرتی ہیں کہ وہ اس طرح کا طلاء پیتے تھے جس کے دو تہائی ختم ہوگئے ہوں اور ایک تہائی باقی بچ گیا ہو۔
حدیث نمبر: 25557
٢٥٥٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن الحسن بن عمرو عن فضيل بن عمرو قال: قلت لإبراهيم ما ترى في الطلاء؟ (قال) (١): ما ذهب ثلثاه وبقي ثلثه، (وما أرى بالمنصف بأسًا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن عمرو سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا۔ آپ کی طلاء کے بارے میں کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ طلاء جس کے دو تہائی چلے جائیں اور اس کا ایک تہائی باقی رہ جائے اور میں آدھی ختم ہونے والی طلاء میں بھی کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 25558
٢٥٥٥٨ - (١) حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع بن الجراح عن أبان بن عبد اللَّه البجلي عن رجل قد سماه قال: كان علي يرزق الناس من الطلاء ما ذهب ثلثاه وبقي ثلثه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابان بن عبد اللہ بجلی، ایک آدمی کا نام لے کر اس سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو وہ طلاء وظیفہ میں دیتے تھے جس کے دو تہائی ختم ہوگئے ہوں اور ایک تہائی باقی ہو۔
حدیث نمبر: 25559
٢٥٥٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) (بشير) (٢) بن الهاجر عن الحسن قال: اشرب (٣) من الطلاء ما ذهب ئلثاه وبقي ثلثه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جس (طلائ) کا دو تہائی حصہ ختم ہوجائے اور اس کا ایک تہائی رہ جائے اس کو پی لو۔
حدیث نمبر: 25560
٢٥٥٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (سعد) (١) بن أوس عن أنس بن سيرين قال: كان أنس بن مالك سقيم البطن، فأمرني أن أطبخ له طلاء حتى ذهب ثلثاه وبقي ثلثه، فكان (يشرب) (٢) منه (الشربة) (٣) على إثر الطعام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن سیرین سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا پیٹ خراب تھا۔ پس انہوں نے مجھے اس بات کا حکم دیا کہ میں ان کے لئے طلاء کو اس قدر پکاؤں کہ اس کا دو تہائی حصہ ختم ہوجائے اور ایک تہائی حصہ رہ جائے، پس حضرت انس اس طلاء میں سے کھانے کے بعد ایک گھونٹ پیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25561
٢٥٥٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن حكيم بن جبير عن إبراهيم قال: أشرب من الطلاء ما ذهب ثلثاه وبقي ثلثه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایسا طلاء جس کا دو تہائی ختم ہوگیا ہو اور ایک تہائی رہ گیا ہو۔ اس کو تم پی لو۔
حدیث نمبر: 25562
٢٥٥٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن يعلى بن عطاء قال: سمعت أعرابيا (سأل) (١) سعيد بن المسيب عن الطلاء على النصف (فكرهه) (٢) وقال: عليك باللبن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن عطاء سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دیہاتی کو سُنا کہ و ہ حضرت سعید بن مسیب سے آدھی رہ جانے والی طلاء کے بارے میں سوال کر رہا تھا ؟ تو حضرت سعید بن مسیب نے اس کو ناپسند سمجھا اور فرمایا : تمہیں دودھ لازم پکڑ نا چاہیے۔
حدیث نمبر: 25563
٢٥٥٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن ادريس عن يزيد (عن) (١) عبد الرحين بن أبي ليلى وأبي جحيفة (قال) (٢): كان علي يرزقنا الطلاء، قال: ⦗٢٩٤⦘ قلت: كيف كان؟ قال: كنا (نأتدمه) (٣) بالخبز و (نحتاسه) (٤) بالماء (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید، حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اور حضرت ابو جحیفہ سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیں عطیہ میں طلاء دیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں، میں نے پوچھا یہ کیا ہوتا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہم اس کو روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر استعمال کرتے تھے اور ہم اس کو پانی کے ساتھ خلط کرلیتے تھے۔ (یعنی و ہ گاڑھا ہوتا تھا۔ )
حدیث نمبر: 25564
٢٥٥٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن علي بن سليم قال: سمعت أنسًا يقول: إني لأشرب الطلاء الحلو (القارص) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن سلیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس کو کہتے سُنا کہ میں انتہائی شدید میٹھا طلاء نوش کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 25565
٢٥٥٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد [عن معاوية بن صالح عن سالم بن سالم قال: دخلت على أبي أمامة وهو يشرب طلاء الرب (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن سلام سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ شیرہ کا طلاء نوش کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 25566
٢٥٥٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد] (١) عن عثمان بن قيس قال: خرجت مع (جرير) (٢) يوم الجمعة إلى حمام له بالعاقول، فأتينا بطعام فأكلنا، ثم أتينا بعسل وطلاء، فقال: جرير اشربوا أنتم العسل، وشرب (هو) (٣) الطلاء وقال: إنه يستنكر منكم ولا يستنكر مني، قلت أي (الطلاء) (٤) ⦗٢٩٥⦘ هو؟ قال: كنت أجد ريحه كمكان تلك، و (أومأ) (٥) بيده إلى أقصى حلقة في القوم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن قیس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن جریر کے ہمراہ مقام عاقول میں ان کے حمام کی طرف نکلا، پس ہمارے پاس کھانا لایا گیا، جس کو ہم نے کھایا، پھر ہمارے پاس شہد اور طلاء لایا گیا، جریر نے کہا : تم لوگ شہد پیو اور انہوں نے خود طلاء پیا، اور کہنے لگا۔ یہ (طلائ) پینا تمہاری طرف عجیب سمجھا جائے گا لیکن میری طرف سے عجیب نہیں سمجھا جائے گا۔ میں نے پوچھا، یہ کون سا طلاء ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں اس کی بُو کو فلاں جگہ سے پا لیتا ہوں اور (یہ کہہ کر) انہوں نے لوگوں میں سے جو سب سے دور بیٹھا ہوا گروہ تھا اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 25567
٢٥٥٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير (قال: حدثنا) (١) إسماعيل ابن أبي خالد عن المغيرة بن (المنتشر) (٢) ابن أخي مسروق قال: قلت له كان مسروق (يشرب) (٣) الطلاء؟ قال: نعم، كان يطبخه ثم يشربه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق کے برادر زادہ، مغیرہ بن منتشر سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے مغیرہ سے پوچھا۔ کیا حضرت مسروق طلاء پیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں۔ حضرت مسروق اس کو پکاتے پھر نوش فرماتے ۔
حدیث نمبر: 25568
٢٥٥٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا إسماعيل عن أبي جرير عن النضر بن أنس قال: (غزا) (١) أبو عبيدة بن الجراح فأتى أرض الشام فقيل لأبي عبيدة: إن ههنا (شرابًا) (٢) (تشربه) (٣) النصارى في صومهم، قال: فشرب منه أبو عبيدة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نضر بن انس سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح سفر جہاد میں تھے کہ آپ ملک شام کی زمین میں تشریف لائے، تو حضرت ابو عبیدہ سے کہا گیا۔ یہاں پر ایک مشروب ایسا ہے جس کو نصاریٰ اپنے روزوں میں پیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابو عبدسہ نے اس مشروب کو نوش فرمایا۔
حدیث نمبر: 25569
٢٥٥٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا إسماعيل عن مغيرة عن شريح أن خالد بن الوليد كان يشرب الطلاء بالشام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح سے یہ روایت ہے کہ حضرت خالد بن الولید ملک شام میں طلاء پیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25570
٢٥٥٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن يحيى (١) أبي (عمر) (٢) قال: ذكر عند ابن عباس الطلاء، وذكروا طبخه، فقال ابن عباس: إن النار لا تحل شيئا ولا تحرمه؛ لأن أوله كان حلالًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبید ابی عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے طلاء کا ذکر ہوا اور لوگوں نے اس کے پکانے کا بھی ذکر کیا۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ آگ کسی چیز کو حلال کرتی ہے اور نہ ہی حرام کرتی ہے، کیونکہ یہ تو شروع ہی سے حلال تھی۔
حدیث نمبر: 25571
٢٥٥٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن الأعمش عن الحكم عن شريح أنه كان يشرب الطلاء الشديد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم ، حضرت شریح کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ انتہائی شدید طلاء پیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25572
٢٥٥٧٢ - (١) حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن علي بن (بذيمة) (٢) عن أبي عبيدة (٣) أنه كان يشرب الطلاء عند مروان ما يحمر (وجنتيه) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن بذیمہ، حضرت ابو عبیدہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ مروان کی موجودگی میں اس طرح کا طلاء پیتے تھے کہ جس سے ان کے رخسار سُرخ ہوجاتے تھے۔
حدیث نمبر: 25573
٢٥٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم أنه كان يشتري الطلاء ممن لا يدري من صنعه، ثم يشربه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش، ابراہیم کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں سے بھی طلاء خرید لیتے تھے جن کو یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اس کو کس نے تیار کیا ہے پھر آپ اس کو نوش بھی فرما لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25574
٢٥٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن السدي (١) عن شيخ من الحضرميين قال: قسم علي طلاء، فبعث إلي بقدح، فكنا نأكله بالخبز كما نأكله (بالكامَخ) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سُدّی، حضرمیین کے ایک بوڑھے سے روایت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طلاء تقسیم کی، پس آپ نے میری طرف بھی ایک ہانڈی بھیجی، چناچہ ہم اس کو روٹی کے ساتھ اس طرح کھاتے تھے جس طرح چٹنی کھاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 25575
٢٥٥٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد (عن) (١) موسى بن (عبد اللَّه) (٢) بن يزيد الأنصاري قال: كانت لعبد الرحمن بن (بشر) (٣) الأنصاري قرية يصنع له بها طعام، فدعا ناسا من أصحابه فأكلوا، ثم أتوا بشراب من الطلاء، وفيهم أناس من أهل بدر، فقالوا: ما هذا؟ (قالوا) (٤): شراب (يصنعه) (٥) ابن (بشر) (٦) لنفسه، (فقالوا) (٧): هو (الرجل) (٨) لا يرغب عن شرابه، فشربوا (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن عبد اللہ بن یزید انصاری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن ابن بشر انصاری کے پاس ایک مشک تھا جس میں ان کے لئے کھانا بنایا جاتا تھا، پس انہوں نے اپنے دوستوں میں سے کچھ لوگ کو دعوت دی انہوں نے (حضرت عبد الرحمن کے ہاں) کھانا کھایا پھر ان مہمانوں کے پاس طلاء کا مشروب لایا گیا اور ان مہمانوں میں اہل بدر کے کچھ حضرات بھی تھے۔ انہوں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا۔ یہ ایک مشروب ہے جو حضرت ابن بشر اپنے لیے بناتے ہیں۔ اس پر اہل بدر نے کہا۔ یہ عبد الرحمن بن بشر ایسا آدمی ہے کہ جس کے مشروب سے اعراض نہیں کیا جاسکتا پس ان اہل بدر نے بھی مشروب پیا۔
حدیث نمبر: 25576
٢٥٥٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن أبي عبد الرحمن عن علي قال: كان (يرزقنا) (١) الطلاء، فقلت له: ما (٢) هيئته؟ (قال) (٣): أسود (يأخذه) (٤) أحدنا بإصبعه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیں طلاء بطور وظیفہ کے دیا کرتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے ابو عبد الرحمن سے پوچھا۔ اس طلاء کی ہیئت کیسی ہوتی تھی ؟ ابو عبد الرحمن نے جواب دیا۔ وہ سیاہ رنگ کا ہوتا تھا جس کو ہم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سے لیتا تھا۔
حدیث نمبر: 25577
٢٥٥٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد اللَّه بن الوليد ⦗٢٩٨⦘ المزني قال: حدثني عبد الملك بن عمير عن أبي (ابن) (١) (الهياج) (٢) أن الحجاج دعاه فقال: أرني كتاب عمر إلى عمار في شأن (الطلاء) (٣) فخرج وهو حزين، فلقيه الشعبي فسأله (وأخبره) (٤) (عما قال له الحجاج) (٥)، فقال له الشعبي: (هلم) (٦) صحيفة ودواة، فواللَّه ما سمعت من أبيك إلا مرة واحدة، فأملى عليه: بسم اللَّه الرحمن الرحيم من (عبد اللَّه) (٧) عمر أمير المؤمنين إلى عمار بن ياسر، أما بعد: فإني أتيت بشراب من قبل (أهل) (٨) الشام فسألت عنه كيف يصنع؟ فأخبروني أنهم يطبخونه حتى يذهب ثلثاه ويبقى ثلثة، فإذا فعل ذلك به ذهب رسه و (ريح) (٩) جنونه وذهب حرامه وبقي (حلاله) (١٠) -قال عبد اللَّه: وأراه قال: والطيب منه- فإذا أتاك كتابي هذا فمر من قبلك: فليتوسعوا به (في) (١١) أشربتهم، والسلام (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر نے ابو الہیاج کے بارے میں بیان کیا کہ حجاج نے انہیں مدعو کیا اور کہا۔ طلاء کے بارے میں حضرت عمر کا حضرت عمار کو لکھا گیا خط تم مجھے دکھاؤ۔ پس حضرت ابو الہیاج (وہاں سے) اس حالت میں نکلے کہ وہ غمگین تھے کہ اس دوران ابو الہیاج کو حضرت شعبی ملے انہوں نے ابو الہیاج سے (غمگینی کی وجہ) دریافت کی۔ چناچہ انہوں نے شعبی کو وہ ساری بات بتادی جو حجاج نے ان سے کہی تھی۔ اس پر حضرت شعبی نے ابو الہیّاج سے کہا۔ قلم اور دوات اور کاغذ لاؤ۔ خدا کی قسم ! میں نے یہ خط تمہارے باپ سے صرف ایک ہی مرتبہ سُنا ہے۔ چناچہ حضرت شعبی نے ابو الہیاج کو یہ املاء کروایا ’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘ اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر کی طرف سے حضرت عمار بن یاسر کی جانب (خط) ۔ اما بعد ! میرے پاس ملک شام کی طرف سے ایک مشروب لایا گیا تو میں نے اسکے بارے میں دریافت کیا کہ یہ کیسے بنایا جاتا ہے ؟ تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ لوگ اس کو اتنا پکاتے ہیں کہ اس کے دو تہائی حصے ختم ہوجاتے ہیں اور اس کا ایک تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ پھر جب یہ عمل اس کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس کی خرابی اور فساد ختم ہوجاتی ہے اور اس کی بےہوشی کی ہوا چلی جاتی ہے اور اس کا حرام چلا جاتا ہے اور اس کا حلال باقی رہ جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ کہتے ہیں … میرے خیال میں آپ نے یہ بھی فرمایا تھا۔ ” اور اس کا بہتر حصہ رہ جاتا ہے۔ “… پس جب تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو تم اپنے علاقہ کے لوگوں کو حکم دے دو کہ وہ اس مشروب کے ذریعہ اپنے مشروبات میں وسعت کرلیں۔ والسّلام۔
حدیث نمبر: 25578
٢٥٥٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن أبيه أن عمر بن عبد العزيز (كره) (١) المنصف، وكتب إلى أهل الأمصار ينهاهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن فضیل ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز پک کر آدھی رہ جانے والی طلاء کو ناپسند کرتے تھے اور انہوں نے متعدد شہروں کے رہنے والوں کو اس سے منع کرنے کے لئے افراد بھیجے تھے۔
حدیث نمبر: 25579
٢٥٥٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن داود بن إبراهيم قال: قلت لطاوس: أرأيت هذا العصير الذي يطبخ على النصف والثلث ونحو ذلك؟ قال: أرأيت هذا الذي من نحو العسل: إن شئت أكلت (به) (١) الخبز، وإن شئت (صببت) (٢) عليه ماء فشربته، وما دونه فلا تشربه، ولا تبعه، (ولا) (٣) تنتفعن بثمنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے پوچھا، آپ کی رائے اس عصیر (شیرہ انگور) کے بارے میں کیا ہے جس کو نصف اور ثلث وغیرہ کے ختم تک پکایا جاتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا، کیا تم اس عصیر میں شہد کی طرح کو دیکھتے ہو کہ اگر تم چاہو تو تم اس کے ساتھ روٹی کھالو اور اگر تم چاہو تو اس میں پانی ملا لو اور پھر اس کو نوش کرلو اور جو اس سے کم درجہ ہو تو تم نہ تو اس کو پیو اور نہ اس کو بیچو اور نہ ہی اس کے ثمن سے نفع حاصل کرو۔
حدیث نمبر: 25580
٢٥٥٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن (بشير) (١) بن المهاجر عن عكرمة والحسن (قالا) (٢): اشرب من الطلاء ما ذهب (ثلثاه) (٣) وبقي ثلثه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ اور حسن دونوں سے روایت ہے، وہ دونوں کہتے ہیں کہ اس طلاء کی پی لو جس کے دو تہائی جاچکے ہوں اور جس کا ایک تہائی رہ گیا ہو۔