حدیث نمبر: 25518
٢٥٥١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن إسماعيل بن سميع عن مسلم البطين قال: سألت أبا عمرو الشيباني عن الجعة، قال: شراب (يصنع) (١) (باليمن) (٢) من الشعير
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بطین سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عمرو شیبانی سے جعہ کے بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا : یمن کا ایک مشروب ہے جو جَو سے بنایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 25519
٢٥٥١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن محمد بن أبي إسماعيل عن عمارة بن عاصم عن أنس قال: الحنتم: جرار (حمر) (١) كانت تأتينا من مصر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت انس سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حنتم ایک سرخ گھڑا ہے جو کہ ہمارے پاس مصر سے آتا ہے۔
حدیث نمبر: 25520
٢٥٥٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير ووكيع عن الصلت بن بهرام قال: (سألت) (١) إبراهيم عن الحنتم (فقال) (٢): كانت (جرار) (٣) ⦗٢٨٤⦘ (حمر) (٤) مقيرة يؤتى بها من الشام يقال لها: الحنتم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صلت بن بہرام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے حنتم کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : یہ سرخ رنگ کے تارکول ملے ہوئے گھڑے ہوتے تھے۔ جو شام کے علاقہ سے لائے جاتے تھے۔ ان کو حنتم کہا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 25521
٢٥٥٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي الحارث التيمي عن أم معبد: (قال: قلت) (١): ما قال في هذه الأوعية؟ (فقالت) (٢): على (الخبير) (٣) سقطت، أما الحناتم فحناتم العجم التي يدخل فيها الرجل فيكنسها كنسًا: ظروف الخمر، وأما (الدباء) (٤) فالقرع، وأما المزفت (فالزقاق) (٥) المقيرة أجوافها الملونة أشعارها بالقار: ظروف الخمر، وأما النقير فالنخلة الثابتة عروقها في الأرض، المنقورة نقرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الحارث تیمی، حضرت ام معبد سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا۔ ان برتنوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواباً فرمایا : تم ایک باخبر کے پاس آئے ہو (یعنی واقف سے سوال کیا ہے۔ ) بہرحال : حناتم : عجم کے حناتم یہ وہ برتن تھے جن میں آدمی داخل ہوجاتا تھا اور ان کو صاف کرتا تھا۔ شراب کے برتن اور دُبَّاء : یہ کدو (کا مصنوعی برتن) ہے۔ اور مزفّت : یہ وہ مشکیزہ ہے جس کے اندر تارکول ملا ہو اور اس کا ظاہر بھی تارکول سے رنگین ہوتا۔ شراب کے برتن۔ اور نقیر : یہ وہ درخت کا تنا ہے جس کی رگں زمین میں ہی ہوں۔ اور اس کو اندر سے خالی کرکے برتن بنالیا جائے۔
حدیث نمبر: 25522
٢٥٥٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن مسلم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: إنما كانت الحناتم (جرارًا حمرًا) (١) مزفتة يؤتى بها من مصر، وليست بالجرار الخضر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حناتم، سرخ رنگ کے گھڑے ہوتے تھے جنہیں تارکول ملا ہوتا تھا اور یہ مُلکِ مصر سے لائے جاتے تھے اور یہ سبز رنگ کے گھڑے نہیں ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 25523
٢٥٥٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى قال: الحنتم جرار خضر كان (يجاء) (١) بها من مصر فيها الخمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حَنْتَمْ سبز رنگ کا گھڑا ہوتا تھا جس میں شراب ہوتی تھی اور وہ گھڑا مصر سے لایا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 25524
٢٥٥٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير قال: الحنتم الجرار كلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حَنْتَمْ تما م گھڑے ہیں۔
حدیث نمبر: 25525
٢٥٥٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن أبي إسحاق الشيباني قال: قلت لأبي (بردة) (١) ما البتع؟ قال: نبيذ العسل، والمزر نبيذ الشعير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق شیبانی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بردہ سے پوچھا۔ بِتْعْ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : شہد کی نبیذ ہوتی ہے۔ اور مِرْزْ ، جَو کی نبیذ کو کہا جاتا ہے۔