کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نبیذ میں رخصت اور اس کو پینے والوں کا ذکر
حدیث نمبر: 25425
٢٥٤٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن جابر قال: كنا مع النبي ﷺ فاستسقى فقال رجل: ألا نسقيك نبيذا؟ قال: "بلى"، فخرج الرجل يشتد، فجاء بقدح فيه نبيذ، فقال: رسول اللَّه ﷺ: "ألا خمرته، ولو أن تعرض عليه عودًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی مانگا تو ایک آدمی نے کہا۔ کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” کیوں نہیں “ راوی کہتے ہیں۔ پس وہ آدمی دوڑتا ہوا نکلا پھر وہ ایک پیالہ لے کر حاضر ہوا جس میں نبیذ تھا۔ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کو ڈھانپا کیوں نہیں اگرچہ اس پر چوڑائی میں ایک لکڑی ہی رکھ دی جاتی۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25425
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25425، ترقيم محمد عوامة 24336)
حدیث نمبر: 25426
٢٥٤٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن عكرمة عن ابن عباس قال: أتى النبي ﷺ السقايةَ فقال: "اسقوني من هذا"، فقال: العباس ألا نسقيك مما نصنع في البيوت؟ قال: "لا، ولكن اسقوني مما يشرب الناس"، قال: فأتي بقدح من نبيذ فذاقه فقطب ثم قال: "هلموا (ماء) (١) "، فصبه عليه، ثم قال: "زد فيه مرتين أو (ثلاثًا) (٢) "، (ثم) (٣) قال: "إذا أصابكم هذا فاصنعوا به هكذا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سِقَایہ پر (حاجیوں کو پانی پلانے کی جگہ پر) تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اس میں سے پانی پلاؤ “ حضرت عباس نے کہا۔ ہم گھروں میں جو مشروب بناتے ہیں۔ آپ کو اس میں سے نہ پلائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں۔ بلکہ مجھے اسی میں سے پلاؤ جس سے عام لوگ پیتے ہیں۔ “ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ نبیذ کا لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو چکھا ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں آمیزش کی پھر فرمایا : ” پانی لاؤ۔ “ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی اس نبیذ پر ڈال دیا پھر فرمایا : ”’ اس میں اضافہ کرو “ دو یاتین مرتبہ یہ فرمایا : پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا : ” جب تمہیں یہ چیز ملے تو تم اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25426
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، وذكره البيهقي (٨/ ٣٠٤)، وابن عبد ريه في العقد الفريد (٦/ ٣٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25426، ترقيم محمد عوامة 24337)
حدیث نمبر: 25427
٢٥٤٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قرة العجلي عن عبد الملك بن القعقاع عن ابن عمر قال: كنا عند النبي ﷺ فأتي بقدح فيه شراب ⦗٢٦٠⦘ فقربه (١)، ثم رده، فقال له بعض جلسائه: (حرام) (٢) هو يا رسول اللَّه؟ قال: فقال: "ردوه"، فردوه ثم دعا بماء (فصبه) (٣) عليه ثم شرب، فقال: "انظروا هذه الأشربة إذا اغتلمت عليكم فاقطعوا متونها بالماء" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پیالہ کو اپنے قریب کیا اور پھر وہ پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپس کردیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض ہم نشینوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ حرام ہے ؟ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” یہ پیالہ واپس لاؤ۔ “ چناچہ صحابہ نے وہ پیالہ واپس کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور وہ پانی اس پیالہ میں ڈال دیا پھر اس کو نوش فرمایا اور ارشاد فرمایا : ” ان مشروبات کو دیکھو۔ جب یہ حد کو تمہارے اوپر تجاوز کر جائیں (یعنی نشہ آور ہوجائیں) تو تم ان کی شدت کو پانی سے توڑ ڈالو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25427
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25427، ترقيم محمد عوامة 24338)
حدیث نمبر: 25428
٢٥٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن منصور عن (خالد) (١) بن سعد عن أبي مسعود أن النبي ﷺ عطش وهو يطوف بالبيت حول الكعبة، فاستسقى فأتي بنبيذ من السقاية، فشمه فقطب فقال: "عليَّ بذنوب (من) (٢) زمزم "، فصب عليه وشرب، فقال رجل: حرام هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مسعود سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے گرد بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے کہ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیاس لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سقایہ سے نبیذ لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سونگھا اور پھر اس میں آمیزش کی اور فرمایا : ” میرے پاس زم زم کا ایک ڈول لاؤ۔ “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں وہ زم زم ملایا اور اس کو نوش فرمایا۔ اس پر ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ حرام ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نہیں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25428، ترقيم محمد عوامة 24339)
حدیث نمبر: 25429
٢٥٤٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن أشعث عن أبي (الزبير) (١) عن جابر قال: كان النبي ﷺ (ينبذ) (٢) له في سقاء، فإذا لم ⦗٢٦١⦘ يكن سقاء ينبذ له (في تور) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک مشکیزہ میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ اور جب مشکیزہ نہیں ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے پانی پینے والے برتن میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ اشعث کہتے ہیں۔ تَوْرْ ، درخت کی چھال سے تیار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25429
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضف أشعث، والخبر أخرجه مسلم (١٩٩٩)، وأحمد (١٤٢٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25429، ترقيم محمد عوامة 24340)
حدیث نمبر: 25430
٢٥٤٣٠ - (قال) (١) أشعث: والتور من لحاء الشجر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25430
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25430، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 25431
٢٥٤٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو (بن) (١) مرة عن زاذان قال: سألت ابن عمر عن النبيذ فقلت له: إن لنا (لغة) (٢) غير لغتكم ففسره لنا بلغتنا، فقال ابن عمر: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الحنتمة وهي الجرة، ونهى عن الدباء وهي القرعة، وعن المزفت وهي القير، وعن النقير وهي النخلة، وأمر أن ينبذ في الأسقية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ اور میں نے ان سے کہا۔ ہماری لغت، تمہاری لغت سے جُدا ہے۔ پس آپ اس کو ہماری زبان میں بیان فرمائیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنتمہ سے منع فرمایا ہے اور یہ ایک طرح کا گھڑا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دباء سے منع فرمایا ہے اور وہ کدو کا ایک (مصنوعی) برتن ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزفت سے منع فرمایا ہے اور یہ تارکول مارا ہوا برتن ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیر سے منع فرمایا ہے۔ اور یہ درخت کی موٹی شاخ سے تیار کردہ برتن ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مشکیزوں میں نبیذ بنائی جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25431
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٩٧)، وأحمد (٥١٩١)، والترمذي (١٨٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25431، ترقيم محمد عوامة 24341)
حدیث نمبر: 25432
٢٥٤٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن سليمان التيمي عن (أمينة) (١) أنها سمعت عائشة تقول: أتعجز إحداكن أن تتخذ من مسك أضحيتها سقاء في كل عام، فإن رسول اللَّه ﷺ نهى أو منع عن نبيذ الجر والمزفت؛ وأشياء نسيها التيمي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امینہ سے روایت ہے۔ کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سُنا کہ کیا تم میں سے ایک اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر سال اپنی قربانی کی کھال سے ایک مشکیزہ بنالے۔ کیونکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑے اور مزفت (برتن) کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ کچھ اور چیزوں کا بھی ذکر کیا جن کو (اُمینہ کے شاگرد) تیمی بھول گئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25432
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25432، ترقيم محمد عوامة 24342)
حدیث نمبر: 25433
٢٥٤٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن سماك عن ⦗٢٦٢⦘ رجل أنه سأل الحسن بن علي عن النبيذ فقال: اشرب، فإذا (رهبت) (١) أن تسكر فدعه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سماک ، ایک آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ اس نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : پیو، لیکن جب تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ تم نشہ میں مبتلا ہو جاؤ گے تو پھر اس کو چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25433
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25433، ترقيم محمد عوامة 24343)
حدیث نمبر: 25434
٢٥٤٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ عن (ابن) (١) عون قال: سألت محمدا عن نبيذ السقاء الذي يوكى ويعلق، فقال: لا أعلم به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد سے اس مشکیزہ کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا جس کو باندھ دیا گیا ہو اور لٹکا دیا گیا ہو ؟ تو محمد نے فرمایا : مجھے اس کے بارے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25434
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25434، ترقيم محمد عوامة 24344)
حدیث نمبر: 25435
٢٥٤٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد بن حرملة العبدي عن الوليد بن عمرو ابن أخي أبي نضرة، أنه سأل الحسن عن (الجف) (١)، فقال: وما (الجف؟) (٢)، قال: سقاء على ثلاث قوائم، يوكى من أعلى ومن أسفله، قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن عمرو بن اخی ابو نضرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حسن سے جُفّ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو حسن نے پوچھا : جُفّ کیا ہے ؟ سائل نے بتایا کہ وہ تین پائے پر مبنی ایک مشکیزہ ہوتا ہے۔ جس کو اوپر اور نیچے سے باندہ دیا جاتا ہے۔ تو حسن سے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25435
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25435، ترقيم محمد عوامة 24345)
حدیث نمبر: 25436
٢٥٤٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن (أبي) (١) إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: قال عمر: إنا لنشرب هذا الشراب الشديد لنقطع به لحوم الإبل في بطوننا أن تؤذينا، فمن رابه من شرابه شيء فليمزجه بالماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر فرماتے تھے۔ ہم یہ سخت مشروب (اس لئے) پیتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے پیٹوں میں موجود اونٹ کے گوشت کو ہضم کرسکیں تاکہ وہ ہم کو اذیت نہ دے۔ پس جس شخص کو اس کے پینے میں شک و شبہ ہو تو وہ اس میں پانی کی آمیزش کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25436
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25436، ترقيم محمد عوامة 24346)
حدیث نمبر: 25437
٢٥٤٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: حدثني عتبة بن فرقد قال: قدمت على عمر، فدعا بعس من نبيذ قد كاد يصير خلًا، فقال: اشرب، فأخذته فشربته، فما كدت أن ⦗٢٦٣⦘ أسيغه، ثم أخذه فشربه، ثم قال: يا عتبة، إنا نشرب هذا النبيذ الشديد لنقطع (به) (١) لحوم الإبل في بطوننا أن (تؤذينا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عتبہ بن فرقد نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ایک بڑا پیالہ منگوایا جس میں نبیذ تھی۔ جو کہ سرکہ بننے کے قریب تھی۔ پس حضرت عمر نے کہا۔ تم اس کو پیو۔ میں نے وہ پیالہ پکڑا اور اس کو پیا۔ لیکن وہ مجھے حلق سے بآسانی نہیں اتر رہی تھی۔ پھر حضرت عمر نے وہ پیالہ پکڑا اور اس کو نوش فرمایا اور پھر کہا۔ اے عتبہ ! ہم یہ سخت قسم کی نبیذ اس لیئے پیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم اپنے پیٹوں میں موجود اونٹوں کے گوشت کو کاٹ دیں (یعنی ہضم کریں) تاکہ وہ ہمیں تکلیف نہ دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25437
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25437، ترقيم محمد عوامة 24347)
حدیث نمبر: 25438
٢٥٤٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن همام (قال: أتي) (١) عمر بنبيذ زبيب من نبيذ زبيب الطائف، قال: فلما (ذاقه) (٢) قطب، فقال: إن لنبيذ زبيب الطائف (لعُرامًا) (٣)، ثم دعا بماء فصبه عليه، (فشرب) (٤) وقال: إذا اشتد عليكم فصبوا عليه الماء واشربوا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہمام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس مقام طائف کی کشمش کی نبیذ لائی گئی۔ راوی کہتے ہیں : پس جب آپ نے اس کو چکھا تو آپ نے اس میں آمیزش کرنا چاہی اور آپ نے فرمایا : یقینا طائف کی کشمش کی نبیذ سخت ہوتی ہے، پھر آپ نے پانی منگوایا اور اس میں انڈیل دیا پھر اس کو نوش فرمایا۔ اور کہا : جب تم میں سے کسی کو نبیذ سخت لگے تو تم اس میں پانی ڈال لو اور اس کو پی لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25438
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25438، ترقيم محمد عوامة 24348)
حدیث نمبر: 25439
٢٥٤٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أن قوما من ثقيف لقوا عمر بن الخطاب وهو قريب من مكة، فدعاهم بأنبذتهم، فأتوه بقدح من نبيذ فقربه من فيه، ثم دعا بماء فصبه عليه مرتين أو ثلاثًا فقال: اكسروه بالماء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ قبیلہ ثقیف کے کچھ لوگ حضرت عمر بن خطاب سے اس وقت ملے جبکہ وہ مکہ کے قریب تھے۔ تو حضرت عمر نے ان کو ان کی نبیذ سمیت بلایا۔ پس وہ حضرت عمر کی خدمت میں آئے اور ایک پیالہ نبیذ کا ساتھ لائے۔ حضرت عمر نے اس کو اپنے منہ کے قریب کیا پھر آپ نے پانی منگوایا اور اس میں دو یا تین مرتبہ پانی ملایا۔ پھر فرمایا : اس کو پانی سے توڑ ڈالو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25439
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25439، ترقيم محمد عوامة 24349)
حدیث نمبر: 25440
٢٥٤٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن إبراهيم عن مجاهد قال: قال عمر: إني رجل (معجار) (١) البطن أو (مسعار) (٢) البطن، فأشرب هذا السويق ⦗٢٦٤⦘ (فلا) (٣) (يلائمني) (٤)، وأشرب هذا اللبن (فلا) (٥) (يلائمني) (٦)، وأشرب هذا النبيذ الشديد فيسهل بطني (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : میں ایسا آدمی ہوں جس کا پیٹ سخت رہتا ہے۔ پس میں یہ ستو پیتا ہوں تو یہ مجھے موافق نہیں آتے اور میں یہ دودھ پیتا ہوں تو یہ بھی مجھے موافق نہیں آتا۔ اور میں یہ سخت نبیذ پیتا ہوں تو یہ میرے پیٹ کو پتلا کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25440
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25440، ترقيم محمد عوامة 24350)
حدیث نمبر: 25441
٢٥٤٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن عمران بن مسلم عن سويد بن غفلة قال: كنت أشرب النبيذ مع أبي الدرداء وأصحاب رسول اللَّه ﷺ بالشام في الحباب (بالعظام) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں ملک شام میں حضرت ابو الدرداء اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیگر صحابہ کے ہمراہ بڑے بڑے مٹکوں میں نبیذ پیا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25441
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25441، ترقيم محمد عوامة 24351)
حدیث نمبر: 25442
٢٥٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن سعيد بن مسروق عن الشماس قال: قال عبد اللَّه: ما يزال القوم وإن شرابهم لحلال (٢) حتى يصير عليهم (حرامًا) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شماس سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کا قول ہے۔ جب تک لوگوں کا مشروب حلال ہوگا تب تک لوگ دین پر قائم رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان کے مشروبات حرام ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25442
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25442، ترقيم محمد عوامة 24352)
حدیث نمبر: 25443
٢٥٤٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عمرو ابن ميمون قال: لما طعن عمر أتاه الطبيب (فقال) (٢): أي الشراب أحب ⦗٢٦٥⦘ إليك؟ قال: النبيذ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر و بن میمون سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو نیزہ مارا گیا اور آپ کے پا س طبیب آیا تو اس نے پوچھا۔ آپ کو کون سا مشروب سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ آپ نے فرمایا : نبیذ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25443
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25443، ترقيم محمد عوامة 24353)
حدیث نمبر: 25444
٢٥٤٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (الأحوص) (١) [عن سماك عن أبي حصين قال: رأيت (زر) (٢) بن حبيش يشرب بنبيذ الخوابي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے زربن حبیش کو مٹکوں کی نبیذ پیتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25444
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25444، ترقيم محمد عوامة 24354)
حدیث نمبر: 25445
٢٥٤٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حميد بن سليمان عن] (١) مجاهد عن عائشة قالت: كنت أنبذ لرسول اللَّه ﷺ وكنت آخذ القبضة من (الزبيب) (٢) فألقيها (٣) فيه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے نبیذ بنایا کرتی تھی اور میں ایک مٹھی کشمش کی پکڑ کر اس میں ڈال دیتی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25445
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25445، ترقيم محمد عوامة 24355)
حدیث نمبر: 25446
٢٥٤٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن مجالد قال: قال عامر: أشربوا نبيذ العرس (ولا تسكروا منه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عامر کا قول ہے، ولیمہ کی نبیذ پیو لیکن اس سے نشہ میں نہ آؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25446
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25446، ترقيم محمد عوامة 24356)
حدیث نمبر: 25447
٢٥٤٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عيسى (١) بن المسيب عن الشعبي عن ابن أبي ليلى قال: أشهد على البدريين أنهم كانوا يشربون نبيذ العرس (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اہل بدر صحابہ پر گواہی دے کر کہتا ہوں کہ وہ ولیمہ کی نبیذ پیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25447
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عيسى بن المسيب.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25447، ترقيم محمد عوامة 24357)
حدیث نمبر: 25448
٢٥٤٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو معاوية) (١) عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي ذر قال: (يكفيني) (٢) كل يوم شربة من ماء، أو شربة (من) (٣) نبيذ، أو شربة من لبن، وفي الجمعة قفيز من قمح (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ہر روز ایک مرتبہ پانی پینا اور ایک مرتبہ نبیذ پینا اور ایک مرتبہ دودھ پینا کفایت کردیتا ہے اور جمعہ کو ایک قفیز گیہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25448
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25448، ترقيم محمد عوامة 24358)
حدیث نمبر: 25449
٢٥٤٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد الملك قال: سألت ابن عمر عن النبيذ الشديد فقال: جلس رسول اللَّه ﷺ مجلسا بمكة، فجاءه رجل فجلس إلى جنبه، فوجد منه ريحًا شديدة فقال: "ما هذا الذي شربت؟ " فقال: نبيذ، فقال: "جئ منه"، قال: فدعا بماء فصبه عليه وشرب ثم قال: "إذا اغتلمت أسقيتكم (١) فاكسروها بالماء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سخت نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک طرح کی سخت بُو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” یہ تم نے کیا پیا ہے ؟ “ اس آدمی نے جواب دیا۔ نبیذ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ میرے پاس لاؤ۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس میں ڈال دیا اور اس کو نوش فرما لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہارے مشکیزے تم پر حد کو تجاوز کر جائیں تو تم ان کو پانی سے توڑ ڈالو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25449
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25449، ترقيم محمد عوامة 24359)
حدیث نمبر: 25450
٢٥٤٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الأعمش عن أبي إسحاق قال: صنعت طعامًا فدعوت أصحاب عبد اللَّه: عمرو بن شرحبيل (وعبد اللَّه) (١) بن ذئب، وعمارة، ومرة الهمداني، وعمرو بن ميمون (فسقيتهم) (٢) النبيذ والطلاء فشربوا، (فقال) (٣) الأعمش: قلت له: كانوا يرون الخوابي؟ قال: نعم، كانوا ينظرون إليها وهم يستقون منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک (مرتبہ) کھانا تیار کیا اور حضرت عبد اللہ کے ساتھیوں… یعنی عمرو بن شرحبیل، عبد اللہ بن ذئب، عمارہ، مرہ ہمدانی اور عمر بن میمون… کو دعوت دی اور میں نے ان کو نبیذ اور طلاء پلایا اور انہوں نے پیا۔ حضرت اعمش کہتے ہیں۔ میں نے ان (ابو اسحق) سے کہا۔ وہ لوگ مرتبانوں کو دیکھ رہے تھے ؟ حضرت ابو اسحق نے کہا۔ ہاں۔ وہ مرتبانوں کو دیکھ رہے تھے اور انہی سے ان کو پلایا جا رہا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25450
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25450، ترقيم محمد عوامة 24360)
حدیث نمبر: 25451
٢٥٤٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه أنه كان يشرب النبيذ (ينبذ له) (١) (غدوة) (٢) فيشربه عشية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر، اپنے والد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ نبیذ پیتے تھے۔ (اس طرح کہ) ان کے لئے صبح کو نبیذ بنائی جاتی جس کو وہ شام کے وقت پی لیتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25451
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25451، ترقيم محمد عوامة 24361)
حدیث نمبر: 25452
٢٥٤٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن أبي حيان عن يونس قال: كان الحسن يُدعى إلى العرس فيشرب من نبيذهم.
مولانا محمد اویس سرور
یوسف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حسن کو ولیموں میں بلایا جاتا تھا اور وہ ان کی نبیذ کو پیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25452
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25452، ترقيم محمد عوامة 24362)
حدیث نمبر: 25453
٢٥٤٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي إسحاق قال: أعرست، فدعوت أصحاب علي وأصحاب عبد اللَّه، من أصحاب علي: عمارة بن عبد وهبيرة بن (يريم) (١) والحارث الأعور، ومن أصحاب عبد اللَّه: علقمة بن قيس وعبد الرحمن بن يزيد (وعبد اللَّه) (٢) بن ذئب، فنبذت لهم في الخوابي، فكانوا يشربون منها، فقلت: وهم يرونها؟ قال: نعم، ينظرون إليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ولیمہ کیا تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ کے ساتھیوں کو بلایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے عمارہ بن عبد، ہبیرہ بن یریم، اور حارث بن اعور کو بلایا اور حضرت عبد اللہ کے ساتھیوں میں سے علقمہ بن ق سے، عبد الرحمن بن یزید، اور عبد اللہ بن ذئب کو بلایا، پس میں نے ان کے لئے مٹکوں میں نبیذ تیار کی پس وہ ان مٹکوں میں سے پیتے تھے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے کہا۔ وہ مٹکوں کو دیکھ رہے تھے ؟۔ ابو اسحق نے کہا۔ ہاں۔ وہ مٹکوں کو دیکھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25453
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25453، ترقيم محمد عوامة 24363)
حدیث نمبر: 25454
٢٥٤٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن الحسن بن صالح عن جابر عن أبي جعفر قال: النبيذ حلال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبیذ حلال ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25454
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25454، ترقيم محمد عوامة 24364)
حدیث نمبر: 25455
٢٥٤٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن سفيان العطار قال: سأل رجل ماهان الحنفي (فقال) (١): يا أبا سالم! ما تقول في النبيذ؟ فقال: أقول في النبيذ: إن من حرم ما أحل اللَّه كمن أحل ما حرم اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان عطار سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ماہان حنفی سے سوال کیا اور کہا۔ اے ابو سالم ! آپ نبیذ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا۔ میں نبیذ کے بارے میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیاء کو حرام کہے وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو حلال کہنے والا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25455
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25455، ترقيم محمد عوامة 24365)
حدیث نمبر: 25456
٢٥٤٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الجريري عن أبي ⦗٢٦٨⦘ العلاء (قال) (١): انتهى قول رسول اللَّه ﷺ في الأشربة إلى أن قال: " (لا) (٢) تشربوا ما يسفه أحلامكم، (وما) (٣) يذهب أموالكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العلاء سے روایت ہے، و ہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قول مشروبات میں یہاں تک پہنچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جو چیز تمہاری عقلوں کو خراب کر دے اور تمہارے اموال کو ختم کر دے اس کو نہ پیو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25456
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو العلاء تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25456، ترقيم محمد عوامة 24366)
حدیث نمبر: 25457
٢٥٤٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عاصم عن محمد أنه كان لا ينبذ إلا (في) (١) سقاء موكى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد کے بارے میں روایت ہے کہ وہ صرف منہ باندھے ہوئے مشکیزہ سے نبیذ پیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25457
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25457، ترقيم محمد عوامة 24367)
حدیث نمبر: 25458
٢٥٤٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ملازم (بن) (١) عمرو عن عجيبة بن عبد الحميد عن عمه قيس بن طلق عن أبيه طلق بن علي قال: جلسنا عند النبي ﷺ فجاء وفد عبد القيس فقال: "ما لكم قد اصفرت ألوانكم، وعظمت بطونكم، وظهرت عروقكم؟ " قال: قالوا: أتاك سيدنا فسألك عن شراب كان لنا موافقا فنهيته عنه، (وكنا) (٢) بأرض (محمة) (٣)، قال: "فاشربوا ما طاب لكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران عبد القیس کا وفد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ان سے) پوچھا۔ ” تمہیں کیا ہوا ہے کہ تمہارے رنگ زرد پڑے ہوئے ہیں اور تمہارے پیٹ بڑھے ہوئے ہیں اور تمہاری رگں ھ نکلی ہوئی ہیں ؟ “ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے جواب دیا۔ ہمارا سردار آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور اس نے آپ سے اس مشروب کے بارے میں پوچھا تھا جو ہمارے موافق ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس سے منع کردیا تھا۔ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں بخار کی وبا بہت عام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جو مشروب تمہیں موافق آئے تم وہی پی لو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25458
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عجيبة بن عبد المجيد وقيس بن طلق صدوقان، أخرجه الطبراني (٨٢٥٦)، وابن حزم في المحلى (٧/ ٤٨٣)، وقد فسر ابن أبي شيبة قوله: "ما طاب لكم": يعني مما حل، كما في إتحاف الخيرة (٥١٢٢) نقلًا عن مسنده. وانظر: ما تقدم برقم: [٢٥٣٥٤].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25458، ترقيم محمد عوامة 24368)
حدیث نمبر: 25459
٢٥٤٥٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا خير في النبيذ إذا كان حلوًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب نبیذ میٹھی ہو تو اس میں کوئی خیر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25459
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25459، ترقيم محمد عوامة 24369)
حدیث نمبر: 25460
٢٥٤٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش عن سعيد بن مسروق قال: دعانا رجل إلى طعام فأكلنا، ثم أتانا بشراب، فشرب القوم ولم (أشرب) (١)، قال: فنظر إلي بكر -يعني ابن ماعز- نظرة ظننت أنه (يمقتني) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسروق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ہماری کھانے کی دعوت کی چناچہ ہم نے کھانا کھایا۔ پھر وہ آدمی ہمارے پاس مشروب لایا۔ پس سب لوگوں نے وہ مشروب پیا۔ لیکن میں نے نہیں پیا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر بکر بن ساعد نے میری طرف اس طرح دیکھا کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ مجھ سے بیزار ہوگئے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25460
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25460، ترقيم محمد عوامة 24370)
حدیث نمبر: 25461
٢٥٤٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد عن هشام عن الحسن قال: إذا دخلت على أخيك فسله عن شرابه، فإن (كان) (١) نبيذ (سقاء) (٢) فاشرب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ جب تم اپنے (مسلمان) بھائی کے پاس جاؤ۔ تو تم اس سے اس کے مشروب کے بارے میں سوال کرو۔ پس اگر اس کا مشروب مشکیزہ کی نبیذ ہو تو تم اس کو پی لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25461
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25461، ترقيم محمد عوامة 24371)
حدیث نمبر: 25462
٢٥٤٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن أبي مسكين عن (هزيل) (٢) بن شرحبيل قال: (مر) (٣) عمر بن الخطاب على ثقيف فاستسقاهم، فقالوا: أخبؤا نبيذكم فسقوه ماء، فقال: اسقوني من نبيذكم يا معشر ثقيف، قال: فسقوه، فأمر الغلام فصب ثم أمسك بيده ثم قال: يا معشر ثقيف إنكم تشربون من هذا الشراب الشديد، فايكم رابه من شرابه شيء فليكسره بالماء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہذیل بن شرحبیل سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب قبیلہ بنو ثقیف پر سے گزرے تو آپ نے ان سے پانی طلب کیا۔ انہوں نے (باہم ایک دوسرے سے) کہا۔ تم اپنی نبیذ چھپالو اور ان کو پانی پلا دو ۔ اس پر حضرت عمر نے کہا۔ اے گروہ ثقیف ! تم مجھے اپنی نبیذ میں سے پلاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس انہوں آپ کو نبیذ پلائی۔ حضرت عمر نے غلام کو حکم دیا اس نے پانی ڈالا پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کو روک دیا۔ پھر آپ نے فرمایا : اے گروہ ثقیف ! تم اس سخت مشروب کو پیتے ہو۔ پس تم میں جس کسی کو یہ کسی درجہ شک میں ڈالے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو پانی سے توڑ ڈالے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25462
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25462، ترقيم محمد عوامة 24372)