کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: عصری (کسی شئی کا شیرہ ، عرق وغیرہ) پینے کے بیان میں جو لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں جب کہ یہ جوش مارنے لگے
حدیث نمبر: 25409
٢٥٤٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عمر بن عامر (عن قتادة) (١) عن سعيد بن المسيب وعن حماد عن إبراهيم (قالا) (٢): لا بأس بشرب العصير ما لم يغل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اور ابراہیم دونوں سے روایت ہے۔ وہ دونوں کہتے ہیں کہ عصیر جب تک جوش نہ مارے اس کو پینے میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت سید کہتے ہیں۔ جب وہ جوش مارنے لگے تو پھر وہ خمر ہے۔ اور تم اس سے اجتناب کرو۔ اور حضرت ابراہم کہتے ہیں۔ جب وہ عصیر جوش مارنے لگے تو پھر تم اس کو چھوڑ دو ۔
حدیث نمبر: 25410
٢٥٤١٠ - قال سعيد: إذا غلى فهو خمر (اجتنبه) (١).
حدیث نمبر: 25411
٢٥٤١١ - وقال إبراهيم: إذا غلى فدعه.
حدیث نمبر: 25412
٢٥٤١٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا غلى فلا تشربه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہم سے روایت ہے۔ کہتے ہیں جب عصیر جوش مارنے لگے تو پھر تم اس کو نہ پیو۔
حدیث نمبر: 25413
٢٥٤١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن عبد اللَّه بن قسيط عن سعيد بن المسيب أنه كان لا يرى (بالعصير) (١) بأسًا ما لم يزبد، فإذا (أزبد) (٢) نهى عنه وقال: إنما يزبد الخمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب کے بارے میں روایت ہے۔ کہ وہ عصیر (پینے) میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے تھے۔ جب تک کہ اس پر جھاگ نہ آجائے۔ پس جب اس پر جھاگ آجائے تو پھر وہ اس سے منع کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے جھاگ تو خمر پر آتی ہے۔
حدیث نمبر: 25414
٢٥٤١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن (حصيف) (٢) قال: سألت سعيدًا عن العصير فقال: أشربه من يوم وليلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خصیف سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید سے عصیر کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : ایک دن رات کے اندر اندر اس کو پی لو۔
حدیث نمبر: 25415
٢٥٤١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد عن شعبة عن عمرو بن أبي حكيم عن عكرمة قال: اشرب العصير ما لم يَهدُر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ عصیر پی لو جب تک کہ وہ جوش نہ مارے۔
حدیث نمبر: 25416
٢٥٤١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أبي (يعفور) (١) [عبد الرحمن (بن) (٢) عبيد] (٣) العامري عن أيمن أبي ثابت قال: كنت جالسًا عند ابن عباس فجاءه رجل فسأله عن العصير فقال: اشربه ما دام طريًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایمن ابی ثابت سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اس دوران ان کے پاس ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے آپ سے عصیر کے بارے میں سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : جب تک وہ تازہ ہو اس کو پی لو۔
حدیث نمبر: 25417
٢٥٤١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن داود عن الشعبي قال: لا بأس بشرب العصير ما لم يغل ثلاثًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جب تک عصیر تین مرتبہ جوش نہ مارے تو تب تک اس کے پینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 25418
٢٥٤١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن عبد الملك عن عطاء قال: اشربه ثلاثًا ما لم يغل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ تم عصیر کو پی لو جب تک کہ وہ تین مرتبہ جوش نہ مارے۔
حدیث نمبر: 25419
٢٥٤١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر ووكيع عن هشام بن عائذ قال: سألت إبراهيم عن العصير فقال: اشربه ما لم يتغير
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عائذ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے عصیر کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : جب تک اس میں تغیر نہ آئے تب تک تم اس کو پی لو۔
حدیث نمبر: 25420
٢٥٤٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن هشام عن حماد عن إبراهيم قال: لا بأس بشربه وبيعه ما لم يغل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ جب تک یہ جوش نہ مارے تب تک اس کے پینے اور بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 25421
٢٥٤٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر وأبي جعفر وعطاء قالوا: (اشرب) (١) العصير (ابن) (٢) يوم وليلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر، حضرت ابو جعفر، اور حضرت عطاء سے روایت ہے۔ (یہ سب حضرات) کہتے ہیں ایک دن رات کا عصیر ہو تو اس کو پی لو۔
حدیث نمبر: 25422
٢٥٤٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن دينار عن الحسن قال: اشرب العصير ما لم يتغير.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک عصیر متغیر نہ ہوجائے۔ تب تک تم عصیر پی لو۔
حدیث نمبر: 25423
٢٥٤٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن ابن عمر أنه سئل عن العصير (قال) (١): اشربه ما لم (يأخذه) (٢) شيطانه، قيل: وفي (كم) (٣) (يأخذه) (٤) شيطانه؟ قال: في ثلاث (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ ان سے عصیر کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انہوں نے ارشاد فرمایا : تم اس کو پی لو جب تک کہ اس کو اس کا شیطان نہ پکڑ لے۔ پوچھا گیا کہ کتنے دن میں اس کو اس کا شیطان پکڑ لیتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : تین دن میں۔
حدیث نمبر: 25424
٢٥٤٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا بشير بن عقبة قال: سألت ابن سيرين عن عصير العنب فقال: عصير (يومه) (١) في معصرته، قال: اشربه في يومه، فإني أكره إذا حُوِّل في (وعاء أو إناء) (٢) وقال: (عليكم) (٣) بسُلافة العنب (٤) فإنها أطيبه فاشربه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے انگور کے عصیر کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : اسی دن کا عصیر ہو اور جس برتن میں بنایا گیا ہو اسی میں ہو۔ فرمایا : اس کو اسی دن پی لو۔ جب یہ عصیر کسی دوسرے برتن وغیرہ میں منتقل کیا جائے تو پھر میں اس کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ اور یہ بھی فرمایا۔ تم شروع شروع کے انگور استعمال کرو کیونکہ یہ زیادہ لذیذ ہوتے ہیں۔ پس اس کو پی لو۔