کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کشمش بھگویا ہوا شراب اور انگور کی نبیذ
حدیث نمبر: 25394
٢٥٣٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن فضيل بن غزوان عن عاصم عن (زر) (١) عن أبي (وائل) (٢) (عن) (٣) عبد اللَّه قال: نبيذ العنب خمر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل، حضرت عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : انگور کی نبیذ خمر (کے حکم میں) ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25394
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف رواية عاصم عن زر وأبي وائل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25394، ترقيم محمد عوامة 24307)
حدیث نمبر: 25395
٢٥٣٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن الوليد قال: حدثتني ميمونة بنت عبد الرحمن (بن) (١) (معقل) (٢) أن أباها (٣) سئل عن نبيذ نقيع الزبيب فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن الولید سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ مجھے میمونہ بنت عبد الرحمن بن معقل نے بیان کیا کہ ان کے والد سے کشمش بھگوئے ہوئے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انہوں نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25395
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25395، ترقيم محمد عوامة 24308)
حدیث نمبر: 25396
٢٥٣٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن بكير مولى لعبد اللَّه بن مسعود عن سعيد بن جبير قال: لأن أكون حمارا (يُستقى) (١) عليَّ أحبُّ إلي من (أن) (٢) أشرب نبيذ زبيب معتق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت بکیر، سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : کشمش کی پرانی اور عمدہ نبیذ پینے سے زیادہ مجھے یہ بات محبوب ہے کہ میں ایسا گدھا بنادیا جاؤں جس پر پانی ڈھویا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25396
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25396، ترقيم محمد عوامة 24309)
حدیث نمبر: 25397
٢٥٣٩٧ - حدثنا أبو بكر (قال: حدثنا) (١) وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر وعامر وعطاء أنهم كرهوا نبيذ العنب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر ، حضرت عامر اور حضرت عطاء (ان سب) کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کشمش کی نبیذ کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25397
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25397، ترقيم محمد عوامة 24310)
حدیث نمبر: 25398
٢٥٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن حرب عن سعيد بن جبير عن ابن عمر أنه سئل عن نقيع الزبيب فقال: الخمر اجتنبوها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ان سے کشمش بھگوئے ہوئے شراب کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انہوں نے فرمایا؛ خمر سے اجتناب کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25398
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25398، ترقيم محمد عوامة 24311)
حدیث نمبر: 25399
٢٥٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن بكير عن سعيد بن جبير قال: لأن أكون حمارًا يستقى علي أحب إلي من أن أشرب نبيذ زبيب معتق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر کے بارے میں روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں۔ مجھے کشمش کی پرانی اور عمدہ نبیذ پینے سے زیادہ محبوب بات یہ ہے کہ میں ایسا گدھا بن جاؤں جس پر پانی ڈھویا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25399
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25399، ترقيم محمد عوامة 24312)
حدیث نمبر: 25400
٢٥٤٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن أبي حنيفة عن حماد عن سعيد بن جبير قال: أشرب نبيذ الزبيب المنقع ما دام حلوا (يحذي) (١) اللسان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ تم بھگوئے ہوئے کشمش کی نبیذ اس وقت تک پی لو جب تک وہ میٹھی ہو اور زبان کو اس کی تیزی محسوس ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25400
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25400، ترقيم محمد عوامة 24313)
حدیث نمبر: 25401
٢٥٤٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (أبي) (١) (عمر) (٢) عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ ينقع له الزبيب، فيشربه اليوم والغد وبعد الغد (إلى) (٣) أن يمسي الثالثة، ثم يأمر به فيسقى أو يهراق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کشمش بھگو دئیے جاتے تھے۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پانی کو پہلے، دوسرے اور تیسرے دن کی شام تک پیتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دیتے تھے تو وہ بقہس پی لیا جاتا یا گرا دیا جاتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25401
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٠٠٤)، وأحمد (١٩٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25401، ترقيم محمد عوامة 24314)
حدیث نمبر: 25402
٢٥٤٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا (عبد الواحد) (١) بن صفوان قال: سمعت أبي يحدث عن (أمه) (٢) (أنها) (٣) (قالت) (٤): كنت (أمغث) (٥) لعثمان الزبيب (غدوة) (٦) (فيشربه) (٧) عشية، (أو) (٨) (أمغثه) (٩) عشية فيشربه غدوة، فقال لها عثمان: لعلك تجعلين فيه (زهوًا) (١٠) قالت: ربما فعلت، قال: فلا تفعلي (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الواحد بن صفوان بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو سُنا وہ اپیش والدہ سے بیان کرتے تھے کہ وہ کہتی ہیں۔ میں حضرت عثمان کے لئے صبح کے وقت کشمش مل دیتی تھی۔ جس کو وہ شام کے وقت پیتے تھے اور (اسی طرح) میں آپ کے لئے شام کو کشمش مَل دیتی تھی جس کو آپ صبح کے وقت پیتے تھے۔ پھر حضرت عثمان نے (ایک دن) ان (خاتون صفیہ) سے کہا۔ شاید کہ آپ اس میں کھجوریں بھی ڈالتی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا۔ کبھی کبھی یہ کرتی ہوں تو حضرت عثمان نے فرمایا : یہ کام نہ کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25402
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25402، ترقيم محمد عوامة 24315)
حدیث نمبر: 25403
٢٥٤٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن موسى بن (طريف) (١) عن أبيه قال: كان (ينبذ) (٢) لعلي (زبيب) (٣) في جرة بيضاء فيشربه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن طریف، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے ایک سفید گھڑے میں کشمش کی نبیذ تیار کی جاتی تھی اور آپ اس کو نوش فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25403
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ موسى بن طريف متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25403، ترقيم محمد عوامة 24316)
حدیث نمبر: 25404
٢٥٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد الملك (ابن نافع) (١) قال: قلت لابن عمر: إني أنبذ نبيذ زبيب، فيجيء ناس من أصحابنا فيقذفون فيه التمر، فيفسدونه علي، فكيف ترى؟ قال: لا بأس (به) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن رافع سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا۔ میں کشمش کی نبیذ بناتا ہوں لیکن میرے دوستوں میں سے کچھ لوگ آتے ہیں اور اس میں تمر (کھجوریں) پھینک دیتے ہیں اور میری نبیذ کو خراب کردیتے ہیں۔ اب (اس بارے میں) آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25404
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ عبد الملك متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25404، ترقيم محمد عوامة 24317)
حدیث نمبر: 25405
٢٥٤٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سعيد بن عبد الرحمن عن عكرمة في نبيذ العنب قال: كان أعلاه (حرامًا) (١) وأسفله (حرامًا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے انگور کی نبیذ کے بارے میں روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے اوپر کا حصہ بھی حرام ہے اور اس کے نیچے کا حصہ بھی حرام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25405
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25405، ترقيم محمد عوامة 24318)
حدیث نمبر: 25406
٢٥٤٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن علي بن الأقمر عن إبراهيم قال: لا بأس بنبيذ العصير.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عرق کی نبیذ میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25406
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25406، ترقيم محمد عوامة 24319)
حدیث نمبر: 25407
٢٥٤٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن حلام بن صالح عن سليك بن مسحل قال: خرج عمر حاجًا أو معتمرًا فنزل على ماء فدعا بسفرة، فأكل وأكل القوم، ثم دعا بشراب، فأتي بقدح من نبيذ، فقال: ادفعه إلى عبد الرحمن بن عوف، فلما شمه رده، ثم دفعه إلى سعد بن أبي وقاص، فلما شمه رده، قال: فهاته، فذاقه فقال: يا عجلان -يعني غلامه- ما هذا؟ فقال: يا أمير المؤمنين! جعلت زبيبًا في سقاء ثم علقته ببطن الراحلة وصببت عليه من الماء، قال: ائت بشاهدين على ما تقول، فجاء بشاهدين فشهدا، فقال: أي بني، اغسل سقاءك يلين لنا شرابه، فإن السقاء يغتلم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیک بن مسحل سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر حج یا عمرہ کرنے نکلے تو وہ ایک کنویں کے پاس اترے اور انہوں نے اپنا توشہ سفر منگوایا اور اس کو آپ نے بھی کھایا اور باقی لوگوں نے بھی کھایا۔ پھر آپ نے پانی منگوایا تو آپ کے پاس نبیذ کا ایک پیالہ لایا گیا آپ نے فرمایا : یہ نبیذ والا پیالہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کو دے دو ۔ پس جب حضرت عبد الرحمن بن عوف نے اس کو سونگھا تو آپ نے وہ پیالہ واپس کردیا۔ پھر وہ پیالہ حضرت سعد بن ابی وقاص کو دیا تو انہوں نے بھی اس کو سونگھا اور واپس کردیا۔ حضرت عمر نے فرمایا : یہ ادھر لاؤ۔ پس آپ نے اس پیالہ کو چکھا اور پھر فرمایا : اے عجلان ! (یعنی اپنے غلام سے خطاب کیا۔ ) یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا۔ اے امیر المؤمنین ! میں نے مشکیزہ میں کشمش ڈا ا پھر میں نے اس کو کجاوہ کے اندر لٹکا دیا اور میں نے اس پر پانی بہایا۔ حضرت عمر نے فرمایا : جو بات تم کہہ رہے ہو۔ اس پر تم دو گواہ لاؤ۔ چناچہ وہ دو گواہ لے آیا اور انہوں نے گواہی دی۔ تو حضرت عمر نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! اپنے مشکیزہ کو دھوؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25407
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حلام بن صالح وسليك بن مسحل صدوقان.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25407، ترقيم محمد عوامة 24320)
حدیث نمبر: 25408
٢٥٤٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن منصور بن حيان عن سعيد بن جبير قال: سأله رجل فقال: تعمد إلى الزبيب فتغسله من غباره، ثم تجعله في دن أو في جابية، فتدعه في الشتاء شهرين وفي الصيف أقل من ذلك، فقال سعيد: تلك الخمر اجتنبوها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ کسی آدمی نے ان سے پوچھا۔ اور کہا : ہم لوگ کشمش کا قصد کرتے ہیں پس ہم اس کا گرد و غبار دھو ڈالتے ہیں پھر ہم اس کو ایک بڑے مٹکے میں یا بڑے مرتبان میں ڈال دیتے ہیں اور پھر ہم اس کو سردیوں میں دو مہینے اور گرمیوں میں اس سے کم مدت یونہی چھوڑ دیتے ہیں ؟ تو اس پر حضرت سعید بن المسیب نے کہا : یہی تو شراب (خمر) ہے تم اس سے اجتناب کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25408
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25408، ترقيم محمد عوامة 24321)