کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو لوگ سبز گھڑے کو مکروہ سمجھتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں
حدیث نمبر: 25363
٢٥٣٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن أبي حمزة جار لهم قال: سمعت هلالًا -رجلًا من بني مازن- يحدث عن سويد بن مقرن قال: أتيت رسول اللَّه ﷺ بنبيذ في جرة، فسألته فنهاني عنه، فأخذت الجرة فكسرتها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن مقرن سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک گھڑے میں نبیذ لے کر حاضر ہوا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (نبیذ کے متعلق) سوال کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نبیذ سے منع فرمایا۔ پس میں نے وہ گھڑا پکڑا اور اس کو توڑ ڈالا۔
حدیث نمبر: 25364
٢٥٣٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد (بن) (١) هارون عن التيمي عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن نبيذ الجر الأخضر، قلت: (فالأبيض؟) (٢) قال: لا أدري (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز رنگ کے گھڑے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ (ابو سعید کے شاگرد کہتے ہیں) میں نے پوچھا۔ سفید (کا حکم کیا ہے) ؟ تو انہوں نے فرمایا۔ مجھے معلوم نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 25365
٢٥٣٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن (أمينة) (١) عن عائشة قالت: نهى رسول اللَّه ﷺ عن نبيذ الجز (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 25366
٢٥٣٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مسهر عن الشيباني عن ابن أبي أوفى قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن (جر) (١) الأخضر، قلت: فالأبيض؟ (قال) (٢): لا أدري (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی اوفی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبز رنگ کے گھڑے سے منع فرمایا۔ (ابن ابی اوفی کے شاگرد کہتے ہیں) میں نے پوچھا۔ سفید گھڑا (بھی منع ہے) ؟ ابن ابی اوفیٰ نے کہا : مجھے معلوم نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 25367
٢٥٣٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن سعيد بن يزيد عن عبد العزيز بن (١) أسيد قال: قال رجل لابن الزبير: أفتنا في نبيذ الجر، قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ نهى عن نبيذ الجر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد العزیزبن اسید سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابن زبیر سے کہا۔ آپ ہمیں گھڑے کی نبیذ کے بارے میں مسئلہ بتائیں تو حضرت ابن زبیر نے فرمایا : میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھڑے کی نبیذ سے منع فرماتے ہوئے سُنا ہے۔
حدیث نمبر: 25368
٢٥٣٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي حيان عن عباية بن (رفاعة) (١) أن جده رافع بن خديج رأى جرة خضراء لأهله في الشمس، فأخذ جلمودًا فرماها فكسرها فإذا فيها سمن فقال: أدركوا سمنكم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبایہ بن رفاعہ سے روایت ہے کہ ان کے دادا حضرت رافع بن خدیج نے ان کے گھر والوں کا ایک سبز گھڑا دھوپ میں پڑا ہوا دیکھا تو انہوں نے ایک سخت پتھر پکڑا اور گھڑے کی طرف پھینکا اور گھڑے کو توڑ ڈالا۔ اچانک اس میں سے گھی نکل آیا۔ حضرت نافع کہنے لگے۔ تم لوگ اپنا گھی سنبھال لو۔ راوی حدیث یحییٰ کہتے ہیں کہ انہوں نے سمجھا تھا کہ گھڑے میں نبیذ ہے۔
حدیث نمبر: 25369
٢٥٣٦٩ - وقال يحيى: ظن أن فيها نبيذا (١).
حدیث نمبر: 25370
٢٥٣٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن حصين (عن) (١) امرأة من بني شيبان أن زوجها أتاهم فحدثهم أن أمير المؤمنين عليا نهاهم عن نبيذ الجر، قال: فكسرنا جرة لنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
بنو شیبان کی ایک عورت سے روایت ہے کہ اس کا شوہر، بنو شیبان کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بیان کی کہ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو گھڑے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ پس ہم نے پھر اپنا گھڑا توڑ ڈالا۔
حدیث نمبر: 25371
٢٥٣٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه أن أبا (برزة) (١) قدم من سفر، فبدأ بمنزل أبي بكرة، فرأى في البيت جرة فقال: ما هذه؟ فقيل: فيها نبيذ لأبي بكرة، فقال: وددت أنكم حولتموها في سقاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیینہ بن عبد الرحمن، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بردہ ایک سفر سے واپس تشریف لائے تو انہوں نے حضرت ابو بکرہ کے گھر سے آغاز کیا۔ پس انہوں نے گھر میں گھڑا دیکھا تو انہوں نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ انہیں بتایا گیا کہ اس میں حضرت ابو بکرہ کے لئے نبیذ ہے۔ اس پر انہوں نے کہا۔ مجھے یہ بات محبوب ہے کہ تم اس کو کسی اور مشکیزہ میں ڈال لو۔
حدیث نمبر: 25372
٢٥٣٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن داود بن (فراهيج) (١) قال: سمعت أبا هريرة ينهى عن نبيذ الجر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن فراہیج سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کو نبیذ سے منع کرتے ہوئے سُنا ہے۔
حدیث نمبر: 25373
٢٥٣٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن عبد الملك عن سعيد ابن جبير وذكروا النبيذ، فقال: لا أرى به بأسًا في السقاء، وأكرهه في الجر الأخضر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے …لوگوں نے (ان کے سامنے) نبیذ کا ذکر چھیڑا … تو انہوں نے فرمایا : میرے خیال کے مطابق اگر نبیذ مشکیزہ میں ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن میں سبز گھڑے میں نبیذ کو ناپسند کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 25374
٢٥٣٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن أبي رجاء عن مالك بن دينار أن جابر بن زيد والحسن كانا يكرهان نبيذ الجر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن دینار سے روایت ہے کہ حضرت جابر بن زید اور حسن، گھڑے کی نبیذ کو پسند نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25375
٢٥٣٧٥ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) عبد اللَّه بن إدريس عن شعبة عن ثابت قال: قلت لابن عمر: نُهي عن نبيذ الجر؛ فقال: زعموا (ذاك) (٢)، [قلت عن رسول اللَّه ﷺ؟ قال: زعموا ذاك، قلت: أنت سمعته؟ قال: زعموا ذاك، قال] (٣): وصرفه اللَّه عني (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا۔ گھڑے کی نبیذ سے منع کیا گیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں کا خیال یہی ہے۔ میں نے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حکم ثابت ہے ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں کا خیال یہی ہے۔ میں نے پوچھا : آپ نے یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں کا خیال یہی ہے۔ اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس کو مجھ سے پھیر دیا ہے۔
حدیث نمبر: 25376
٢٥٣٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شعبة عن أبي (جمرة) (١) أن امرأة أتت ابن عباس، وقد كنت حلفت أن لا أسأل عن نبيذ الجر فقالت لي: سله فأبيت أن أسأله فسأله رجل (عن) (٢) نبيذ الجر فنهاه، فقلت (يا أبا عباس) (٣) إني أنتبذ في جر أخضر فأشربه حلوًا طيبًا فيقرقر بطني فقال: لا تشربه وإن كان أحلى (من) (٤) العسل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جمرہ سے روایت ہے کہ ایک عورت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئی … اور میں نے (راوی نے) یہ حلف اٹھا رکھا تھا کہ میں گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال نہیں کروں گا… اس عورت نے مجھ سے کہا۔ تم ِ ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کرو۔ تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کرنے سے انکار کیا۔ پس کسی آدمی نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آدمی کو منع کردیا۔ اس پر میں نے پوچھا۔ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما ! میں تو سبز گھڑے کی نبیذ بناتا ہوں اور پھر اس کو پیتا ہوں اس حال میں کہ وہ میٹھی اور لذیذ ہوتی ہے پس وہ میرے پیٹ کو صاف کردیتی ہے۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس کو نہ پیو اگرچہ یہ شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہو۔
حدیث نمبر: 25377
٢٥٣٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا سليمان (التيمي) (١) عن طاوس أن رجلا أتى ابن عمر فقال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن نبيذ الجر؛ فقال ابن عمر: نعم، فقال طاوس: واللَّه إني سمعته منه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑے کی نبیذ سے منع کیا ہے ؟ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواباً ارشاد فرمایا : ہاں۔ حضرت طاؤس کہتے ہیں۔ خدا کی قسم ! یہ بات میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خود سُنی ہے۔
حدیث نمبر: 25378
٢٥٣٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا جرير بن حازم قال: حدثني يعلى بن حكيم عن (صهيرة) (١) [بنت جيفر سمعه منها قالت: حججنا ثم انصرفنا إلى المدينة (فدخلنا) (٢) على صفية] (٣) ننت حيي فوافقنا عندها نسوة من أهل الكوفة، فقلن لنا: إن شئتن سألنا وسمعتن، وإن شئتن سألتن وسمعنا، (فقلن) (٤): سلن، فسألن عن أشياء من أمر المرأة وزوجها، ومن أمر المحيض، وسألن عن نبيذ الجر، [فقالت: (أكثرتن) (٥) يا أهل العراق علينا في نبيذ الجر] (٦)، حرم رسول اللَّه ﷺ نبيذ الجر، (ما) (٧) على إحداكن أن تطبخ ثمرها (٨) تدلكه ثم تصفيه فتجعله في سقائها (وتوكئ) (٩) عليه، فإذا طاب شربت (وسقت زوجها) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صُہَیرہ بنت جیفر سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ہم نے (ایک مرتبہ) حج ادا کیا پھر ہم مدینہ کی طرف واپس آئے اور ہم حضرت صفیہ بنت حیی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہاں پر ہمیں اتفاق سے اہل کوفہ کی کچھ خواتین مل گئیں۔ انہوں نے ہم سے کہا۔ اگر تم چاہتی ہو تو ہم سوال کرتی ہیں اور تم (چپ کر کے) سنو اور اگر تم چاہتی ہو تو تم سوال کرلو ہم سماعت کرلیں گی۔ ہم نے کہا : تم پوچھو۔ پس انہوں نے میاں ، بیوی کے بہت سے امور کے بارے میں اور حائضہ کے بارے میں سوال کیا۔ اور انہوں نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر حضرت صفیہ نے فرمایا : اے اہل عراق ! تم نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں ہم سے بکثرت سوالات کیئے ہیں جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو گھڑے کی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے۔ تم میں سے کسی پر کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنی کھجور کو پکاتی ہے۔ پھر اس کو ملتی ہے، صاف کرتی ہے پھر اس کو مشکیزہ میں ڈالتی ہے اور اس پر کوئی ڈوری وغیرہ باندھ کر اس کا منہ بند کردیتی ہے پس جب وہ مشروب لذت آمیز ہوجاتا ہے تو خود بھی پیتی ہو اور اپنے خاوند کو بھی پلاتی ہے ؟۔
حدیث نمبر: 25379
٢٥٣٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن (شميسة) (١) أم سلمة ⦗٢٤٩⦘ العتكية قالت: سمعت عائشة تقول: (لا تشربن) (٢) في راقود، ولا جرة، ولا قرعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شمیسہ ام سلمہ عتکیہ سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بات سُنی کہ ہرگز تم بڑے گہرے مٹکے، گھڑے اور کدو … کے مصنوعی برتن … میں نہ پینا۔
حدیث نمبر: 25380
٢٥٣٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن علي بن المبارك عن كريمة بنت همام عن عائشة أنها سمعتها تقول: إياكم ونبيذ الجر الأخضر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کریمہ بنت ہمام سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سُنا : ” خبردار تم سبز رنگ کے گھڑے کی نبیذ سے بچو۔
حدیث نمبر: 25381
٢٥٣٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عبد الأعلى بن كيسان قال: سمعت ابن أبي الهذيل يقول: ما في نفسي من نبيذ الجر شيء، إلا أن عمر بن عبد العزيز نهى عنه، وكان إمام عدل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الاعلیٰ بن کیسان سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی الہذیل کو کہتے سُنا کہ گھڑے کی نبیذ کے بارے میں میرے دل میں اس کے علاوہ کوئی بات نہیں ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس سے منع کیا تھا اور وہ ایک عادل امام تھے۔
حدیث نمبر: 25382
٢٥٣٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن ميمون عن ابن عباس قال: لا (تشرب) (١) نبيذ الجر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ تم گھڑے کی نبیذ نہ پیو۔