کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کی ممانعت کے بارے میں مروی احادیث
حدیث نمبر: 25333
٢٥٣٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن إسماعيل بن سميع عن مالك بن (عمير) (١) أن صعصعة بن صوحان أتى عليا فسلم عليه فقال: يا أمير المؤمنين: (انهنا) (٢) (عما) (٣) نهاك عنه رسول اللَّه ﷺ (٤) قال: (نهانا رسول اللَّه) (٥) ﷺ (٦) عن الدباء والحنتم و (المقير) (٧) والجعة (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن عمیر سے روایت ہے کہ صعصعہ بن صوحان، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ پھر اس نے کہا۔ اے امیر المؤمنین ! آپ ہمیں ان چیزوں سے منع کردیں، جن چیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو نہی کی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دُبّائ، (بڑا گھڑا جو کدو کو خشک کر کے بنایا جاتا تھا) ۔ حَنتم۔ (سبز یا سرخ گھڑا) ۔ مُقیَّر (وہ گھڑا جس کو تارکول مل دیا ہو) اور جِعّہ (جو یا گندم سے بنائی گئی شراب) سے منع فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25333
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25333، ترقيم محمد عوامة 24248)
حدیث نمبر: 25334
٢٥٣٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن حبيب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبائ، حنتم، مزفت… تارکول ملا ہوا گھڑا، اور نقیر… وہ برتن جو درخت کی موٹی لکڑی کو اندر سے خالی کر کے بنایا جائے … سے منع فرمایا۔ (یہ تمام برتن شراب کے لئے مستعمل تھے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25334
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٩٠)، وأحمد (٢٤٩٩)، وأصله عند البخاري (٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25334، ترقيم محمد عوامة 24249)
حدیث نمبر: 25335
٢٥٣٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (مروان) (١) بن معاوية عن منصور بن حيان عن سعيد بن جبير قال: (أشهد) (٢) على ابن عباس وابن عمر أنهما شهدا أن رسول اللَّه ﷺ: نهى عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جُبیر سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دے کر بتاتا ہوں کہ ان دونوں نے اس بات کی گواہی دی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبائ، حنتم ، مزفت اور نقیر سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25335
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٩٧)، وأحمد (٣٣٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25335، ترقيم محمد عوامة 24250)
حدیث نمبر: 25336
٢٥٣٣٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر ومحمد بن عبيد عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن ينبذ في المزفت والدباء (والحنتمة) (١) والنقير] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع کیا کہ : مُزَفَّت، دُبائ، حنتم اور نقیر میں نبیذ بنائی جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25336
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (١٠٥١٠)، وابن ماجه (٣٤٠١)، والنسائي (٨/ ٢٩٧)، وابن حبان (٥٤٠٨)، وابن الجارود (٨٥٨)، وأبو يعلى (٥٩٤٤)، ووكيع في أخبار القضاة (٣/ ٤٣)، والطحاوي (١/ ٢١٥)، وأصله عند مسلم (١٩٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25336، ترقيم محمد عوامة 24251)
حدیث نمبر: 25337
٢٥٣٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن محمد بن أبي إسماعيل عن عمارة (بن) (١) عاصم (العنزي) (٢) قال: دخلت على أنس بن مالك فسألته عن ⦗٢٣٦⦘ النبيذ فقال: نهى رسول اللَّه ﷺ: عن الدباء والمزفت، فأعدتها عليه فقال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدباء والمزفت، (فأعدتها عليه فقال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدباء والمزفت) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمارہ بن عاصم عنزی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دبار، مزفَّت سے منع فرمایا ہے۔ پس میں (عمارہ) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ سوال دوبارہ کیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ سوال دوہرایا تو انہوں نے پھر جواباً مزفت سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25337
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25337، ترقيم محمد عوامة 24252)
حدیث نمبر: 25338
٢٥٣٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن إسحاق عن ابن مبارك عن (وقاء) (١) عن علي بن ربيعة عن سمرة قال: نهى رسول اللَّه ﷺ: عن الدباء والمزفت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبّاء اور مزفت سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25338
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ وقاء بن إياس صدوق، وأخرجه أحمد (٢٠١٨٦)، والطحاوي (٤/ ٢٢٧)، والطبراني (٦٧٥٨)، وابن عدي (٧/ ٢٥٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25338، ترقيم محمد عوامة 24253)
حدیث نمبر: 25339
٢٥٣٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن عبد الملك عن أبي الزبير عن جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدباء والنقير والمزفت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دباء اور نقیر اور مزفت سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25339
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عبد الملك ثقة، أخرجه مسلم (١٩٩٨)، وأحمد (١٤٨٥١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25339، ترقيم محمد عوامة 24254)
حدیث نمبر: 25340
٢٥٣٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن محارب عن ابن عمر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدباء والحنتم والمزفت، (قال) (١): وأراه قال: "والنقير" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبائ، حنتم اور مُزفَّت سے منع کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے نقیر کا بھی کہا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25340
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٥٢٢٤)، وأبو يعلى (٥٦٧١)، وأصله عند مسلم (١٩٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25340، ترقيم محمد عوامة 24255)
حدیث نمبر: 25341
٢٥٣٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: خطب رسول اللَّه ﷺ (الناس) (١) ذات يوم، (فجئت) (٢) وقد فرغ، فسألت الناس: ماذا قال رسول اللَّه ﷺ؟ قالوا: (نهى) (٣) أن ينبذ في المزفت والقرع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا : پس جب میں مجلس میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دے کر فارغ ہوچکے تھے۔ میں نے لوگوں سے (خطبہ کے بارے) سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا خطبہ ارشاد فرمایا ؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزفّت اور قرع (دبائ) میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25341
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٩٧)، وأحمد (٤٤٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25341، ترقيم محمد عوامة 24256)
حدیث نمبر: 25342
٢٥٣٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة عن شعبة عن سلمة قال: قال أبو الحكم: حدثني أخي عن أبي سعيد أن النبي ﷺ نهى عن نبيذ الجر والدباء والمزفت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑے، دُباء اور مزفت کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25342
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٥)، والدارمي (٢١١٧)، والطيالسي (٢١٢٥)، والطحاوي (٤/ ٢٢٣)، وأبو يعلى (١٣٠٧)، وبنحوه أخرجه مسلم (١٩٨٧)، وأحمد (١٠٩٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25342، ترقيم محمد عوامة 24257)
حدیث نمبر: 25343
٢٥٣٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة (قال: حدثنا) (١) شعبة عن (بكير) (٢) ابن عطاء عن عبد الرحمن بن يعمر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدباء والحنتم والمزفت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمان بن یعمر سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبائ، مزفّت اور حنتم سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25343
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وشعبة إمام، أخرجه ابن ماجه (٣٤٠٤)، والنسائي (٨/ ٣٠٥)، والترمذي في العلل (٢/ ٧٦١)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٩٥٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25343، ترقيم محمد عوامة 24258)
حدیث نمبر: 25344
٢٥٣٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم (١) ⦗٢٣٨⦘ عن عائشة (قالت) (٢): نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدباء و (الحنتم) (٣) والمزفت و (قالت) (٤): الحنتم جرار يجاء بها من (مصر) (٥) (يعمل) (٦) فيها الخمر (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُبائ، حنتم اور مزفت سے نہی ارشاد فرمائی ہے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حَنْتَمْ ایک گھڑا ہوتا تھا۔ جو مصر سے لایا جاتا تھا اور اس میں شراب بنائی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25344
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25344، ترقيم محمد عوامة 24259)
حدیث نمبر: 25345
٢٥٣٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أشعث بن عمير العبدي عن أبيه قال: أتى النبي ﷺ وفد عبد القيس، فلما أرادوا الانصراف قالوا: قد حفظتم عن النبي ﷺ (١) كل شيء سمعتم منه، (فسلوه) (٢) عن النبيذ، فأتوه فقالوا: يا رسول اللَّه: إنا بأرض وخمة لا يصلحنا فيها إلا الشراب، قال: فقال: "وما شرابكم؟ " (قالوا: النبيذ) (٣)، قال: "في أي شيء (تشربونه) (٤)؟ " قالوا: في النقير، قال: "فلا تشربوا (في النقير"، قال: فخرجوا) (٥) فقالوا: واللَّه لا يصالحنا (قومنا) (٦) على هذا، فرجعوا فسألوه، فقال لهم مثل ذلك، ثم عادوا فقال لهم: "لا تشربوا في النقير فيضرب منكم الرجل ابن عمه (ضربة) (٧) لا يزال منها أعرج إلى يوم ⦗٢٣٩⦘ القيامة"، قال: فضحكوا (قال) (٨): "من أي شيء (تضحكون؟) (٩) " قالوا: يا رسول اللَّه والذي بعثك بالحق لقد شربنا في نقير لنا فقام بعضنا إلى بعض، فضرب هذا ضربة عرج منها إلى يوم القيامة (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث بن عمیر عبدی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عبد القیس کا وفد حاضر ہوا۔ پس جب انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے (باہم) کہا۔ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ ساری چیزیں محفوظ کرلی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تم نے سُنی ہیں۔ تو (اب) تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نبیذ کے بارے میں پوچھ لو ؟ چناچہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگے اور انہوں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم ایک ناموافق زمین میں ہیں۔ جس میں ہمیں ایک خاص مشروب ہی موافق آتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” تمہارا مشروب کیا ہے ؟ انہوں نے کہا۔ نبیذ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” تم کس چیز (برتن) میں اس کو پیتے ہو ؟ “ ان لوگوں نے کہا نقیر میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” تم نقیر میں نبیذ نہ پیو۔ “ راوی کہتے ہیں۔ پس یہ لوگ باہر نکل آئے اور انہوں (ایک دوسرے سے) کہا۔ خدا کی قسم ! ہماری قوم اس بات پر تو ہمارے ساتھ مصالحت نہیں کرے گی۔ چناچہ یہ لوگ واپس پلٹے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال دوبارہ پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پہلے کی طرف ہی جواب دیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر سوال دوہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : ” نقیر میں نبیذ نہ پیو کہ (کہیں ایسا نہ ہو) تم میں سے کوئی یہ نقیر اپنے چچا زاد کو دے مارے اور وہ بیچارہ قیامت کے دن تک لنگڑا ہی ہوجائے۔ “ راوی کہتے ہیں۔ اس پر وہ لوگ ہنس پڑے۔ آپ نے پوچھا۔ ” تم کس بات پر ہنس رہے ہو ؟ “۔ انہوں نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ واقعۃً ہم نے اپنے ایک نقیر میں نبیذ پی تھی۔ پھر ہم میں سے کوئی کھڑا ہوا اور اس نے یہ نقیر کسی کو دے مارا اور وہ شخص اس ضرب کی وجہ سے تاقیامت لنگڑا ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25345
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25345، ترقيم محمد عوامة 24260)
حدیث نمبر: 25346
٢٥٣٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سليمان التيمي عن أسماء بنت يزيد عن ابن عم لها (يقال) (١) له أنس: أنه سمع ابن عباس (يقول) (٢): ألم يقل اللَّه (تعالى) (٣): ﴿(وَ) (٤) مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر: ٧]، قالوا: بلى، قال: ألم يقل اللَّه تعالى: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا (أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ) (٥)﴾ [الأحزاب: ٣٦] الآية، قال: فأشهد على رسول اللَّه ﷺ أنه (نهى) (٦) عن نبيذ النقير والمزفت والدباء والحنتم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت یزید، اپنے چچا زاد (جن کو انس کہا جاتا تھا) سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سُنا کہ کیا یہ فرمان خداوندی نہیں ہے۔ : ” اور رسول تمہیں جو کچھ دیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رُ ک جاؤ “ ؟ لوگوں نے کہا۔ کیوں نہیں۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا۔ کیا یہ کلام خداوندی نہیں ہے۔ ” اور جب اللہ اور رسول کسی بات کی حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مؤمن مرد کے لئے یہ گنجائش ہے۔ نہ کسی مؤمن عورت کے لئے۔ “ ؟ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیر، مزفت ، دُباء اور حنتم کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25346
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25346، ترقيم محمد عوامة 24261)
حدیث نمبر: 25347
٢٥٣٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن أبي (شمر) (١) الضبعي قال: سمعت عائذ بن عمرو ينهى عن الحنتم والدباء والمزفت والنقير، قال: فقلت له عن النبي ﷺ (٢)؟ (فقال) (٣): (نعم) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو شمر الضبعی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے عائذ بن عمرو کو حنتم ” دُبائ “ مزفت اور نقیر سے منع کرتے ہوئے سُنا۔ ابو شمر کہتے ہیں۔ میں نے عائذ سے پوچھا۔ یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25347
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو شمر صدوق، أخرجه أحمد (٢٠٦٣٨)، والطيالسي (١٢٩٧)، والطحاوي ٤/ ٢٢٦، والطبراني ١٨/ (٢٩)، والروياني (٧٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25347، ترقيم محمد عوامة 24262)
حدیث نمبر: 25348
٢٥٣٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد (بن) (١) مصعب عن الأوزاعي عن يحيى عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن نبيذ الجر والدباء والمزفت، وعن الظروف كلها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑے، دباء مزفت اور تمام برتنوں کی نبیذ سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25348
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٠٩٧١)، وابن ماجه (٣٤٠٨)، والنسائي ٨/ ٣٠٦، وابن حبان (٥٤٠٤)، والطحاوي ٤/ ٢٢٦، وأصله عند مسلم (١٩٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25348، ترقيم محمد عوامة 24263)
حدیث نمبر: 25349
٢٥٣٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا عبد الواحد بن زياد عن عاصم الأحول عن فضيل بن زيد قال: كنا عند عبد اللَّه بن (مغفل) (١) فتذاكرنا الشراب فقال: الخمر حرام، فقلت: الخمر حرام في كتاب اللَّه، قال: فأي شيء تريد؟ (تريد ما) (٢) (سمعته) (٣) (من) (٤) رسول اللَّه ﷺ؟ سمعت رسول اللَّه ⦗٢٤١⦘ ﷺ ينهى عن الدُّباء والحنتم والمزفت (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن عیاض سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مغفل کے پاس تھے کہ ہم نے ایک دوسرے سے شراب کا ذکر کیا۔ اس پر حضرت عبد اللہ نے فرمایا۔ شراب حرام ہے۔ میں نے پوچھا۔ شراب کی حرمت کتاب اللہ میں ہے۔ تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا۔ تم کیا بات چاہتے ہو ؟ جو بات میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی ہے تم وہ چاہتے ہو ؟ (تو) میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سُنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دبائ، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25349
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ فضيل ثقة، أخرجه أحمد (١٦٨٠٧)، والطيالسي (٩١٨)، والدارمي (٢١١٢)، والطبراني في الأوسط (٥٢٧٦)، والروياني (٨٨١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25349، ترقيم محمد عوامة 24264)
حدیث نمبر: 25350
٢٥٣٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أحمد بن إسحاق قال: حدثنا عبد الواحد بن زياد قال: حدثنا كليب بن وائل قال: (حدثتني) (١) (ربيبة) (٢) النبي ﷺ (٣) أحسبها زينب قالت: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدباء والحنتم، و (أرى) (٤) فيه النقير (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کلیب بن وائل بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مجھے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیر تربیت بچی… میرے خیال میں زینب مراد تھی …نے بیان کیا۔ وہ فرماتی ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دبائ، اور حنتم سے منع فرمایا۔ (راوی کہتے ہیں) میرے خیال میں اس میں نقیر کا بھی ذکر تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25350
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كليب بن وائل صدوق، والحديث أخرجه البخاري (٣٤٩٢)، والطبراني (٢٤ [٧١٦])، والبيهقي في دلائل النبوة (١/ ١٧٣)، والمزي (٢٤/ ٢١٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25350، ترقيم محمد عوامة 24265)
حدیث نمبر: 25351
٢٥٣٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي فروة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أنه كره المزفت، وقال (١): لأن أشرب بول حمار أحب إلي من أن أشرب في مزفت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ مزفّت، برتن ، کو ناپسندسمجھتے تھے۔ اور کہتے تھے۔ مجھے مزفت۔ میں کچھ پینے سے زیادہ یہ بات محبوب ہے کہ میں گدھے کا پیشاب پیوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25351
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25351، ترقيم محمد عوامة 24266)
حدیث نمبر: 25352
٢٥٣٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (١) عن أبي هارون العبدي عن أبي سعيد الخدري قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن المزفت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزفّت۔ برتن سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25352
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ أبو هارون متروك، أخرجه عبد الرزاق (١٦٩٣٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25352، ترقيم محمد عوامة 24267)
حدیث نمبر: 25353
٢٥٣٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن سعد بن عبيدة عن البراء قال: أمرني عمر أن أنادي يوم القادسية: لا ينبذ في دُّباء ولا حنتم ولا مزفت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھے قادسیہ کے دن یہ حکم دیا کہ میں یہ نداء کروں۔ دُبائ، حنتم اور مزفت میں نبیذ نہیں پی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25353
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25353، ترقيم محمد عوامة 24268)
حدیث نمبر: 25354
٢٥٣٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد الملك ابن نافع قال: سألت ابن عمر عن الطلاء يطيخ، فقال: لا بأس، قلت: إنه (في) (١) مزفت، قال: لا تشربه في مزفت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن نافع سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پختہ طلاء کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا۔ کوئی حرج نہیں ہے۔ میں نے پوچھا۔ اگر یہ مزفّت۔ برتن۔ میں ہو ؟ تو انہوں نے فرمایا۔ تم مزفت میں نبیذ نہ پیو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25354
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا، عبد الملك بن نافع جرحه عدد من الأئمة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25354، ترقيم محمد عوامة 24269)
حدیث نمبر: 25355
٢٥٣٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن سليمان التيمي عن أبي مجلز (عن رجل) (١) عن أبي هريرة: أنه نهى عن المزفت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مزفّت۔ برتن۔ سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25355
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25355، ترقيم محمد عوامة 24270)
حدیث نمبر: 25356
٢٥٣٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدباء والمزفت والحنتم والنقير، وأن يخلط (البلح) (١) بالزهو (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دباء ، مزفت ، حنتم اور نقیر سے منع فرمایا : اور اس بات سے بھی منع کیا کہ کچی کھجور کو پکی کھجور سے خلط کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25356
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٩٠)، وأحمد (٢٤٩٩)، وأصله عند البخاري (٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25356، ترقيم محمد عوامة 24271)
حدیث نمبر: 25357
٢٥٣٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن المختار بن فُلفل قال: سألت أنس بن مالك عن النبيذ، قال: اجتنب مسكره في كل شيء، واجتنب ما سوى ذلك فيما زفت في دن أو قربة أو قرعة أو جرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مختار بن فلفل سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : ہر شئی میں نشہ آور مقدار سے بچو اور جس مٹکے ، مشکیزہ ، کدو (کے مصنوعی برتن) اور گھڑے کو مزفّت بنایا گیا ہو اس کی اس سے بھی کم مقدار سے اجتناب کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25357
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25357، ترقيم محمد عوامة 24272)
حدیث نمبر: 25358
٢٥٣٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد (بن هارون) (١) قال: أخبرنا عبد الخالق ابن سلمة قال: سمعت سعيد بن المسيب يقول: سمعت ابن عمر يقول عند هذا النبر، (فأشار) (٢) إلى منبر رسول اللَّه ﷺ: قدم وفد عبد القيس على رسول اللَّه ﷺ فسألوه عن الأشربة فنهاهم عن الدباء والنقير (٣) والحنتم، فقلت: يا أبا محمد (٤) المزفت؟ وظننا أنه نسيه، فقال: لم أسمعه (يومئذ من ابن عمر) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اس منبر…حضرت سعید نے منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کیا … پر کہتے سُنا کہ عبد القیس کا وفد جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشروبات کے بارے میں سوال کیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دبائ، نقیر اور حنتم سے منع فرمایا۔ میں نے پوچھا۔ اے ابو محمد ! مزفت (سے منع کیا تھا) ؟ ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ اس کو بھول گئے تھے۔ تو انہوں نے جواباً فرمایا۔ میں نے اس دن کی حدیث میں یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نہیں سُنی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25358
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٩٩٧)، وأحمد (٤٦٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25358، ترقيم محمد عوامة 24273)
حدیث نمبر: 25359
٢٥٣٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن أبي التياح عن حفص الليثي عن عمران بن الحصين أن النبي ﷺ نهى عن الحنتم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنتم سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25359
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25359، ترقيم محمد عوامة 24274)
حدیث نمبر: 25360
٢٥٣٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد بن سعيد عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة قالت: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدباء والمزفت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دباء اور مزفّت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25360
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٩٩٥)، ومسلم (١٩٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25360، ترقيم محمد عوامة 24275)
حدیث نمبر: 25361
٢٥٣٦١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيدة بن) (١) حميد عن منصور عن إبراهيم عن الأسود قال: قلت لعائشة: ما نهى عنه رسول اللَّه ﷺ من الأشربة؟ ⦗٢٤٤⦘ قال: نهى عن الدباء والمزقت] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن مشروبات سے منع فرمایا ؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواباً ارشاد فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دباء اور مزفّت (کے مشروبات) سے منع فرمایا ہے۔ ابراہیم سے اسود کے شاگرد … کہتے ہیں کہ مں ل نے حضرت اسود سے پوچھا۔ حنتم اور سبز گھڑا (بھی منع ہے) ؟ تم یہ چاہتے ہو کہ جو بات نہیں کہی گئی ، ہم وہ بھی کہہ دیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25361
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25361، ترقيم محمد عوامة 24276)
حدیث نمبر: 25362
٢٥٣٦٢ - قال إبراهيم: فقلت للأسود: فالحنتم والجرار (الخضر؟) (١) (فقال) (٢): تريد أن نقول ما لم يُقَل.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25362
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25362، ترقيم محمد عوامة ---)