کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو لوگ نشہ آور چیز کو حرام قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے اور اس سے منع کرتے ہیں
حدیث نمبر: 25289
٢٥٢٨٩ - (حدثنا أبو بكر (١) عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال) (٢): حدثنا علي ابن مسهر عن الشيباني عن أبي بردة عن أبيه قال: بعثه النبي ﷺ إلى اليمن، فسأله عن أشربة (تصنع) (٣) بها: البتع و (المزر) (٤) (و) (٥) الذرة، فقال: كل مسكر حرام (٦).
حدیث نمبر: 25290
٢٥٢٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن أبي سلمة عن (١) عائشة (٢) (تبلغ) (٣) به النبي ﷺ (قال) (٤): "كل شراب أسكر فهو حرام" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ اس روایت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچاتی ہیں۔ ” ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے۔ “
حدیث نمبر: 25291
٢٥٢٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ليث عن نافع عن ابن عمر عن النبي ﷺ قال: "كل مسكر حرام" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ حضر ت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ہر نشہ آور چیز خمر ہے۔
حدیث نمبر: 25292
٢٥٢٩٢ - قال: (وقال ابن عمر: كل مسكر خمر) (١) (٢).
حدیث نمبر: 25293
٢٥٢٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) (إسماعيل) (٢) بن علية عن ليث عن أبي عثمان عن القاسم بن محمد عن عائشة عن النبي ﷺ قال: "كل مسكر حرام" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “
حدیث نمبر: 25294
٢٥٢٩٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا قبيصة عن سفيان عن علي بن بذيمة عن قيس بن حبتر عن ابن عباس عن النبي ﷺ قال: "كل مسكر حرام"] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “
حدیث نمبر: 25295
٢٥٢٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد عن محمد بن إسحاق عن يزيد (بن) (١) أبي حبيب عن مرثد بن عبد اللَّه اليزني عن (ديلم) (٢) الحميري قال: سألت رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه إنا بأرض باردة، (نعالج) (٣) (بها) (٤) ⦗٢٢١⦘ عملًا شديدًا، وإنا نتخذ شرابًا من هذا القمح نتقوى به على أعمالنا، (و) (٥) على برد (بلادنا) (٦)، قال: "هل يسكر؟ " قلت: نعم، (قال) (٧): " (فاجتنبوه) (٨) "، [قال: ثم (جئته) (٩) من بين يديه فقلت له مثل ذلك، فقال: "هل يسكر؟ " قلت: نعم، قال: "فاجتنبوه"] (١٠)، قلت: إن الناس غير تاركيه قال: "فإن لم يتركوه فاقتلوهم" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت دیلم حِمْیَری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم ایک ٹھنڈے علاقہ میں رہتے ہیں اور وہاں ہم سخت کام کرتے ہیں اور ہم گیہوں سے ایک قسم کا مشروب تیار کرتے ہیں جس کو پی کر ہم اپنے اعمال اور اپنے علاقوں کی ٹھنڈک پر تقویت حاصل کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : ” کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پس تم اس سے بچو۔ “ راوی کہتے ہیں کہ میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (واپس) آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی ہی بات (دوبارہ) کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : ” کیا یہ مشروب نشہ آور ہوتا ہے۔ “ ؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پھر تم اس سے اجتناب کرو۔ “ میں نے عرض کیا۔ لوگ تو اس مشروب کو چھوڑنے والے نہیں ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ” اگر لوگ اس مشروب کو نہ چھوڑیں تو تم ان سے قتال کرو۔ “
حدیث نمبر: 25296
٢٥٢٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ملازم بن عمرو عن سراج بن عقبة عن عمته خالدة بنت طلق قالت: حدثني أبي، قال: كنا جلوسا عند نبي اللَّه ﷺ (١) (فجاء) (٢) صحار عبد القيس، فقال: يا رسول اللَّه ما ترى في شراب نصنعه، من ثمارنا (قال) (٣): فأعرض عنه النبي ﷺ حتى مسألة ثلاث مرات، ثم قام بنا النبي ﷺ (٤) (فصلى) (٥)، فلما قضى الصلاة، قال: "من السائل عن المسكر؟ يا ⦗٢٢٢⦘ (سائلًا) (٦) عن المسكر لا تشربه ولا تسقه أحدا من المسلمين، فوالذي نفس محمد بيده ما شربه قط رجل ابتغاء لذة سكره (فيسقيه) (٧) اللَّه خمرا يوم القيامة (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالدہ بنت طلق سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہم لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو صحار عبد القیس آئے اور انہوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس مشروب کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جسے ہم اپنے پھلوں سے تیار کرتے ہیں ؟ راوی کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی یہ بات سن کر رُخ مبارک ان سے پھیرلیا۔ یہاں تک کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین مرتبہ یہی سوال کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ہمیں لے کر اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : ” نشہ آور مشروب کے بارے میں پوچھنے والا کون ہے ؟ اے نشہ آور چیز کے بارے میں سوال کرنے والے ! تم اس مشروب کو نہ خود پیو اور نہ ہی کسی مسلمان کو پلاؤ۔ پس قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے۔ کوئی آدمی بھی ایسا نہیں ہے کہ اس نے کبھی نشے کی لذت طلبی کے لئے شراب کو پیا ہو اور پھر بروز قیامت حق تعالیٰ اس کو شراب پلائیں۔ “
حدیث نمبر: 25297
٢٥٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كل مسكر حرام" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور (مشروب) حرام ہے۔ “
حدیث نمبر: 25298
٢٥٢٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن أبان بن عبد اللَّه البجلي عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال نبي اللَّه ﷺ: "كل مسكر حرام" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب ، اپنے والد سے ، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “
حدیث نمبر: 25299
٢٥٢٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن نمير عن الحسن ابن (عمرو) (٢) (عن الحكم) (٣) عن شهر بن حوشب عن أم سلمة قالت: ⦗٢٢٣⦘ نهى رسول اللَّه ﷺ عن كل مسكر ومفتر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نشہ آور اور خرابی پیدا کرنے والی چیز سے منع کیا۔
حدیث نمبر: 25300
٢٥٣٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن معرف بن (واصل) (١) عن محارب بن دثار عن ابن بريدة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كنت نهيتكم عن الأشربة في ظروف الأدم، فأشربوا في كل وعاء غير أن لا تشربوا مسكرًا" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں سالن والے برتنوں میں مشروبات کے استعمال سے منع کیا کرتا تھا۔ لیکن اب تم ہر طرح کے برتن میں پی لیا کرو۔ صرف اس بات کا خیال کرو کہ تم نشہ آور چیز نہ پیو۔ “
حدیث نمبر: 25301
٢٥٣٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن أبي (سنان) (١) عن محارب بن دثار عن ابن بريدة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "اشربوا (في الأسقية) (٢) كلها ولا تشريوا مسكرًا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمام برتنوں میں پیو، لیکن تم نشہ آور چیز نہ پیو۔ “
حدیث نمبر: 25302
٢٥٣٠٢ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) ابن علية عن (أبي) (٢) حيان عن أبيه عن مريم بنت (طارق) (٣) عن عائشة (أنها) (٤) قالت: كل مسكر حرام (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حدیث نمبر: 25303
٢٥٣٠٣ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) ابن علية عن (أيوب) (٢) عن نافع عن ابن عمر قال: (كل) (٣) مسكر (حرام) (٤)، (وقال) (٥) ابن عمر: كل مسكر (خمر) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما (یہ بھی) فرماتے ہیں کہ ہر نشہ آور چیز خمر ہے۔
حدیث نمبر: 25304
٢٥٣٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن (أبي) (١) إسحاق عن أبي بردة قال: قال عمر: إن هذه الأنبذة تنبذ من خمسة أشياء: من التمر والزبيب والعسل والبر والشعير، فما (خمرته) (٢) منها ثم (عتقته) (٣) فهو خمر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عمر کا فرمان ہے۔ یہ نبی ذیں پانچ چیزوں سے بنائی جاتی ہیں۔ کھجور سے۔ کشمش سے، شہد سے، گندم سے ، جو سے، پس جس کو تو ڈھانک دے اور پھر اس کو عمدہ سے کے لئے چھوڑ دے تو یہ خمر کہلائے گی۔
حدیث نمبر: 25305
٢٥٣٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن المختار قال: سألت أنسًا عن النبيذ (فقال) (١): نهى رسول اللَّه ﷺ عن الظروف (المزفتة) (٢) وقال: "كل ⦗٢٢٥⦘ مسكر حرام " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مختار سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزفت برتنوں سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ “
حدیث نمبر: 25306
٢٥٣٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (أبي) (١) حيان (عن أبيه) (٢) عن مريم بنت طارق (قالت) (٣): دخلت على عائشة في نساء من نساء (الأنصار) (٤)، فجعلن (يسألنها) (٥) عن الظروف التي تنبذ فيها، فقالت: يا نساء المؤمنين (إنكن) (لتكترن) (٦) (ظروفًا) (٧) (وتسألن) (٨) (عنها) (٩) ما كان كثير منها على عهد النبي ﷺ، فاتقين اللَّه، وما أسكر (إحداكن) (١٠) من الأشربة فلتجتنبه، وإن أسكر ماء (حبها) (١١)، فإن (كل) (١٢) مسكر حرام (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مریم بنت طارق سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ میں انصار کی عورتوں کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئی۔ ان انصاری خواتین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان برتنوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا جن میں نبیذ بنائی جاتی تھی ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے اہل ایمان کی عورتو ! یقینا تم نے برتین بہت بڑھا لیئے ہیں اور ان کے بارے میں تم سوال کر رہی ہو۔ ان میں سے بہت سے برتن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں نہیں تھے۔ پس تم اللہ سے ڈرو، مشروبات میں سے جو مشروب تم میں سے کسی کو نشہ دے تو وہ اس مشروب سے اجتناب کرے۔ اگرچہ اس کے گھڑے کا پانی اس کو نشہ دے۔ کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حدیث نمبر: 25307
٢٥٣٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية (عن ليث) (١) عن عطاء وطاوس ومجاهد قالوا: قليل ما أسكر كثيره حرام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، حضرت طاؤس اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں۔ جس چیز کا کثیر حصہ نشہ آور ہو اس کا قلیل حصہ بھی حرام ہے۔
حدیث نمبر: 25308
٢٥٣٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أبي حيان عن الشعبي عن ابن عمر قال: سمعت عمر بن الخطاب يخطب على منبر المدينة يقول: يا أيها الناس ألا إنه نزل تحريم الخمر يوم (نزل) (١)، (وهي) (٢) من خمسة (أشياء) (٣): من العنب والتمر والعسل والحنطة والشعير، والخمر ما خامر العقل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہں ے کہ میں نے عمر بن خطاب کو مدینہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سُنا کہ وہ فرما رہے تھے۔ اے لوگو ! خبردار، یقینا شراب کی حرمت نے جس دن نازل ہونا تھا وہ ہوگئی۔ اور یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی ہے۔ انگور سے، کھجور سے، شہد سے، گندم سے اور جَو سے۔ اور خمر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔
حدیث نمبر: 25309
٢٥٣٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (عيينة) (١) عن الزهري عن السائب بن يزيد قال: قال عمر بن الخطاب: ذكر لي أن عبيد اللَّه وأصحابه شربوا شرابًا بالشام، وأنا سائل عنه، فإن كان (مسكرا) (٢) جلدتهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب بن یزید سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : مجھے بتلایا گیا ہے کہ عبید اللہ اور اس کے ساتھیوں نے ملک شام میں شراب نوشی کی ہے۔ میں اس بارے میں پوچھوں گا۔ پس اگر وہ نشہ آور ہوئی تو میں ان کو کوڑے لگاؤں گا۔
حدیث نمبر: 25310
٢٥٣١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن معمر عن الزهري عن السائب بن يزيد قال: رأيت عمر يحدهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب بن یزید سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو دیکھا کہ آپ ، انیں ؟ حد لگا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 25311
٢٥٣١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب عن معاوية بن صالح قال: حدثنا حاتم بن حريث عن مالك بن أبي مريم قال: تذاكرنا الطلاء فدخل علينا ⦗٢٢٧⦘ عبد الرحمن بن غنم فتذاكرناه فقال: حدثني أبومالك الأشجعي أن رسول اللَّه ﷺ يقول: " (يشرب) (١) أناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها، يضرب على رؤوسهم بالمعازف و (القينات) (٢)، يخسف اللَّه بهم الأرض، ويجعل منهم القردة والخنازير" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن ابی مریم سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم نے باہم طلاء …انگور کے شیرہ کا پختہ مشروب … کا تذکرہ کیا۔ اس دوران عبد الرحمن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان کو بھی مذاکرہ میں شریک کرلیا۔ تو انہوں نے فرمایا : مجھ سے ابومالک اشعری نے بیان کیا کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں سے کچھ لوگ شراب نوشی کریں گے لیکن وہ اس کا نام شراب نہیں رکھیں گے، ان کے سروں پر باجوں اور مغنیا ت کو بجایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کو زمین مین دھنسا دیں گے اور ان میں سے (کچھ کو) بندر اور خنزیر بنادیا جائے گا۔ “
حدیث نمبر: 25312
٢٥٣١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن (سعد) (١) بن أوس عن بلال بن (٢) يحيى عن أبي بكر بن حفص عن بن محيريز عن ابن (السمط) (٣) عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (ليستحلن) (٤) آخر أمتي الخمر (باسم تسميها) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے آخری لوگ شراب کو ضرور بالضرور حلال سمجھیں گے اور اس کا شراب کے علاوہ کوئی نام رکھیں گے۔ “
حدیث نمبر: 25313
٢٥٣١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الثوري عن سلمة ⦗٢٢٨⦘ (ابن) (١) كهيل عن ذر بن عبد اللَّه عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه قال: سألت أبي بن كعب عن النبيذ فقال: عليك بالماء، عليك بالسويق، عليك بالعسل، عليك باللبن الذي (نجعت) (٢) به، قال: فعاودته فقال: الخمر (تريد) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن عبد الرحمان، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ انہوں نے فرمایا : تم پانی لو۔ تم ستُّو لو۔ تم شہد لو۔ تم وہ دودھ لو جس کو تم خوش ہو کر پیتے ہو۔ راوی کہتے ہیں۔ میں نے ان سے دوبارہ دوہرانے کا کہا۔ تو وہ فرمانے لگے۔ تمہارا ارادہ شراب کا تو نہیں ؟
حدیث نمبر: 25314
٢٥٣١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد (عن) (١) عبيدة قال: (أحدث) (٢) الناس أشربة: ما أدري ما هي؟ فليس لي شراب منذ عشرين سنة إلا الماء واللبن والعسل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ لوگوں نے بہت سے مشروبات نئے بنا لئے ہیں۔ جن کے بارے میں میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہیں ؟ میں تو بیس سال سے پانی، دودھ اور شہد کے سوا کوئی مشروب نہیں استعمال کرتا۔
حدیث نمبر: 25315
٢٥٣١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأوزاعي قال: حدثنا (أبو كثير) (١) قال: سمعت أبا هريرة قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ قال: "الخمر من هاتين الشجرتين: من (العنبة) (٢) والنخلة" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سُنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” خمر ان دو درختوں انگور اور کھجور سے بنتی ہے۔ “
حدیث نمبر: 25316
٢٥٣١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن (حباب) (١) قال: حدثنا الضحاك ابن عثمان قال: حدثني (بكير) (٢) بن عبد اللَّه بن الأشج قال: أراه عن عامر بن ⦗٢٢٩⦘ سعد ابن أبي وقاص قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أنهاكم عن قليل ما أسكر (كثيره) (٣) " (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس چیز کے زیادہ سے نشہ آتا ہے میں تمہیں اس چیز کے کم سے منع کرتا ہوں۔ “
حدیث نمبر: 25317
٢٥٣١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي جعفر عن الربيع عن أبي العالية أو غيره عن ابن مغفل قال: أنا شهدت رسول اللَّه ﷺ نهى عن نبيذ الجر، وأنا شهدته رخص وقال: "اجتنبوا كل مسكر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مغفل سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھڑے کی نبیذ سے نہی ارشاد فرمائی۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رخصت دی اور فرمایا :” ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرو۔ “
حدیث نمبر: 25318
٢٥٣١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن هبيرة عن علي قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن (الجعة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جِعّہ (گندم اور جَو سے بنائی جانے والی) شراب سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 25319
٢٥٣١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن (إسماعيل بن سميع) (١) ⦗٢٣٠⦘ عن مسلم البطين قال: سألت أبا عمرو الشيباني (عن الجعة) (٢) فقال: شراب يصنع (باليمن) (٣) من الشعير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلم بطین سے روایت ہے، کہتے ہں کہ میں نے ابو عمرو شیبانی سے جِعّہ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے جواب میں ارشاد فرمایا : یہ ایک مشروب ہے جو یمن میں جَو سے بنایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 25320
٢٥٣٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن أبي الجويرية قال: سألت ابن عباس عن الباذق فقال: (سبق) (١) محمد الباذق، أنا أول العرب (سأل) (٢) ابن عباس عن ذلك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الجویریۃ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے باذق… وہ شیرہ انگور جس کو ہلکا پکایا جائے اور وہ سخت ہوجائے … کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : باذق کے بارے میں سوال کرنے میں محمد نے پہل کرلی ہے۔ میں اہل عرب میں سے پہلا شخص تھا جس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا تھا۔
حدیث نمبر: 25321
٢٥٣٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى (بن) (١) سعيد قال: بلغني عن عمر بن عبد العزيز قال: كان قوم على شراب، (فسكر) (٢) (رجل) (٣) منهم، فجلدهم كلهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر بن عبد العزیز کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے۔ کہ کچھ لوگ شراب کی محفل میں شریک تھے ان میں سے ایک آدمی کو نشہ آگیا تو حضرت عمر بن عبد العزیز نے تمام شرکاء محفل کو کوڑے لگائے۔
حدیث نمبر: 25322
٢٥٣٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن العلاء بن المنهال عن هشام ابن عروة قال: أتي عمر بن عبد العزيز بقوم (قعدوا) (١) على شراب (معهم) (٢) رجل صائم، (فضربه) (٣) وقال: ﴿فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ﴾ [النساء: ١٤٠].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس کچھ لوگوں کو لایا گیا۔ جو شراب پر اکٹھے بیٹھے تھے ، ان میں ایک روزہ دار بھی تھا۔ آپ نے ان سب کو کوڑے لگوائے اور فرمایا۔ تم ان لوگوں کے ساتھ تب تک نہ بیٹھو جب تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 25323
٢٥٣٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن ربيعة بن النابغة عن أبيه عن علي عن النبي ﵇ (١) قال: "كنت نهيتكم عن هذه الأوعية، فاشربوا فيها واجتنبوا ما أسكر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں ان برتنوں سے منع کرتا ہوں لیکن (اب) تم ان برتنوں میں پی لیا کرو۔ اور نشہ آور چیزوں سے اجتناب رکھو۔ “
حدیث نمبر: 25324
٢٥٣٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن شعبة (عن أشعث) (١) بن أبي الشعثاء قال: قلت له: كان أبوك (يشرب) (٢) النبيذ؟ قال: نعم، حتى لقي عبد اللَّه بن عمر فنهاه عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ، اشعث بن ابی الشعشاء کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا۔ تمہارے والد نبیذ پیا کرتے تھے ؟ اشعث نے کہا۔ ہاں ، پیتے تھے یہاں تک کہ وہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے تو انہوں نے والد صاحب کو نبیذ سے منع کردیا۔
حدیث نمبر: 25325
٢٥٣٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) (عن) (٢) إسرائيل عن أبي إسحاق عن (عمرو) (٣) بن شرحبيل عن (عمر) (٤) قال: كان منادي رسول اللَّه ﷺ إذا قام إلى الصلاة نادى: ﴿لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى﴾ [النساء: ٤٣] (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت عمر سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منادی یہ آواز لگاتا تھا۔ ” جب تم نشہ کی حالت میں ہو تو اس وقت نماز کے قریب بھی نہ جانا۔ “
حدیث نمبر: 25326
٢٥٣٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن أبي بكر ⦗٢٣٢⦘ (ابن) (١) حفص عن ابن (٢) محيريز قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لتشربن طائفة من أمتي الخمر باسم يسمونها إياه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن محریز سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” البتہ ضرور بالضرور میری امت کا ایک طبقہ شراب اس طرح پئے گا کہ وہ اس کا نام شراب کے علاوہ کوئی اور رکھے گا۔ “
حدیث نمبر: 25327
٢٥٣٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن خالد بن دينار عن شيخ قال: (سمعت) (١) ابن عباس يقول: السكر من الكبائر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ایک شیخ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سُنا : نشہ کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 25328
٢٥٣٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى قال: حدثنا إسرائيل عن إبراهيم (بن) (١) مهاجر عن الشعبي عن النعمان بن بشير عن النبي ﷺ قال: "من الحنطة خمر، ومن الشعير خمر، ومن الزبيب خمر، ومن العسل خمر" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن بشیر، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گندم سے شراب ہوتی ہے۔ جَو سے شراب ہوتی ہے۔ کشمش سے شراب ہوتی ہے۔ شہد سے شراب ہوتی ہے۔ “
…