کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: عورت مر جائے اور اس کے پیٹ میں بچہ ہو تو اس عورت کے ساتھ کیا کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 25265
٢٥٢٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (مخلد) (١) بن يزيد عن ابن جريج قال: سئل عطاء عن المرأة تموت وفي بطنها ولد؟ (٢) يسطو عليه الرجل فيستخرجه، فكره ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عطاء سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جو اس حال میں مری کہ اس کے پیٹ میں بچہ تھا۔ (کیا) آدمی اس عورت پر غلبہ پاکر بچہ کو نکال سکتا ہے ؟ تو حضرت عطاء نے اس کو ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 25266
٢٥٢٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه كان لا يرى بأسا أن يسطو الرجل على المرأة إذا لم يقدروا على امرأة تعالج.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے کہ جب کوئی عورت علاج کے لئے نہ مل سکے تو کوئی مرد عورت پر غلبہ پا کر بچہ نکالے۔
حدیث نمبر: 25267
٢٥٢٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة قال: قالت أم سنان: إذا أنا مت فشقوا بطني، فإن فيه سيد غطفان، قال: فلما ماتت شقوا بطنها فاستخرجوا سنانًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ حضرت ام سنان نے کہا تھا کہ جب میں مر جاؤں تو تم میرے پیٹ کو پھاڑ دینا کیونکہ میرے پیٹ میں غطفان کا سردار ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب وہ مرگئی تو لوگوں نے ان کا پیٹ پھاڑا اور سنان کو باہر نکالا۔