کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: حجامت (پچھنے) کے بارے میں، جو لوگ اس کو بہترین علاج کہتے ہیں
حدیث نمبر: 25227
٢٥٢٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب عن حميد عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن أمثل ما تداويتم به الحجامة والقسط الهندي (لصبيانكم) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم جو کچھ بطور دواء کے اختیار کرتے ہو اس میں سے بہترین شئے حجامت (پچھنے لگوانا) ہے اور تمہارے بچوں کے لئے عود ہندی ہے۔
حدیث نمبر: 25228
٢٥٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن (بشير) (١) (ابن) (٢) (عمرو) (٣)، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "في الحجم شفاء" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیر بن عمرو سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حجامت (پچھنے لگوانے) میں شفاء ہے۔ “
حدیث نمبر: 25229
٢٥٢٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن) (١) إدريس عن حصين عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى (قالوا) (٢): طُب رسول اللَّه ﷺ فبعث إلى رجل فحجمه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ صحابہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف کسی کو بھیجا پس اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پچھنے لگائے۔
حدیث نمبر: 25230
٢٥٢٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: دخل عيينة بن (حصن) (١) على رسول اللَّه ﷺ وهو محتجم فقال: ما هذا؟ قال: "خير ما تداوت به العرب" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت عیینہ بن حصن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجامت (پچھنے) لگوا رہے تھے۔ حضرت عیینہ نے پوچھا۔ یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اہل عرب جن طریقوں سے علاج کرتے ہیں یہ ان میں سے بہترین طریقہ ہے۔ “
حدیث نمبر: 25231
٢٥٢٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسود بن عامر قال: حدثنا حماد بن سلمة عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "إن كان في شيء مما (تداووا) (١) به خير ففي الحجامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم جن طریقوں سے علاج کرتے ہو ان میں سے اگر کسی میں بہتری ہے تو حجامت (پچھنے لگوانے) میں ہے۔
حدیث نمبر: 25232
٢٥٢٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (نعيم) (١) عن زهير عن عبد الملك بن (عمير) (٢) قال: حدثني حصين (بن) (٣) أبي الحر عن سمرة بن جندب قال: كنت عند رسول اللَّه ﷺ فدعا حجامًا (فأمره أن يحجمه) (٤)، فأخرج (محاجم) (٥) من قرون، (فألزمها) (٦) إياه وشرطه بطرف (شفرة) (٧)، فصب الدم وأنا عنده، فدخل عليه رجل من بني فزارة فقال: ما هذا يا رسول اللَّه؟ علام تمكن هذا من جلدك يقطعه؟ (قال) (٨): فسمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "هذا الحجم"، (قال) (٩): وما ⦗٢٠١⦘ الحجم؟ قال: "خير ما (تداوى) (١٠) به الناس" (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک حجام کو بلوایا اور اس کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پچھنے لگائے چناچہ اس نے سینگوں کی سینگیاں نکالیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چپکا دیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک بلیڈ کے کنارے سے چیرے لگانے لگا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خون بہہ پڑا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا۔ اس دوران بنو فزارہ کا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ کیا ہے ؟۔ کس بات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو اپنی کھال پر قدرت دے رکھی ہے کہ یہ اس کو کاٹ رہا ہے۔ حضرت سمرہ کہتے ہیں پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا : ” یہ حجامت (پچھنے لگوانا) ہے۔ ‘ ‘ اس آدمی نے پوچھا، حجامت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا : ” جن چیزوں سے لوگ علاج کرتے ہیں یہ ان میں سے بہترین چیز ہے۔ “
حدیث نمبر: 25233
٢٥٢٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (١) ما مررت بملأ من الملائكة ليلة أسري بي إلا قالوا: عليك بالحجامة يا محمد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” معراج کی رات میں فرشتوں کی جماعتوں میں سے جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا تو انہوں نے مجھے یہ ہی کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ضرور حجامت (پچھنے لگوائیں) کروائیں۔ “
حدیث نمبر: 25234
٢٥٢٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن إسحاق عن يزيد ابن أبي حبيب عن رجل من الأنصار من بني سلمة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن كان في شيء مما تعالجون به شفاء ففي شرطة من محجم، أو في شربة من عسل أو (١) لذعة من نار يصيب (بها) (٢) الماء وما أحب أن أكتوي" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
بنو سلمہ کے ایک انصاری سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جن چیزوں کے ذریعہ تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی چیز میں شفاء ہے تو وہ سینگی کے چیرنے میں ہے یا شہد کے پینے میں ہے یا آگ سے داغنے میں ہے۔ جو داغنا تکلیف کے موافق ہو۔ اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں داغ لگواؤں۔ “
حدیث نمبر: 25235
٢٥٢٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل (قال: حدثنا ابن الغسيل) (١) عن ⦗٢٠٢⦘ عاصم (بن) (٢) عمر (بن) (٣) قتادة قال: سمعت جابر بن عبد اللَّه قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن كان في شيء من أدويتكم خير ففي شرطة معجم، أو (في) (٤) شربة من عسل، أو لذعة (بنار) (٥) توافق (الداء) (٦) وما أحب أن أكتوي" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سُنا : ” اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں خیر ہے تو سینگی کے چیرے میں ہے یا شہد کے پینے میں ہے۔ یا آگ کے داغ لگانے میں ہے جو کہ بیماری کے موافق ہو۔ لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں داغ لگواؤں۔