کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اونٹوں کے پیشاب کو پینے کا بیان
حدیث نمبر: 25197
٢٥١٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن حجاج بن أبي عثمان قال: حدثني أبو رجاء مولى أبي قلابة (١) قال: حدثني أنس بن مالك أن نفرًا من عكل ثمانية قدموا على رسول اللَّه ﷺ، فبايعوه على الإسلام، فاستوخموا الأرض وسقمت (أجسامهم) (٢)، فشكوا ذلك إلى رسول اللَّه ﷺ فقال: " (ألا) (٣) (تخرجون) (٤) مع راعينا في إبله (فتصيبون) (٥) من أبوالها وألبانها"، قالوا: بلى فخرجوا فشربوا من (أبوالها وألبانها) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو قلابہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ قبیلہ رعل کے آٹھ افراد کا ایک گروہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی۔ لیکن انہیں (مدینہ کی) زمین موافق نہیں آئی چناچہ ان کے جسم بیمار پڑگئے اور انہوں نے اس بات کی شکایت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ ہمارے چرواہے کے ہمراہ اس کے اونٹوں میں کیوں نہیں چلے جاتے کہ تم ان اونٹوں کے دودھ اور پیشاب کو استعمال کرو ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں، چناچہ وہ لوگ چلے گئے اور انہوں نے اونٹوں کے پیشاب اور دودھ کو پیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25197
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٩٩)، ومسلم (١٦٧١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25197، ترقيم محمد عوامة 24115)
حدیث نمبر: 25198
٢٥١٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن ليث عن (ابن) (١) طاوس أن أباه كان يشرب أبوال الإبل ويتداوى بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاؤس سے روایت ہے کہ ان کے والد اونٹوں کے پیشاب کو پیتے تھے اور اس کے ذریعہ علاج معالجہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25198
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25198، ترقيم محمد عوامة 24116)
حدیث نمبر: 25199
٢٥١٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: [حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: لا بأس بأبوال الإبل أن يتداوى بها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں، اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اونٹوں کے پیشاب کے ذریعہ علاج معالجہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25199
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25199، ترقيم محمد عوامة 24117)
حدیث نمبر: 25200
٢٥٢٠٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن أنه كرهها] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اونٹوں کے پیشاب کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25200
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25200، ترقيم محمد عوامة 24118)
حدیث نمبر: 25201
٢٥٢٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (محمد) (١) بن أبي عدي عن ابن عون قال: كان ((محمد) (٢) يسأل) (٣) عن شرب أبوال الإبل فيقول: لا أدري ما هذا؟.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے روایت ہے کہتے ہیں کہ محمد سے اونٹوں کا پیشاب پینے کے بارے میں سوال کیا جاتا تھا ؟ تو انہوں نے جواب دیا، مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیا چیز ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25201
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25201، ترقيم محمد عوامة 24119)
حدیث نمبر: 25202
٢٥٢٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: كان (جبار) (١) (المشرقي) (٢) يصف أبوال الإبل، ولو كان به بأس لم يصفها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جبار المشرقی اونٹوں کے پیشاب کی تعریف کرتے تھے۔ اگر اس میں کوئی (غلط) بات ہوتی تو وہ اس کی تعریف نہ کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25202
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25202، ترقيم محمد عوامة 24120)
حدیث نمبر: 25203
٢٥٢٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: لا بأس أن يستنشق (١) أبوال الإبل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس کام میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی اونٹوں کے پیشاب کو ناک صاف کرنے میں استعمال کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25203
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25203، ترقيم محمد عوامة 24121)
حدیث نمبر: 25204
٢٥٢٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حبيبة بنت (عباد) (١) عن أمها (عن) (٢) عائشة أنها سئلت عن الصبي (ينقع) (٣) في البول أو (يوجر) (٤) (فكرهته) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت ہے کہ ان سے اس بچہ کے بارے میں سوال کیا گیا جس کو اونٹوں کے پیشاب میں بٹھایا جائے یا پیشاب کو ٹپکایا جائے ؟ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25204
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25204، ترقيم محمد عوامة 24122)
حدیث نمبر: 25205
٢٥٢٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل قال: حدثنا سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب قال: كان رجل به (١) خنازير (٢) (فتداوى) (٣) (بأبوال) (٤) الإبل والأراك، تطبخ (أبوال) (٥) الإبل والأراك، فأخذ الناس يسألونه فيأبى، فلقي ابن مسعود فقال: أخبر الناس به (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو گردن پر دانے نکلے تھے، تو اس نے اونٹوں کے پیشاب اور پیلو کے ذریعے علاج کیا۔ (اس طرح کہ) اونٹوں کے پیشاب اور پیلو کو پکایا گیا۔ تو لوگوں نے اس مریض سے علاج کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔ اس آدمی نے بتانے سے انکار کردیا۔ پھر وہ آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ملا تو انہوں نے فرمایا، لوگوں کو اس علاج کے بارے میں بتادو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25205
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الطبراني (٩١٥٣)، والدينوري في المجالسة ١/ ٣٨٠ (٢٢٢٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25205، ترقيم محمد عوامة 24123)