کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن لوگوں نے گدھی کے دودھ کو جائز قرار دیا ہے اور جن لوگوں نے اس کو مکروہ سمجھا ہے (ان کا بیان)
حدیث نمبر: 25188
٢٥١٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن عبد اللَّه بن المختار قال سئل الحسن عن ألبان الأتن فقال: حرم رسول اللَّه ﷺ لحومها وألبانها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مختار سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حسن بصری سے گدھیوں کے دودھ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گدھیوں کے گوشت اور ان کے دودھ کو حرام قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 25189
٢٥١٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن سالم عن سعيد بن جبير قال: لحوم (الحمر) (١) وألبانها حرام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ گدھیوں کے گوشت اور ان کے دودھ حرام ہیں۔
حدیث نمبر: 25190
٢٥١٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن عطاء أنه كان لا يرى بشرب ألبان الأتن بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء کے بارے میں روایت ہے کہ وہ گدھیوں کا دودھ پینے میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25191
٢٥١٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن (ومحمد) (١) أنهما كانا يكرهان أدى يتداوى بألبان الأتن وقالا: هي (حرام) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد کے بارے میں روایت ہے کہ یہ دونوں گدھیوں کے دودھ کو بطور دواء استعمال کرنے کو (بھی) مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ حرام ہے۔
حدیث نمبر: 25192
٢٥١٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه (عن) (١) عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: (سألته) (٢) عن شرب ألبان (الأتن) (٣)، فكره ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن اسود، حضرت مجاہد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے گدھیوں کے دودھ کے پینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس کو ناپسند بیان کیا۔
حدیث نمبر: 25193
٢٥١٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه عن إسرائيل عن مجزأة بن (زاهر) (١) عن (٢) أبيه أنه اشتكى (ركبتيه) (٣) فنعت له أن يستنقع في ألبان الأتن (٤)، (فكره ذلك) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجزأۃ بن زاہر، اپنے والد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہیں اپنے گھٹنوں میں شکایت ہوئی تو ان کے لئے گدھیوں کے دودھ میں ٹھہرنا تجویز کیا گیا تو انہوں نے اس بات کو ناپسند سمجھا۔
حدیث نمبر: 25194
٢٥١٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سليم الطائفي عن إسماعيل بن أمية عن عطاء قال: كان لا يرى بألبان الأتن بأسًا (أن) (١) يتداوى بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن امیہ، حضرت عطاء کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ گدھیوں کے دودھ میں اس لحاظ سے کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے کہ گدھیوں کے دودھ سے علاج معالجہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 25195
٢٥١٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن ألبان الأتن، (فقالا) (١): من كره لحومها كره ألبانها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے گدھیوں کے دودھ کے متعلق سوال کیا تو ان دونوں حضرات نے جواب دیا، جو علماء ان کے گوشت کو مکروہ سمجھتے ہیں وہ ان کے دودھ کو بھی مکروہ سمجھتے ہیں۔
حدیث نمبر: 25196
٢٥١٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة (عن المغيرة) (١) عن إبراهيم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ نے ابراہیم سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔