حدیث نمبر: 25154
٢٥١٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي الزبير عن جابر: أن رسول اللَّه ﷺ كوى سعدا في أكحله مرتين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کو ان کے ان کے بازو کی ایک رگ میں داغ دیا تھا۔
حدیث نمبر: 25155
٢٥١٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن قيس بن أبي حازم قال: دخلنا على (خباب) (١) نعوده (و) (٢) قد (اكتوى) (٣) سبعا في بطنه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ہم حضرت خباب کی عیادت کرنے کے لئے ان کے ہاں گئے۔ انہوں نے اپنے پیٹ میں سات مرتبہ داغا ہو اتھا۔
حدیث نمبر: 25156
٢٥١٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر أنه اكتوى من اللقوة واسترقى من العقرب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے لقوہ کے مرض کی وجہ سے اپنے بدن پر داغا اور بچھو کے ڈسنے پر دم کیا ۔
حدیث نمبر: 25157
٢٥١٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن عبد الملك بن أبجر عن سيار (١) عن قيس عن جرير (قال) (٢): أقسم عليَّ عمر لأكتوين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھے قسم دے کر کہا کہ میں ضرور اپنے بدن کو داغوں۔
حدیث نمبر: 25158
٢٥١٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن هشام عن قتادة عن أنس أنه اكتوى من اللقوة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے لقوہ کے مرض کی وجہ سے (اپنے بدن پر) داغا تھا۔
حدیث نمبر: 25159
٢٥١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس قال: كواني أبو طلحة وأكتوى من اللقوة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ مجھے ابو طلحہ نے داغا اور انہوں نے بوجہ لقوہ کے مرض کے داغا۔
حدیث نمبر: 25160
٢٥١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن محمد بن عبد الرحمن ابن (سعد) (١) بن (زرارة) (٢) (قال: سمعت عمي يحيى -وما أدركت رجلًا منا به شبيهًا- يحدث) (٣) (أن سعد بن زرارة) (٤) أخذه وجع في حلقه يقال: له (الذبح) (٥) فقال: رسول اللَّه ﷺ: " (الأبلغن) (٦) أو (لأبلين) (٧) في أبي (أمامة) (٨) (عذرا) (٩) "، فكواه (بيده) (١٠) فمات، فقال: رسول اللَّه ﷺ: "ميتة (سوء) (١١) لليهود يقولون: ⦗١٧٨⦘ (فهلا) (١٢) دفع عن صاحبه؟ وما أملك له ولا (لنفسي) (١٣) شيئًا" (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے چچا یحییٰ … اپنے میں سے کسی آدمی کو میں نے ان کے مشابہ نہیں پایا …کو بیان کرتے سُنا کہ حضرت سعد بن زرارہ کو حلق میں ایک بیماری پیدا ہوگئی جس کو ذبح (سوزش) کہا جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں ضرور بالضرور ابو امامہ میں عذر کو پہنچاؤں گا یا فرمایا : میں ضرور بالضرور آزماؤں گا، چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے ہاتھ سے داغا اور وہ انتقال کر گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہود کے لئے یہ (واقعہ) بری موت ہے، وہ کہیں گے، محمد نے اپنے ساتھی سے تکلیف کیوں نہ دور کی، حالانکہ میں تو اپنی جان کا مالک نہیں ہوں۔ “
حدیث نمبر: 25161
٢٥١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن سالم بن أبي حفصة عن (شيبان) (١) اللحام قال: كواني ابن الحنفية في (رأسي) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبان لحام سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت ابن الحنفیہ نے میرے سر میں داغا تھا۔
حدیث نمبر: 25162
٢٥١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن أنه دخل عليه وقد كوى غلامًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن سائب ، ابو عبد الرحمن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ عطاء ، ابو عبد الرحمن کے ہاں گئے اور انہوں نے ایک غلام کو داغا تھا۔
حدیث نمبر: 25163
٢٥١٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن إسحاق بن سويد عن مطرف ابن (الشخير) (١) قال: كان عمران بن حصين (ينهى) (٢) عن الكي، ثم اكتوى بعد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت مطرف بن شخیر سے روایت ہے کہ حضرت عمران بن حصین داغنے سے روکا کرتے تھے، لیکن پھر انہوں نے بعد میں اپنے بدن پر داغ لگوایا۔
حدیث نمبر: 25164
٢٥١٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) عمران ⦗١٧٩⦘ بن (حدير) (٢) عن أبي مجلز (٣) قال: كان عمران بن حصين ينهى (٤) عن الكي، فابتلي فاكتوى، فجعل بعد ذلك يعج، (يقول) (٥): اكتويت كية (نار) (٦) ما أبرأت من ألم، ولا أشفت من سقم (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز سے روایت ہے کہ حضرت عمران بن حصین داغنے سے روکا کرتے تھے لیکن پھر وہ (مرض میں) مبتلا ہوئے تو انہوں نے خود کو داغ لگایا۔ پھر اس کے بعد وہ اونچی آواز سے کہا کرتے تھے کہ میں نے خود کو آگ کے ذریعہ سے داغا ہے لیکن اس نے نہ تو تکلیف ختم کی اور نہ ہی بیماری میں شفا دی۔
حدیث نمبر: 25165
٢٥١٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبد اللَّه عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد اللَّه قال: أتي النبي ﷺ برجل نعت له الكي، فقال له النبي ﷺ (١): "اكووه (أو) (٢) أرضفوه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کو لایا گیا جس کے بارے میں داغنے کو کہا گیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو فرمایا : ” اس کو داغو یا فرمایا ، اس کو گرم پتھر سے داغو۔ “
حدیث نمبر: 25166
٢٥١٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الملك (بن سعيد) (١) بن (حيان) (٢) عن (سيار) (٣) (أبي) (٤) حمزة عن (قيس) (٥) عن ⦗١٨٠⦘ (جرير) (٦) قال: (أقسم) (٧) عليَّ عمر لأكتوين (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے مجھے قسم کھا کر کہا کہ میں ضرور بالضرور خود کو داغوں گا۔
حدیث نمبر: 25167
٢٥١٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن أبي العميس عن الحسن (ابن) (١) سعد عن أبيه قال: كانت للحسن بن علي (بختية) (٢) (قد) (٣) (مال سنامها) (٤) على جنبها، فأمرني أن أقطعه وأكويه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن سعد، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بختی اونٹنی تھی جس کا کوہان ایک جانب گرگیا تھا چناچہ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو کاٹ دوں اور داغ دوں۔
حدیث نمبر: 25168
٢٥١٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن منصور عن مجاهد أن ابن عمر كوى (ابنا) (١) له وهو محرم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک بیٹے کو حالت احرام میں داغ دیا تھا۔