حدیث نمبر: 25145
٢٥١٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى أن (الوليد بن) (١) الوليد بن المغيرة المخزومي شكا إلى رسول اللَّه ﷺ حديث (نفس) (٢) (يجده) (٣) وأنه قال: "إذا أتيت إلى فراشك (فقل) (٤): أعوذ (بكلمات) (٥) اللَّه التامة من غضبه وعقابه وشر عباده، ومن همزات الشياطين وأن يحضرون، فوالذي نفسي بيده لا (يضرك) (٦) شيء حتى تصبح" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یحییٰ سے روایت ہے کہ ولید بن ولید بن مغیرہ مخزومی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خیالات کے بارے میں جو انہیں آتے تھے، شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’ ’ تم اپنے بستر پر آؤ تو یوں کہو۔ میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ذریعہ سے اس کے غضب اور سزا اور اس کے بندوں کے شر سے پناہ میں آتا ہوں۔ اور شیطانی وساوس سے بھی پناہ میں آتا ہوں۔ اور اس بات سے بھی پناہ میں آتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔ پس قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تمہیں صبح تک کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ “
حدیث نمبر: 25146
٢٥١٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن زكريا عن مصعب بن شيبة عن يحيى بن جعدة قال: كان خالد (بن الوليد) (١) (يفزع) (٢) من الليل (حتى) (٣) يخرج ومعه سيفه، فخشي عليه أن يصيب أحدًا، فشكا ذلك إلى النبي ﷺ فقال: "إن جبريل قال لي: (إن) (٤) عفريتًا من الجن يكيدك، (فقل) (٥) أعوذ (بكلمات) (٦) اللَّه التامة التي لا (يجاوزها) (٧) بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن (شر) (٨) ما (ذرأ) (٩) في الأرض وما يخرج (منها) (١٠)، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن (شر) (١١) كل (طارق) (١٢) إلا (طارقًا) (١٣) يطرق بخير يا رحمن"، [فقالهن خالد فذهب ذلك عنه (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ خالد بن ولید رات کے وقت ڈر جاتے تھے اور ان کے پاس تلوار بھی ہوتی تھی اور وہ اس حال میں باہر نکل جاتے تھے، پھر انہوں نے یہ خوف محسوس کیا کہ یہ کسی کو زخمی نہ کردیں تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :” مجھے جبرائیل نے کہا تھا کہ ایک بڑا جن آپ کے لیئے برائی کا ارادہ رکھتا ہے پس آپ (یہ) پڑھیں :” میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعے سے پناہ پکڑتا ہوں جن سے کوئی نیک اور بد تجاوز نہیں کرسکتا، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترے اور جو آسمان میں چڑھے اور ہر اس چیز سے جو زمین میں داخل ہو اور جو زمین سے خارج ہو اور رات، دن کے فتنوں سے اور ہر رات کو آنے والی ہر چیز کے شر سے مگر وہ رات کو آنے والی چیز جو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن “ چناچہ حضرت خالد نے یہ جملے کہے تو ان کی یہ حالت ختم ہوگئی۔
حدیث نمبر: 25147
٢٥١٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبد الرحمن بن يزيد قال: حدثنا مكحول أن رسول اللَّه ﷺ لما دخل مكة تلقته الجن بالشرر يرمونه، فقال جبريل: "يا محمد، تعوذ بهولاء الكلمات"، (فزجروا) (١) عنه، فقال: "أعوذ ⦗١٧٢⦘ بكلمات اللَّه التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما ينزل من السماء وما يعرج فيها، ومن شر ما بث في الأرض وما يخرج منها، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن شر كل طارق إلا طارقًا يطرق بخير يا رحمن] (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو جنات آپ کو اس حالت میں ملے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف شعلہ زنی کر رہے تھے۔ اس پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا۔ ” اے محمد ! آپ ان کلمات کے ذریعہ پناہ حاصل کرلیں۔ ‘ ‘ چناچہ جنات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور کردیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ کلمات) کہے تھے۔” میں اللہ تعالیٰ کے ان کلمات تامہ کے ذریعہ ، جن سے کوئی نیک اور بد تجاوز نہیں کرسکتا، آسمان سے اترنے والی اور آسمان پر چڑھنے والی ہر چیز کے شر سے پناہ پکڑتا ہوں اور ہر اس چیز سے پناہ پکڑتا ہوں جو زمین میں پھیلی ہوئی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے۔ اور رات، دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو آنے والی ہر چیز کے شر سے پناہ پکڑتا ہوں سوائے رات کو آنے والی اس چیز کے جو خیر لے کر آئے۔ اے رحمن۔ “
حدیث نمبر: 25148
٢٥١٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن (الجريري) (١) عن أبي العلاء عن عثمان بن أبي العاص أنه أتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن الشيطان قد (حال) (٢) بين صلاتي و (بين) (٣) (قراءتي) (٤)، قال: " (ذلك) (٥) شيطان (يقال) (٦) له خِنْزَب، فإذا أحسسته فاتفل عن يسارك ثلاثًا وتعوذ باللَّه من شره" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابوالعاص کے بارے میں روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! تحقیق شیطان میری نماز اور میری تلاوت کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہ شیطان ہے۔ جس کو خنزب کہا جاتا ہے۔ پس جب اس کو محسوس کرو تو تم اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دو اور اللہ تعالیٰ سے اس کے شر کی پناہ مانگو۔ “
حدیث نمبر: 25149
٢٥١٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا أبو التياح قال: سأل رجل (عبد اللَّه) (١) بن (خنبش) (٢): كيف (صنع) (٣) رسول اللَّه ﷺ (٤) (ليلة كادته الشياطين؟ قال: جاءت الشياطين إلى رسول اللَّه ⦗١٧٣⦘ ﷺ) (٥) من (الأودية) (٦)، وتحدرت عليه من (الجبال) (٧)، (وفيهم) (٨) شيطان معه شعلة من نار يريد (أن) (٩) يحرق بها رسول اللَّه ﷺ، (فأرعب) (١٠) منه، قال جعفر: أحسبه جعل يتأخر، وجاء جبريل فقال: "يا محمد قل، (قال: و) (١١) ما أقول؟ قال: قل أعوذ بكلمات اللَّه التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق وذرأ وبرأ، ومن شر ما (ينزل) (١٢) من السماء ومن شر ما يعرج فيها، ومن شر ما ذرأ في الأرض ومن شر ما يخرج منها، ومن (شر) (١٣) فتن الليل والنهار، ومن شر (كل) (١٤) طارق إلا (طارقًا) (١٥) يطرق بخير يا رحمن"، قال: فطفئت نار (الشياطين) (١٦) وهزمهم اللَّه (١٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو التیاح بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے حضرت عبد اللہ بن خنبش سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جب شیاطین نے مکر کرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیا تھا ؟ عبد اللہ نے جواب دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مختلف وادیوں سے اور مختلف پہاڑوں سے اتر کر شیاطین آئے اور ان میں ایک ایسا شیطان بھی تھا جس کے پاس آگ کا ایک بڑا انگارہ تھا۔ اور اس کے ذریعہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جلانا چاہتا تھا۔ لیکن پھر وہ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرعوب ہوگیا۔ جعفر راوی کہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا : ” اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کہو “ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” میں کیا کہوں ؟ “ جبرائیل نے کہا۔ ” آپ یہ کہو : میں اللہ تعالیٰ کے ان کلماتِ تامہ کے ذریعہ پناہ پکڑتا ہوں کہ جب کلمات سے مخلوق میں سے کوئی فاجر یا نیک تجاوز نہیں کرسکتا۔ اور کوئی پیدا ہونے والا اور نکلنے والا تجاوز نہیں کرسکتا۔ اور میں ہر اس چیز کے شر سے پناہ حاصل کرتا ہوں جو آسمان سے اترے اور آسمان میں چڑھے اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں داخل ہو اور زمین سے باہر آئے ، اور رات ، دن کے فتنوں کے شر سے اور رات کو آنے والی کسی بھی چیز کے شر سے مگر رات کو آنے والی وہ چیز جو خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن “۔ راوی کہتے ہیں۔ پس شیطانوں کی آگ بجھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ناکام کردیا۔
حدیث نمبر: 25150
٢٥١٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة (قال: حدثنا) (١) الأعمش عن مجاهد قال: كنت ألقى من (رؤية) (٢) (الغول) (٣) والشياطين بلاء وأرى خيالًا، فسألت ابن عباس (٤)، فقال: (أجرأ) (٥) على ما رأيت ولا (تفرق) (٦) منه، فإنه (يفرق) (٧) منك كما (تفرق) (٨) منه، ولا تكن أجبن السوادين، قال مجاهد: فرأيته (فأسندت) (٩) عليه (بعصا) (١٠) حتى سمعت وقعته (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے کہتے ہیں کہ مجھے شیاطین وغیرہ کی طرف برے برے خیالات و تصورات آتے تھے۔ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (اس کے بارے میں) پوچھا۔ تو انہوں نے فرمایا : تم نے جو کچھ دیکھا ہے وہ مجھے بھی بتاؤ۔ اس سے ڈرو نہیں۔ کیونکہ جس طرح تم اس سے ڈرتے ہو وہ بھی تم سے ڈرتے ہیں۔ تم اس سے بھی زیادہ ڈرپوک نہ بنو۔ حضرت مجاہد کہتے ہیں۔ میں نے پھر دوبارہ یہ دیکھا تو میں نے اس کو لاٹھی ماری یہاں تک کہ میں نے ضرب کی آواز بھی سُنی۔
حدیث نمبر: 25151
٢٥١٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد قال: (أخبرنا) (١) (ابن) (٢) عون عن إبراهيم النخعي قال: (كانوا) (٣) إذا رأى أحدهم في منامه (ما يكره) (٤) قال: ⦗١٧٥⦘ (أعوذ) (٥) بما عاذت به ملائكته ورسله من (شر) (٦) ما رأيت في منامي (أن) (٧) يصيبني منه (شيء) (٨) (أكرهه) (٩) في الدنيا والآخرة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نخعی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں میں سے جب کوئی خواب کی حالت میں ناپسندیدہ چیز دیکھتا تو یہ کہتا تھا۔ : میں اس ذریعہ سے پناہ پکڑتا ہوں جس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے فرشتے اور رسول پناہ پکڑتے ہیں ہر اس چیز کے شر سے جو میں نے اپنی خواب میں دیکھی کہ مجھے اس کی وجہ سے کوئی ایسی بات دنیا یا آخرت میں پہنچے جس کو میں پسند نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 25152
٢٥١٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا فزع أحدكم في منامه فليقل: بسم اللَّه أعوذ بكلمات اللَّه التامة من غضبه و (سوء) (١) عقابه وشر عباده و (من) (٢) (شر) (٣) الشياطين و (أن) (٤) يحضرون" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب ، اپنے والد، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جب کوئی اپنی نیند میں ڈر جائے تو اس کو یہ کہنا چاہیے۔ : ” میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ذریعہ سے اس کے غضب اور اس کے سخت انتقام اور اس کے شریر بندوں اور شیطانوں کی شرارت اور جو کچھ یہ شیطان میرے پاس لائیں (ان سب) سے پناہ میں آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 25153
٢٥١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن ابن أبي ليلى عن أخيه عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: إذا (أحس) (١) أحدكم بالشيطان فلينظر إلى الأرض و (ليتعوذ) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شیطان (کے اثرات) کو محسوس کرے تو اس کو چاہیئے کہ وہ زمین کو دیکھے اور اعوذ باللہ پڑھے۔