حدیث نمبر: 25137
٢٥١٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عروة بن عامر عن عبيد بن رفاعة الزرقي قال: قالت أسماء لرسول اللَّه ﷺ: إن بني جعفر تسرع إليهم العين، فأسترقي لهم من العين؟ قال: "نعم، فلو (كان) (١) شيء سابق القدر لسبقته العين" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن رفاعہ زرقی سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت اسماء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ جعفر کے بچوں کو نظر بہت جلد لگ جاتی ہے۔ تو کیا میں ان کو نظر کا دم، تعویذ کر وا لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت پاتی تو نظر ہی تقدپر پر سبقت پاتی۔ “
حدیث نمبر: 25138
٢٥١٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن يحيى بن سعيد عن نافع عن سليمان بن يسار أن عروة بن الزبير أخبره أن رسول اللَّه ﷺ دخل بيت أم سلمة فإذا صبي في البيت يشتكي، فسألهم (عنه) (١) فقالوا: نظن أن به العين، فزعم أن رسول اللَّه ﷺ قال: " (ألا) (٢) (تسترقون) (٣) له من العين" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت ام سلمہ کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر میں ایک بچہ کو دیکھا جس کو تکلیف تھی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر والوں سے اس کے بارے میں پوچھا ؟ لوگوں نے بتایا کہ ہمارے خیال میں اس کو نظر لگ گئی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اس کو نظر کا دم کیوں نہیں کروایا ؟ “۔
حدیث نمبر: 25139
٢٥١٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن إسحاق عن ⦗١٦٦⦘ عبد اللَّه بن أبي نجيح عن عبد اللَّه بن (بابيه) (١) مولى جبير بن مطعم قال: قالت أسماء بنت (عميس) (٢): قلت: يا رسول اللَّه إن العين (تسرع) (٣) إلى بني جعفر فأسترقي لهم؟ قال: "نعم فلو قلت لشيء: (يسبق) (٤) القدر (لقلت) (٥): إن العين تسبقه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن مطعم کے آزاد کردہ غلام ، عبد اللہ بن بابیہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس بتاتی ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جعفر کے بچوں کو نظر بہت جلدی لگ جاتی ہے تو کیا میں ان کو دم کروا لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ اور اگر مں کہتا کہ کوئی چیز تقدیر پر بھی سبقت پاسکتی ہے تو میں کہتا کہ نظر ، تقدیر پر سبقت پاسکتی ہے۔ “
حدیث نمبر: 25140
٢٥١٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاوية بن (هشام) (١) قال: حدثنا عمار بن (رزيق) (٢) عن عبد اللَّه بن عيسى عن أمية بن هند عن عبد اللَّه بن عامر بن ربيعة عن أبيه قال: (انطلقت) (٣) أنا وسهل بن حنيف نلتمس الخَمَر (٤)، فوجدنا خَمَرًا (و) (٥) غديرًا، وكان أحدنا يستحي أن يغتسل وأحد (يراه) (٦)، فاستتر مني حتى إذا رأى (أن) (٧) قد فعل نزع جبة عليه من كساء، ثم دخل الماء، فنظرت إليه فأعجبني ⦗١٦٧⦘ خلقه، (فأصبته) (٨) (منها) (٩) بعين، (فأخذته) (١٠) (قفقفة) (١١) وهو في الماء، فدعوته فلم (يجبني) (١٢) فانطلقت إلى النبي ﷺ فأخبرته الخبر، فقال: رسول اللَّه ﷺ (١٣): " (قوموا) (١٤) فأتاه"، فرفع (عن) (١٥) ساقه ثم أدخل إليه الماء، فلما أتاه ضرب صدره ثم قال: "اللهم أذهب حرها وبردها و (وصبها) (١٦) "، ثم قال: "قم"، فقام، فقال: رسول اللَّه ﷺ: "إذا رأى أحدكم من نفسه أو ماله أو أخيه (١٧) فليدع بالبركة فإن العين حق" (١٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اور سہل بن حنیف چلے اور ہم کسی اوٹ کی تلاش میں تھے۔ چناچہ ہم نے کوئی اوٹ یا کنواں پایا اور ہم میں سے ہر ایک اس بات سے شرماتا تھا کہ وہ غسل کرے اور اسے کوئی دیکھے۔ چناچہ انہوں نے میرے آگے پردہ کیا یہاں تک کہ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ میں غسل کرچکا ہوں تو انہوں نے وہ چادر کا جبہ اتار دیا جو انہوں نے پہنا ہوا تھا۔ اور پھر وہ پانی میں داخل ہوگئے۔ پس میں نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے ان کی ساخت بہت خوبصورت لگی جس کی وجہ سے انہں امیری نظر لگ گئی۔ پس انہوں نے پانی میں ہی خوب کپکپانا شروع کیا۔ میں نے انہیں بلایا لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اٹھو “۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان (سہل) کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پنڈلی مبارک سے (کپڑا) اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف پانی میں داخل ہوگئے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سینہ پر مارا اور پھر فرمایا : ” اے اللہ ! اس کی سردی، گرمی اور درد کو دور کر دے۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اٹھ کھڑا ہو “ چناچہ وہ کھڑے ہوگئے، اس پر سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنے آپ یا اپنے مال یا اپنے بھائی سے کوئی ایسی چیز دیکھے جو اس کو بہت پیاری لگے تو اسے برکت کی دعا کرنی چاہیے کیونکہ نظر برحق ہے۔ “
حدیث نمبر: 25141
٢٥١٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن الزهري عن أبي أمامة بن سهل (بن حنيف) (١) عن أبيه أن عامرًا مر به وهو يغتسل ⦗١٦٨⦘ فقال: ما رأيت كاليوم (قط) (٢) ولا جلد (مخبأة) (٣)، (فلبط) (٤) به حتى ما يعقل (لشدة) (٥) الوجع، فأخبر بذلك النبي ﷺ، (فدعاه النبي) (٦) ﷺ (٧) (فتغيظ) (٨) عليه، وقال: " (قتلته) (٩) (علا ما) (١٠) يقتل أحدكم أخاه؟ ألا بركت؟ "، فأمر النبي ﷺ (بذلك) (١١) فقال: "اغسلوه"، فاغتسل فخرج مع (الركب) (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عامر ، سہل کے پاس سے گذرے جبکہ سہل غسل کر رہے تھے۔ حضرت عامر نے کہا۔ میں نے آج کے دن (دکھائی دینے والے شخص کی طرح کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی اس قدر سفید چمڑی دیکھی۔ پس (اتنے میں) حضرت سہل زمین پر گرگئے۔ یہاں تک کہ بوجہ شدت تکلیف کے انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اطلاع کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عامر کو بلایا اور ان پر غصہ کا اظہار کیا اور فرمایا : ” تم نے اس کو قتل کردیا ہے۔ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کس بنیاد پر قتل کرتا ہے ؟ تم نے اس کے لئے دعائے برکت کیوں نہیں کی ؟ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان (عامر ) کو حکم دیا اور فرمایا۔ ” اس کو غسل دو “ چناچہ انہوں نے غسل کیا اور قافلہ کے ہمراہ چلے گئے۔ حضرت زہری فرماتے ہیں۔ علم کی بات یہ ہے کہ غسل وہ شخص کرتا ہے جس نے نظر لگائی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک پیالہ میں پانی لایا جائے اور پھر یہ اس پیالہ میں دھوئے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالے اور پھر اپنا بایاں ہاتھ ڈالے اور اپنی دائیں کہنی پر پانی ڈالے اور دایاں ہاتھ ڈالے اور اپنی بائیں کہنی پر پانی ڈالے پھر اپنا دایاں قدم دھوئے پھر اپنا دایاں ہاتھ دھوئے پھر اپنا بایاں قدم دھوئے۔ پھر دایاں ہاتھ ڈالے اور دونوں گھٹنے دھوئے۔ اور اس کے ازار کو پکڑ لے اور اس کے سر پر ایک ہی مرتبہ یہ پانی انڈیل دے۔ پیالے کو خالی ہونے تک انڈیلے رکھے۔
حدیث نمبر: 25142
٢٥١٤٢ - وقال الزهري: (إن) (١) هذا من العلم، (تغسل) (٢) الذي عانه، قال: يؤتى بقدح (من) (٣) ماء فيدخل يده في القدح فيمضمض ويمجه في القدح، ⦗١٦٩⦘ ويغسل وجهه في القدح، ثم (يصب) (٤) بيده اليسرى على كفه اليمنى، ثم بيده اليمنى على كفه اليسرى، ويدخل يده (اليسرى) (٥) فيصب على مرفق يده اليمنى [وبيده اليمنى على مرفق يده اليسرى، ثم يغسل قدمه اليمنى ثم يغسل يده اليمنى] (٦)، فيغسل (قدمه) (٧) اليسرى، ثم (يدخل) (٨) (يده) (٩) اليمنى فيغسل الركبتين، ويأخذ (داخلة) (١٠) إزاره فيصب على رأسه صبة واحدة، ولا (يدع) (١١) القدح حتى يفرغ.
حدیث نمبر: 25143
٢٥١٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (محمد بن) (١) عبد اللَّه قال: حدثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم (٢) عن عائشة أنها كانت تأمر (العاين) (٣) أن يتوضأ (فيغسل) (٤) الذي أصابته العين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت ہے کہ وہ نظر لگانے والے کو حکم دیتی تھیں کہ وہ وضو کرے اور پھر جس کو نظر لگی ہے اس کے بچے ہوئے پانی سے اسے غسل دیا جائے۔
حدیث نمبر: 25144
٢٥١٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أحمد بن إسحاق قال: حدثنا وهيب عن ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "العين حق، وإذا استغسل (١) (فليغتسل) " (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نظر برحق ہے اور جب کسی کو نظر کی وجہ سے غسل کرنے کا کہا جائے تو اس کو غسل کرنا چاہیے۔ “