کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: دم پر کچھ (عوض) لینے میں اجازت دینے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 25132
٢٥١٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن زكريا عن عامر قال: حدثني خارجة بن الصلت (أن عمه) (١) أتى النبي ﷺ، فلما رجع مر على أعرابي مجنون موثق في الحديد، فقال بعضهم: أعندك شيء تداويه به؟ فإن صاحبكم قد (جاء) (٢) بخير، فرقيته بأم القرآن ثلاثة أيام، كل يوم مرتين، فبرأ، فأعطوني مائة شاة، فلما قدمت أتيت النبي ﷺ فأخبرته فقال: "أقلت غير هذا؟ " قلت: لا، قال: "كلها بسم اللَّه، فلعمري لئن (أكل) (٣) برقية باطل، لقد ⦗١٦٢⦘ أكلت برقية حق" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خارجہ بن صلت بیان کرتے ہیں کہ ان کے چچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر جب وہ واپس ہوئے تو ان کا گزر ایک ایسے دیہاتی پر ہوا جس کو بیڑیوں میں جکڑا ہو اتھا کچھ لوگوں نے (ان کے چچا سے) کہا۔ کیا تمہارے پا س کوئی ایسی چیز ہے۔ جس کے ذریعے تم اس کا علاج کرسکو ؟ کیونکہ تمہارا ساتھی (مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) خیر کی بات لے کر آیا ہے۔ پس میں نے اس دیہاتی کو تین مرتبہ سورة فاتحہ پڑھ کردو دن مسلسل دم کیا تو وہ صحت یا ب ہوگیا۔ اس پر ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں عطیہ میں دیں۔ پھر جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” کیا تم نے اس کے علاوہ کچھ پڑھا تھا ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا : ” ان بکریوں کو کھاؤ، بسم اللہ کرو۔ میری عمر کی قسم ! جس کسی نے باطل تعویذ کے ذریعہ کھایا (سو کھایا) لیکن تم یقینا برحق تعویذ کے ذریعہ کھاؤ گے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25132
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ خارجة بن الصلت صدوق، أخرجه أحمد (٢١٨٣٥)، وأبو داود (٣٨٩٦)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٣٢)، وابن حبان (٦١١١)، والحاكم ١/ ٥٥٩، والطبراني ١٧/ ٥٠٩، والطحاوي ٤/ ١٢٦، وابن الأثير ٦/ ٣٦٧، والمزي ٨/ ١٤، وابن السني (٦٣٠)، والطيالسي (١٣٦٣)، والبيهقي في الدلائل ٧/ ٩١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25132، ترقيم محمد عوامة 24052)
حدیث نمبر: 25133
٢٥١٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن جعفر بن (١) إياس عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: بعثنا النبي ﷺ (٢) ثلاثين راكبًا في سرية، (قال) (٣): فنزلنا بقوم فسألناهم (القرى) (٤)، فلم يقرونا، (قال) (٥): فلُدغ سيدهم، قال: فأتونا، فقالوا: أفيكم أحد (يرقي) (٦) من العقرب؟ قال: قلت: نعم (أنا) (٧)، ولكن لا أرقيه حتى (تعطونا) (٨) غنما، (قال) (٩): فقالوا: (إنا) (١٠) (نعطيكم) (١١) ثلاثين شاة، قال: فقبلنا، قال: فقرأت (١٢) (فاتحة) (١٣) ⦗١٦٣⦘ (الكتاب) (١٤) سبع مرات، قال: فبرأ (١٥)، فقلنا لا تعجلوا حتى تأتوا رسول اللَّه ﷺ قال: فلما قدمنا عليه، قال: فذكرت له الذي صنعت قال: "أو ما علمت أنها رقية، أقسموا الغنم، وأضربوا لي معكم بسهم" (١٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تیس سواروں کو ایک سریہ میں بھیجا۔ فرماتے ہیں : پس ہم کچھ لوگوں کے پاس اترے اور ہم نے ان سے مہمان نوازی کا کہا تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی۔ کہتے ہیں (اسی دوران) ن کے سردار کو ڈسا گیا۔ چناچہ وہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو بچھو کو دم کرسکتا ہو ؟ ابو سعید کہتے ہیں۔ میں نے جواب دیا۔ ہاں۔ لیکن اسکو تب تک دم نہیں کروں گا جب تک تم ہمیں بکریاں نہ دو ۔ حضرت ابوسعید کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ ہم آپ لوگوں کو تیس بکریاں دیں گے۔ کہتے ہیں۔ (اس سے) وہ صحت یاب ہوگیا تو ہم نے (آپس میں) کہا۔ جلدی نہ کرو یہاں تک کہ تم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے جو کچھ کیا تھا اس کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تو جانتا تھا کہ یہ دم (بھی) ہے ؟ بکریاں تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی نکالو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25133
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٢٧٦)، ومسلم (٢٢٠١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25133، ترقيم محمد عوامة 24053)
حدیث نمبر: 25134
٢٥١٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: أتى رسول اللَّه ﷺ (رجل) (١) فقال: إني رقيت فلانا وكان به جنون، فأُعطيت قطيعًا من غنم، وإنما رقيته بالقرآن، فقال: رسول اللَّه ﷺ: "من أخذ برقية باطل فقد أخذت برقية حق" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا۔ میں نے فلاں شخص کو دم کیا تھا اور اس آدمی کو جنون تھا۔ مجھے (عوض میں) بکریوں کا ایک ریوڑد یا گیا ہے۔ جبکہ میں نے صرف قرآن مجید کے ذریعہ سے دم کیا تھا۔ تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کسی نے باطل تعویذ کے ذریعہ لیا (تو وہ جانے) لیکن یقینا تو نے تو برحق تعویذ دم پر لیا ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25134
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ قيس بن أبي حازم تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25134، ترقيم محمد عوامة 24054)
حدیث نمبر: 25135
٢٥١٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عثمان بن حكيم قال: أخبرني عبد الرحمن بن عبد العزيز عن يعلى بن مرة، قال: خرجت مع رسول اللَّه ﷺ (في سفر) (١) حتى إذا كنا ببعض الطريق مررنا بامرأة جالسة، (و) (٢) معها صبي لها، فقالت: يا رسول (اللَّه) (٣) (إن) (٤) ابني هذا به بلاء، وأصابنا منه بلاء، يؤخذ في اليوم لا أدري كم مرة؟ فقال: " (ناولينيه) (٥) "، فرفعته إليه، فجعله بينه وبين ⦗١٦٤⦘ واسطة (الرحْل) (٦)، ثم (فغرفاه) (٧) ثم نفث فيه ثلاثًا: "بسم اللَّه أنا عبد اللَّه (أخسأ) (٨) عدو اللَّه"، ثم ناولها إياه، ثم قال: القينا في الرجعة في هذا المكان فأخبرينا ما فعل؟ قال: فذهبنا ثم رجعنا فوجدناها في ذلك المكان معها شياه (ثلاث) (٩)، فقال: "ما فعل صبيك؟ " (فقالت) (١٠): والذي بعثك بالحق (١١) (ما أحسسنا) (١٢) منه بشيء حتى (١٣) هذه الساعة، فاجتَرِز هذه الغنم، قال: أنزل فخذ منها واحدة ورد البقية (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ بن مرہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں گیا یہاں تک کہ جب ہم راستہ کے درمیان ہی میں تھے تو ہمارا گزر ایک ایسی عورت پر ہو اجو بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے ہمراہ اس کا ایک بچہ تھا۔ اس عورت نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرا یہ بچہ ہے اور اس کو کوئی بلاء ہے اور اس کی وجہ سے ہمیں بھی تکلیف ہے۔ نامعلوم دن میں کتنی مرتبہ اس کو وہ بلاء تنگ کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ بچہ مجھے پکڑاؤ۔ “ چناچہ عورت نے وہ بچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بلند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچہ کو اپنے اور سواری کے کجاوہ کے درمیان بٹھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا منہ کھولا اور اس میں تین مرتبہ یہ الفاظ کہہ کر پھونکے : ” اللہ کے نام سے، میں اللہ کا بندہ ہوں، اے دشمن خدا دفع ہوجا۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بچہ اس عورت کو پکڑا دیا اور فرمایا : ” ہمارے اس جگہ واپسی پر تم ہمیں ملو اور بتاؤ کیا ہوا ؟ “ راوی کہتے ہیں۔ پس ہم وہاں سے چل پڑے پھر ہم جب لوٹے تو ہم نے اس عورت کو اسی جگہ پایا اور اس کے ساتھ تین بکریاں بھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : ” تیرے بچہ کا کیا بنا ؟ “ اس عورت نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ ہم نے ابھی تک اس بچہ سے کوئی تکلیف محسوس نہیں کی ہے۔ پس آپ یہ بکریاں لے لیں اور ذبح کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اُترو ! اور ان میں سے ایک بکری لے لو اور باقی بکریاں واپس کردو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25135
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25135، ترقيم محمد عوامة 24055)
حدیث نمبر: 25136
٢٥١٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: (أخبرنا) (١) إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمارة بن عبد عن علي قال: لا رقية إلا (مما) (٢) أخذ سليمان (منه) (٣) الميثاق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ ان کے سوا جن سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے میثاق لیا تھا کسی سے دم، تعویذ جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25136
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25136، ترقيم محمد عوامة 24056)