کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مریض کے بارے میں، کس چیز سے دم کیا جائے اور کس سے تعویذ دیا جائے
حدیث نمبر: 25114
٢٥١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن (عبيد اللَّه) (١) عن زياد بن ثويب عن أبي هريرة قال: دخل علي رسول اللَّه ﷺ وأنا اشتكي، فقال: (ألا) (٢) أرقيك برقية علمنيها جبريل "بسم اللَّه أرقيك، (واللَّه) (٣) يشفيك، من كل (أرب) (٤) يوذيك، ومن شر النفاثاث في العقد، ومن شر حاسد إذا حسد" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ مجھے کوئی تکلیف تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” کیا میں تمہیں اس رقیہ کے ذریعہ دم نہ کروں جو مجھے جبرائیل نے سکھایا تھا، اللہ کے نام سے میں تمہیں دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ تمہں شفاء دے ہر اس مصیبت سے جو تمہیں اذیت دے اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25114
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25114، ترقيم محمد عوامة 24034)
حدیث نمبر: 25115
٢٥١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عبد ربه (عن) (١) عمرة عن عائشة أن رسول اللَّه ﷺ (كان) (٢) مما يقول للمريض (ببزاقه) (٣) بإصبعه: "بسم اللَّه (بتربة) (٤) أرضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض کے لیئے (بطور دم) جو پڑھتے تھے اس میں یہ الفاظ بھی تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے تھوک کو انگلی کے ساتھ لگا کر کہتے تھے۔”: اللہ کے نام سے، ہماری زمین کی مٹی ہم میں سے بعض کی تھوک کے ساتھ مل کر ہمارے پروردگار کے حکم سے ہمارے بیمار کو شفا دیتی ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25115
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٤٦)، ومسلم (٢١٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25115، ترقيم محمد عوامة 24035)
حدیث نمبر: 25116
٢٥١١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مسلم عن مسروق عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ يعوذ بهذه الكلمات: "أذهب ⦗١٥٣⦘ (الباس) (١) رب الناس، واشف وأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك (شفاء) (٢) لا (يغادر) (٣) سقما"، قالت: فلما ثقل رسول اللَّه ﷺ (٤) في مرضه الذي مات فيه أخذت بيده فجعلت أمسحها وأقولها، قالت: فنزع يده من يدي وقال: "اللهم اغفر لي وألحقني (بالرفيق) (٥) (الأعلى) (٦) " قالت: فكان (هذا) (٧) آخر (ما) (٨) سمعت من كلامه (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کلمات کے ساتھ تعویذ (پناہ) دیا کرتے تھے۔ ’ ’ اے لوگوں کے پروردگار ! تکلیف دور کر دے، اور شفاء عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں ہے اور ایسی شفا دے جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے ‘ ‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے مرض الموت میں حالت زیادہ بوجھل ہوگئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اس کو مسح کر کے یہ کلمات کہنے لگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا : ” اے اللہ ! تو میری مغفرت فرما اور مجھے توُ رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے “ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پس یہ آخری بات تھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25116
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٤٣)، ومسلم (٢١٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25116، ترقيم محمد عوامة 24036)
حدیث نمبر: 25117
٢٥١١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن علي (قال) (١): اشتكيت فدخل علي النبي ﷺ (٢) وأنا أقول: إن كان أجلي قد (حضر) (٣) (فأرحني) (٤)، وإن كان متأخرا فاشفني أو عافني، وإن كان بلاء (فصبرني) (٥) قال: فقال النبي ﷺ (٦): " (كيف قلت؟ " ⦗١٥٤⦘ قال: فقلت) (٧) له، فمسحني بيده ثم قال: "اللهم اشفه أو عافه" (قال) (٨) فما اشتكيت ذلك (الوجع) (٩) بعد (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ مجھے کچھ شکایت تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں (اس وقت) کہہ رہا تھا۔ اگر میری موت کا وقت آچکا ہے تو تُو مجھے راحت دے دے اور اگر میری موت کا وقت ابھی دیر سے ہے تو پھر تو مجھے شفا دے دے یا عافیت بخش دے اور اگر یہ آزمائش ہے تو پھر تو مجھے صبر کی توفیق دے دے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا ” تم کیا کہہ رہے ہو ؟ “ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بھی کہی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مجھ پر پھیرا پھر فرمایا : ’ ’ اے اللہ ! اس کو شفا دے دے۔ “ یا فرمایا، اس کو عافیت دے دے، پس اس کے بعد مجھے یہ تکلیف کبھی نہ ہوئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25117
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد اللَّه بن سلمة صدوق، أخرجه أحمد (١٠٥٧)، والترمذي (٣٥٦٤)، وابن حبان (٦٩٤٠)، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٥٧)، وأبو يعلى (٤٠٩)، والبزار (٧٠٩)، والطيالسي (١٤٣)، وعبد بن حميد (٧٣)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٩٦، والحاكم ٢/ ٦٢٠، وسيأتي ١٠/ ٣١٦ برقم [٣١٤٧٤].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25117، ترقيم محمد عوامة 24037)
حدیث نمبر: 25118
٢٥١١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن الحجاج (عن المنهال) (١) (بن) (٢) عمرو (عن) (٣) عبد اللَّه (بن) (٤) الحارث عن ابن عباس أن رسول اللَّه ﷺ قال: "من دخل على مريض لم تحضر وفاته فقال: أسأل اللَّه العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك، سبع مرات (شفي) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی ایسے مریض کے پاس حاضر ہو جس کی وفات کا وقت نہیں آیا اور یہ آدمی (جانے والا) سات مرتبہ یہ الفاظ کہے۔ : : ” میں عظمت والے اللہ سے جو عرش عظیم کا مالک ہے، یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفاء عطا کرے۔ “ تو مریض کو شفاء مل جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25118
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25118، ترقيم محمد عوامة 24038)
حدیث نمبر: 25119
٢٥١١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن عبد الرحمن بن ثوبان قال: أخبرني (عمير) (١) بن هانئ قال: سمعت (جنادة) (٢) بن أبي أمية يقول: ⦗١٥٥⦘ سمعت عبادة بن الصامت يحدث عن رسول اللَّه ﷺ أن جبريل (رقاه) (٣) وهو يوعك فقال: "بسم اللَّه أرقيك من كل داء يؤذيك من (كل) (٤) حاسد إذا حسد ومن كل عين، واسم اللَّه يشفيك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنداً روایت کرتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دم کیا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکلیف زیادہ تھی، پس جبرائیل نے کہا : اللہ کے نام سے میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس بیماری سے جو آپ کو تکلیف دے اور ہر حاسد سے جب وہ حسد کرنے لگے اور ہر نظر سے ، اور اللہ کا نام آپ کو شفا دے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25119
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الرحمن ثوبان، أخرجه أحمد (٢٢٧٦٠)، وابن ماجه (٣٥٢٧)، وابن حبان (٩٥٣)، والحاكم ٤/ ٤١٢، والنسائي في عمل اليوم والليلة (١٠٠٤)، وعبد بن حميد (١٨٧)، والشاشي (١٢٢٠)، والبزار (٢٦٨٤)، والطبراني في الدعاء (١٠٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25119، ترقيم محمد عوامة 24039)
حدیث نمبر: 25120
٢٥١٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا دخل على مريض قال: " (أذهب) (١) (البأس) (٢) رب الناس، وأشف (أنت) (٣) الشافي، لا شفاء إلا (شفاؤك) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے تو فرماتے : : ” اے لوگوں کے پروردگار ! تکلیف دور فرما دے اور شفا دے دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے بغیر کوئی شفا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25120
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الحارث، أخرجه أحمد (٥٦٥)، وعبد بن حميد (٦٦)، والترمذي (٣٥٦٥)، والبزار (٨٤٧)، وسيأتي ١٠/ ٣١٣ برقم [٣١٤٦٦].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25120، ترقيم محمد عوامة 24040)
حدیث نمبر: 25121
٢٥١٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر العبدي قال: حدثنا زكريا قال: حدثني سماك عن محمد بن حاطب قال: تناولت قدرا لنا فاحترقت يدي، فانطلقت بي أمي إلى رجل (١) جالس في الجبانة، فقالت (٢): يا رسول اللَّه، فقال: ⦗١٥٦⦘ "لبيك وسعديك" ثم أدنتني منه فجعل ينفث ويتكلم بكلام لا أدري ما هو، فسألت أمي (بعد ذلك) (٣) ما كان يقول؛ فقالت: كان يقول: "أذهب البأس رب الناس، وأشف أنت الشافي لا (شافي) (٤) إلا أنت" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن حاطب سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ایک ہانڈی کو پکڑ لیا تھا اور میرا ہاتھ جل گیا تھا تو میری والدہ مجھے لے کر ایک آدمی کے پاس چلی گئی جو ایک ہموار زمین میں بیٹھا ہوا تھا، اور میری والدہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! انہوں نے جواب دیا : ” حاضر ہوں “ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے قریب کیا، پس انہوں نے کچھ کلمات کہنا شروع کیے، مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کلمات کیا ہیں اور پھونک مارنا شروع کیا، پھر میں نے اس کے بعد اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ رہے تھے ؟ تو والدہ نے بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ رہے تھے۔ : ” اے لوگوں کے پروردگار ! تکلیف کو دور کر دے اور شفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25121
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه أحمد (١٥٤٥٢)، والنسائي في الكبرى (١٠٨٦٣)، وابن حبان (٢٩٧٦)، والطيالسي (١١٩٤)، والحاكم ٤/ ٦٢، والطبراني ١٩ (٥٣٨)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ١٧٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25121، ترقيم محمد عوامة 24041)
حدیث نمبر: 25122
٢٥١٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أحمد بن عبد اللَّه قال: حدثنا أبو شهاب عن (داود) (١) عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: اشتكى رسول اللَّه ﷺ فرقاه جبريل فقال: "بسم اللَّه أرقيك من كل شيء يؤذيك من كل حاسد وعين، واللَّه يشفيك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف ہوگئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جبرائیل نے دم کیا، پس انہوں نے کہا۔ ” اللہ کے نام سے میں آپ کو ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دے اور ہر حاسد سے اور نظر سے دم کرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ ہی آپ کو شفا دیں گے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25122
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١٨٦)، وأحمد (١١٥٥٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25122، ترقيم محمد عوامة 24042)
حدیث نمبر: 25123
٢٥١٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى عن سفيان عن منصور عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعوذ الحسن والحسين يقول: "أعيذكما بكلمات اللَّه التامة من كل (شيطان) (١) وهامة، ومن كل (عين) (٢) لامة"، ويقول: "هكذا كان إبراهيم يعوذ (ابنيه) (٣): إسماعيل وإسحاق" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسن اور حضرت حسین کو ان کلمات کے ساتھ تعویذ دیتے تھے، فرماتے تھے : : ” میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ذریعہ ہر شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر بری نظر سے پناہ میں دیتا ہوں اور فرماتے تھے کہ ابراہیم بھی اپنے دونوں بیٹوں، اسماعیل اور اسحاق ، کو اسی طرح تعویذ (دم) دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25123
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٧١)، وأحمد (٢١١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25123، ترقيم محمد عوامة 24043)
حدیث نمبر: 25124
٢٥١٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيدة بن حميد عن منصور عن المنهال عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن النبي ﷺ (١) بمثله أو نحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25124
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25124، ترقيم محمد عوامة 24044)
حدیث نمبر: 25125
٢٥١٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (زيد) (١) بن حباب عن إبراهيم بن إسماعيل (ابن) (٢) أبي حبيبة قال: حدثني داود بن (الحصين) (٣) عن عكرمة عن ابن عباس قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعلمنا من الأوجاع كلها، ومن الحمى هذا الدعاء: "بسم اللَّه الكبير، أعوذ باللَّه العظيم من شر كل عرق (نعار) (٤) ومن شر حر النار" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ہمیں ہر طرح کی تکالیف اور بخار کے لئے یہ دعا سکھایا کرتے تھے ” اللہ کے نام سے جو بہت بڑا ہے، میں پناہ پکڑتا ہوں اس اللہ سے جو بہت عظمت والا ہے، ہر تیز رگ سے اور ہر آگ کی شدت کے شر سے۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25125
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ إبراهيم بن إسماعيل ضعيف، ورواية داود عن عكرمة ضعيفة، أخرجه أحمد (٢٧٢٩)، والترمذي (٢٠٧٥)، وابن ماجه (٣٥٢٦)، والحاكم ٤/ ٤١٤، وعبد الرزاق (١٩٧٧١)، وعبد بن حميد (٥٩٤)، والعقيلي ١/ ٤٤، والطبراني (١١٥٦٣)، وابن السني (٥٦٦)، وابن عدي ١/ ٢٣٥، وابن عساكر ٤١/ ٢١٢، وابن أبي الدنيا في المرضى (١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25125، ترقيم محمد عوامة 24045)
حدیث نمبر: 25126
٢٥١٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الحسن بن موسى قال: حدثنا حماد بن سلمة عن فرقد (السبخي) (١) عن سعيد بن جبير عن ابن عباس أن امرأة جاءت بابن لها إلى النبي ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه، إن ابني هذا به جنون، وإنه يأخذه [عند ⦗١٥٨⦘ عشائنا و (عند) (٢) غدائنا) (٣)، فيخبث (٤)، قال: (فمسح) (٥) رسول اللَّه ﷺ صدره ودعا له فثع (ثعة) (٦) فخرج من جوفه مثل (الجرو) (٧) الأسود (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنا ایک بیٹا لے کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے اس بیٹے پر جنوں (کا اثر) ہے، اور یہ دورہ بچہ کو صبح و شام پڑتا ہے اور بہت بُرا منظر ہوتا ہے، راوی کہتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچہ کے سینہ کو ملا اور اس کے لئے دعا کی تو اس نے ایک مرتبہ الٹی (قے) کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ ککڑی کی طرح کوئی چیز نکلی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25126
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال فرقد، أخرجه أحمد (٢١٣٣)، والدارمي (١٩)، والبيهقي في دلائل النبوة (٣٩٥)، والطبراني (١٢٤٦٠)، وأبو نعيم في الدلائل (٣٩٥)، والحربي في غريب الحديث ٢/ ٧٢٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25126، ترقيم محمد عوامة 24046)
حدیث نمبر: 25127
٢٥١٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن يحيى بن سعيد عن عمرة ابنة عبد الرحمن قالت: اشتكت عائشة أم المؤمنين، وإن أبا بكر دخل عليها و (يهودية) (١) (ترقيها) (٢)، فقال: أرقيها بكتاب اللَّه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کوئی تکلیف تھی۔ حضرت ابوبکر ان کے پاس تشریف لائے تو (دیکھا) ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دم کر رہی ہے تو حضرت ابوبکر نے فرمایا : اس کو اللہ کی کتاب کے ذریعہ دم کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25127
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25127، ترقيم محمد عوامة 24047)
حدیث نمبر: 25128
٢٥١٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا بن فضيل عن العلاء بن المسيب عن فضيل ابن عمرو قال: جاء رجل إلى (علي) (١) فقال: إن فلانا شاكٍ قال: (فيسرك) (٢) إن (يبرأ) (٣)؟ قال: نعم، قال: قل يا حليم يا كريم اشف فلانا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل بن عمرو سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا، فلاں آدمی کو تکلیف ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا، تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ صحت یاب ہوجائے ؟ آنے والے نے کہا۔ جی ہاں ! آپ نے فرمایا : تم یوں کہو، اے حلیم ! اے کریم ! فلاں آدمی کو شفا عطا فرما۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25128
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25128، ترقيم محمد عوامة 24048)
حدیث نمبر: 25129
٢٥١٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى (١) بن أبي (بكير) (٢) قال: حدثنا (٣) زهير بن محمد (عن يزيد) (٤) بن خصيفة عن (عمر) (٥) بن عبد اللَّه بن كعب عن نافع عن عثمان بن (أبي) (٦) (العاص) (٧) الثقفي قال: قدمت على رسول اللَّه ﷺ وبي وجع قد كاد يبطلني، فقال (لي) (٨) رسول اللَّه ﷺ (٩): "اجعل يدك اليمنى عليه، ثم قل بسم اللَّه أعوذ بعزة اللَّه وقدرته من شر ما أجد سبع مرات"، ففعلت ذلك فشفاني اللَّه (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس حالت میں حاضر ہوا کہ مجھے ایسی تکلیف تھی جو قریب تھا کہ مجھے ہلاک کردیتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ” تم اپنے داہنے ہاتھ کو اس درد کی جگہ پر رکھ دو ، پھر یہ الفاظ کہو ” میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور ان کی قدرت کی پناہ میں آتا ہوں ہر اس تکلیف سے جو میں محسوس کر رہا ہوں، سات مرتبہ کہو “ پس میں نے یہ عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا عطا فرما دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25129
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وهم فيه زهير فسمى شيخه عمر، وهو عند مالك بن أنس وإسماعيل بن جعفر: (عمرو)، والحديث أخرجه مسلم (٢٢٠٢)، وأحمد (١٦٢٦٨)، وانظر: الدعاء للطبراني (١١٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25129، ترقيم محمد عوامة 24049)
حدیث نمبر: 25130
٢٥١٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن سليمان بن عمرو بن (الأحوص) (١) عن أمه أم جندب (قالت) (٢): ⦗١٦٠⦘ رأيت رسول اللَّه ﷺ (٣) (تبعته) (٤) امرأة من خثعم معها (صبي) (٥) لها (به) (٦) بلاء (٧)، (فقالت: يا رسول اللَّه إن هذا ابني وبقية أهلي، وبه بلاء) (٨)، لا يتكلم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "ائتوني بشيء من ماء"، فأتي به، فغسل فيه يديه ومضمض فاه (فيه) (٩)، ثم أعطاها فقال: "اسقيه منه (وصبي عليه منه) (١٠) واستشفي اللَّه له"، فلقيت المرأة فقلت: لو وهبت لي منه، فقالت: إنما هو لهذا (المبتلى) (١١)، فلقيت المرأة من الحول فسألتها عن الغلام فقالت: برأ وعقل (عقلًا) (١٢) ليس كعقول الناس (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن عمرو بن احوص اپنی والدہ ام جندب سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک عورت آرہی تھی اور اس کے پاس اس کا بچہ تھا جس کو کوئی بیماری تھی، یہ عورت کہہ رہی تھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ میرا بٹاپ ہے اور یہی میرے خاندان کا بقیہ (بچا ہوا) ہے، لیکن اس کو کوئی بیماری ہے کہ یہ گفتگو نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پاس تھوڑا سا پانی لاؤ “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور کلی کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ پانی عورت کو دے کر ارشاد فرمایا : ” اس پانی میں سے کچھ اس بچہ کو پلا دو اور کچھ پانی اس بچہ پر انڈیل دو اور اللہ تعالیٰ سے اس بچہ کے لئے شفا مانگو “ (راویہ کہتی ہیں) میں اس عورت سے ملی تھی اور میں نے اس سے کہا تھا۔ اگر تم یہ بچہ مجھے ہدیہ کردو ؟ اس عورت نے کہا یہ بچہ تو اسی مصیبت کا ہے پھر میں اس عورت سے اگلے سال ملی اور میں نے اس سے بچہ کے بارے میں پوچھا ؟ تو اس نے کہا وہ صحت یاب ہوگیا اور وہ ایسی عقل کا مالک ہے کہ وہ عام لوگوں کی عقلوں سے جدا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25130
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد، أخرجه أحمد (٢٧١٣١)، وابن ماجه (٣٥٣٢)، وعبد بن حميد (١٥٦٧)، وابن سعد ٨/ ٣٠٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٩٣)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ٤٤٤، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٣٥٢، وأبو نعيم في الدلائل (٣٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25130، ترقيم محمد عوامة 24050)
حدیث نمبر: 25131
٢٥١٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن أبي (حية) (١) عن عبد العزيز بن رفيع عن عبد اللَّه بن أبي الحسين عن عمر بن الخطاب أن ⦗١٦١⦘ رسول اللَّه ﷺ قال: "نزل (ملكان، فجلس) (٢) أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي، فقال: الذي عند رجلي (للذي) (٣) عند رأسي: ما به؟ قال: حمى شديدة، قال: عوّذه، قال: فما نفث ولا نفخ، (فقال) (٤): بسم اللَّه أرقيك واللَّه يشفيك، خذها فلتهنئك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو فرشتے نیچے آئے اور ان میں سے ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا، جو فرشتہ میرے پاؤں کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اس نے میرے سر کی طرف بیٹھے ہوئے فرشتے سے پوچھا اس آدمی کو کیا ہوا ہے ؟ اس نے جواب دیا، سخت بخار ہے، پہلے نے کہا، اس کو دم کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں، اس نے پھونک نہیں ماری … چناچہ اس نے کہا، اللہ کے نام سے میں آپ کو دم کرتا ہوں اور اللہ ہی آپ کو شفا دے گا، یہ دم لو اور تمہیں مبارک ہو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25131
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ يحيى بن أبي حية ضعيف، وعبد اللَّه بن أبي الحسن لا يروي عن عمر، أخرجه الطبراني في الدعاء (١٠٩٣)، وابن السني في عمل اليوم والليلة (٥٦٩)، والقزويني في التدوين ٤/ ٨٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25131، ترقيم محمد عوامة 24051)