حدیث نمبر: 25104
٢٥١٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن إبراهيم قال: كانوا يرقون، ويكرهون النفث في الرقى.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ پہلے لوگ دم تعویذ کرتے تھے لیکن تعویذات میں پھونک مارنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25105
٢٥١٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عرعرة) (١) بن (البرند) (٢) عن أبي (الهزهاز) (٣) قال: دخلت على الضحاك وهو وجع، فقلت: (ألا) (٤) (أعوذك) (٥) يا أبا محمد، قال: بلى، ولا تنفث، قال: فعوذته بالمعوذتين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الہزہاز سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں حضرت ضحاک کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ تکلیف میں تھے، میں نے (ان سے) عرض کیا اے ابو محمد ! کیا میں آپ کو دم نہ کروں ؟ انہوں نے فرمایا : کیوں نہیں (بلکہ کرو) لیکن پھونک نہ مارنا، ابوالہزہاز کہتے ہیں : پس میں نے ان کو معوذتین کے ذریعہ دم کیا۔
حدیث نمبر: 25106
٢٥١٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب قال: قال عكرمة: أكره أن أقول (في الرقية) (١): بسم (اللَّه) (٢) أف.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت عکرمہ کا ارشاد ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں تعویذ ، دم میں یوں کہوں، بسم اللہ ! اُف۔
حدیث نمبر: 25107
٢٥١٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (قطن) (١) عن شعبة عن الحكم وحماد أنهما كرها التفل في الرقى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد دونوں کے بارے میں روایت ہے کہ وہ دم ، تعویذات میں تھتھکارنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔