حدیث نمبر: 25089
٢٥٠٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عقبة بن خالد عن شعبة عن أبي عصمة قال: سألت سعيد بن المسيب عن التعويذ فقال: لا بأس (به) (١) إذا كان في أديم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عصمہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے تعویذ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : جب تعویذ چمڑے میں بند ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 25090
٢٥٠٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء في الحائض يكون عليها التعويذ قال: إن كان في أديم فلتنزعه وإن كان في قصبة فضة فإن شاءت وضعته، وإن شاءت لم تضعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے اس حائضہ کے بارے میں جس نے تعویذ لٹکایا ہو ، روایت ہے، فرماتے ہیں کہ اگر تعویذ چمڑے میں ہو تو عورت کو چاہیئے کہ اس کو اتار دے اور اگر چاندی کے خول میں ہو تو پھر چاہے تو اتار دے اور چاہے نہ اتارے۔
حدیث نمبر: 25091
٢٥٠٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن (ثوير) (١) قال: كان مجاهد يكتب (للصبيان) (٢) التعويذ فيعلقه عليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثویر سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت مجاہد، لوگوں کو تعویذ لکھ کردیتے تھے اور پھر وہ تعویذ لوگوں کو پہناتے بھی تھے۔
حدیث نمبر: 25092
٢٥٠٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه عن (حسن) (١) عن جعفر عن أبيه: أنه كان لا يرى بأسًا أن يكتب القرآن في أديم ثم يعلقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس بات میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ قرآن مجید کو چمڑے میں لکھا جائے اور پھر اس کو (گلے میں) لٹکایا جائے۔
حدیث نمبر: 25093
٢٥٠٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة (عن) (١) محمد بن إسحاق عن عمرو ابن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا فزع أحدكم (في) (٢) نومه، فليقل (٣): أعوذ بكلمات اللَّه (التامة) (٤) من غضبه وسوء عقابه، و (من) (٥) شر عباده، ومن شر الشياطين و (ما) (٦) يحضرون، فكان عبد اللَّه (يعلمها) (٧) ولده من (أدرك) (٨) منهم، ومن لم يدرك كتبها وعلقها عليه" (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب ، اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی نیند میں ڈر جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ (یوں) کہے : : : میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ساتھ ، اللہ کے غصہ اور بُری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے شر سے اور جو کچھ حاضر ہیں ان کے شر سے بھی پناہ مانگتا ہوں۔ “ چناچہ حضرت عبد اللہ، یہ کلمات اپنے سمجھدار بچوں کو سکھا دیتے تھے اور جو بچے ناسمجھ تھے، ان کے لئے یہ کلمات حضرت عبد اللہ لکھ کر ان کے (گلوں میں) لٹا دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 25094
٢٥٠٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن مسلم عن ابن سيرين: أنه كان لا يرى بأسًا بالشيء من القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین کے بارے میں روایت ہے کہ وہ قرآن کے کسی حصہ (کو تعویذ بنانے) پر کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 25095
٢٥٠٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا وهيب قال: حدثنا أيوب أنه رأى في عضد عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عمر خيطًا.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ (کلائی) میں دھاگہ بندھا ہوا دیکھا۔
حدیث نمبر: 25096
٢٥٠٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا حسن عن ليث عن عطاء قال: لا بأس أن يعلق القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے کہتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی قرآن مجید کو (لکھ کر) لٹکائے۔
حدیث نمبر: 25097
٢٥٠٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن أبان بن (تغلب) (١) عن يونس ابن (خباب) (٢) قال: سألت أبا جعفر عن التعويذ يعلق على الصبيان فرخص فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یونس بن خباب سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے اس تعویذ کے بارے میں سوال کیا جو بچوں پر لٹکائے جاتے ہیں ؟ تو انہوں نے اس کی اجازت دی۔
حدیث نمبر: 25098
٢٥٠٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسحاق الأزرق عن (جويبر) (١) عن الضحاك (أنه) (٢) لم يكن يرى بأسا أن (يعلق) (٣) الرجل الشيء من كتاب اللَّه إذا وضعه عند (الغسل) (٤) وعند الغائط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے تھے کہ آدمی کتاب اللہ میں سے کچھ (لکھ کر) لٹکائے بشرطیکہ غسل اور قضائے حاجت کے وقت اس کو اتار دے۔