حدیث نمبر: 25085
٢٥٠٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن محمد بن المنكدر عن (أبي) (١) بكر بن (سليمان) (٢) بن أبي (حثمة) (٣) أن رسول اللَّه ﷺ قال (لجدته) (٤) الشفاء بنت عبد اللَّه: "علمي حفصة رقيتك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی دادی حضرت شفاء بنت عبد اللہ سے فرمایا تھا۔ ” تم حفصہ کو اپنا تعویذ بھی سکھا دو “۔ ابو بشر سلیمان ابن علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد سے پوچھا، ان کا تعویذ کون سا تھا ؟ محمد نے جواب دیا، پہلو کے پھوڑے کا تعویذ تھا۔
حدیث نمبر: 25086
٢٥٠٨٦ - قال: أبو (بشر) (١) -يعني إسماعيل بن علية-: فقلت لمحمد: ما رقيتها؟ قال: رقية النملة.
حدیث نمبر: 25087
٢٥٠٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا سفيان عن (عاصم) (١) عن يوسفما بن عبد اللَّه بن الحارث عن أنس قال: رخص رسول اللَّه ﷺ في الرقية من النملة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلو کے پھوڑے کے تعویذ کی اجازت عنایت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 25088
٢٥٠٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا عبد العزيز بن ⦗١٤٤⦘ عمر قال: حدثني صالح بن (كيسان) (١) عن (أبي) (٢) بكر بن (سليمان) (٣) بن أبي (حثمة) (٤) أن الشفاء ابنة عبد اللَّه قالت: دخل عليَّ رسول اللَّه ﷺ وأنا قاعدة عند حفصة بنت عمر، فقال: "ما (يمنعك) (٥) أن (تعلمي) (٦) هذه رقية النملة كما (علمتيها) (٧) الكتابة" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ حضرت شفا بنت عبد اللہ فرماتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس بیٹھی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” تمہارے لیے اس بات سے کیا چیز مانع ہے کہ تم نے جس طرح حضرت حفصہ کو لکھنا سکھایا ہے اسی طرح تم اس کو یہ پہلو کے پھوڑے کا تعویذ بھی سکھا دو ۔ “