کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کے بارے میں جس کو سحر یا زہر ہو جائے اور وہ علاج کروائے
حدیث نمبر: 25062
٢٥٠٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عثام) (١) بن علي عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة (قالت) (٢): من أصابه (بسرة) (٣) أو سم أو سحر فليأت الفرات، فليستقبل الجرية، (فيغتمس) (٤) فيه سبع مرات (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ۔ کہتی ہیں کہ جس آدمی کو آسیب، جادو یا نہر چڑھ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ فرات دریا پر آئے اور پانی کے بہاؤ کے رُخ کرے اور دریا میں سات مرتبہ غوطہ لگائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25062
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عضده ما تقدم برقم [٢٥٠٥٨].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25062، ترقيم محمد عوامة 23983)
حدیث نمبر: 25063
٢٥٠٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عق الأعمش عن يزيد بن (حيان) (١) عن زيد بن أرقم قال: سحر النبي ﷺ رجل من اليهود، فاشتكى النبي ﷺ لذلك أيامًا، (فأتاه جبريل) (٢) فقال: إن (رجلًا) (٣) كذا من اليهود سحرك، عقد لك عقدًا، فأرسل إليها رسول اللَّه ﷺ عليًا، فاستخرجها، فجاء (به) (٤)، فجعل كلما حل عقدة وجد لذلك خفة، (قال) (٥): فقام النبي ﷺ كأنما نشط من عقال، فما ذكر النبي ﷺ (٦) ذلك اليهودي ولا رآه في وجهه قط (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک یہودی آدمی نے جادو کیا۔ جس کی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چند دن تک شکایت رہی لیکن پھر حضرت جبرئیل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ” یہود کے فلاں شخص نے آپ پر جادو کیا ہے اور اس نے آپ کے لئے چند گرہیں لگائی ہیں “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان گرہوں (والے دھاگہ) کی طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ، اس کو نکال کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان گرہوں میں سے کوئی گرہ کھولتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ہلکا پن محسوس کرتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں کھڑے ہوئے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی بندش سے کھول دیا گیا ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی آدمی سے اس بات کا کبھی ذکر نہیں فرمایا اور نہ ہی اس یہودی نے کبھی اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ سے پہچانا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25063
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25063، ترقيم محمد عوامة 23984)
حدیث نمبر: 25064
٢٥٠٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير (عن هشام) (١) عن أبيه عن عائشة قالت: سحر رسولَ اللَّه ﷺ يهوديٌ من يهود بني زريق يقال له: لبيد بن الأعصم، حتى كان رسول اللَّه ﷺ (يخيل إليه) (٢) أنه يفعل الشيء ولا يفعله، (قال) (٣): حتى إذا كان ذات يوم أو (٤) ذات ليلة دعا رسول اللَّه ﷺ (ثم دعا) (٥) ثم قال: "يا عائشة، أشعرتِ أن اللَّه قد أفتاني فيما (٦) استفتيته فيه، جاءني رجلان فجلس أحدهما عند رأسي، والآخر عند رجلي، فقال الذي عند رأسي للذي عند رجلي أو الذي عند رجلي للذي عند رأسي: ما وجع الرجل؟ (قال) (٧): مطبوب (٨)، قال: من طبه؟ قال: لبيد بن الأعصم، قال: في أي شيء؟ قال: في مشط (ومشاطة) (٩) و (جف) (١٠) طلعة ذكر، قال: وأين هو؟ قال: في بئر ذي (أروان) (١١) "، (قال) (١٢): (فأتاها) (١٣) رسول اللَّه ﷺ (١٤) في أناس من أصحابه، ثم ⦗١٣٦⦘ جاء فقال: "يا عائشة (كأنما) (١٥) ماؤها نقاعة (الحناء) (١٦)، ولكأن نخلها رؤوس (الشياطين) (١) " (١٧)، (قالت) (١٨): فقلت: يا رسول اللَّه (أفلا) (١٩) (أحرقته؟) (٢٠) فقال (٢١): " (أما) (٢٢) أنا فقد عافاني اللَّه، وكرهت أن أثير على الناس منه (شرا) (٢٣) "، فأمر بها فدفنت (٢٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ کہتی ہیں کہ بنو زریق کے یہودیوں میں سے ایک یہودی نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا۔ جس کا نام لبید بن اعصم تھا۔ (اس کا اثر) یہاں تک (تھا) کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیال ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کرلیا ہے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ دن کا وقت تھا یا رات کا وقت تھا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دی۔ پھر دوبارہ آواز دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتادی ہے جو میں نے اللہ تعالیٰ سے معلوم کی تھی ؟ میرے پاس دو آدمی آئے اور ان میں سے ایک میرے سر کے پاس اور دوسرا میرے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر اس آدمی نے جو میرے سر کے پاس بیٹھا تھا اس آدمی سے جو میرے قدموں کے پاس بیٹھا تھا۔ کہا : یا جو آدمی میرے قدموں کے پاس تھا اس نے میرے سر کے پاس بیٹھے ہوئے سے کہا۔ اس آدمی کی تکلیف کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اس پر جادو ہوا ہے۔ اس نے پھر پوچھا۔ اس پر کس نے جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا لبید بن اعصم نے۔ پہلے نے پھر پوچھا۔ کس چیز میں جادو کیا ہے ؟ دوسرے نے جواب دیا۔ کنگھی میں اور اس میں آنے والے بالوں میں اور نر کھجور کی جڑ سے بنے ہوئے برتن میں۔ پہلے نے پھر پوچھا۔ یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ دوسرے نے کہا۔ بیئر ذی اروان میں “ چناچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کنویں کے پاس اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ہمراہ تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے اور فرمایا : ” اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! گویا کہ اس کا پانی مہندی بھگویا ہوا پانی ہے اور اس کے کھجور تو گویا شیطانوں کے سر ہیں۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے ان چیزوں کو باہر کیوں نہ نکلوایا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” نہ “ کیونکہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے صحت بخش دی ہے اور میں نے اس بات کو ناپسند سمجھا کہ میں اس کے ذریعہ سے لوگوں میں کوئی شر بھڑکاؤں۔ “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا اور انہیں دفن کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25064
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٧٦٥)، ومسلم (٢١٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25064، ترقيم محمد عوامة 23985)
حدیث نمبر: 25065
٢٥٠٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا (ليث) (١) بن سعد (عن سعيد بن أبي سعيد) (٢) عن أبي هريرة قال: لما فتحت خيبر (أهديت) (٣) (لرسول) (٤) اللَّه ﷺ شاة فيها سم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اجمعوا لي من كان هاهنا من اليهود"، فقال (لهم) (٥) رسول اللَّه ﷺ (٦): "هل جعلتم في هذه الشاة ⦗١٣٧⦘ (سمًا) (٧)؟ " قالوا: نعم قال: "ما حملكم على ذلك؟ " قالوا: أردنا إن كنت كاذبًا (أن) (٨) نستريح منك، وإن كنت نبيا لم يضرك (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کی گئی جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا۔ ” یہاں جتنے یہودی ہں ان سب کو میرے پاس اکٹھا کرو۔ “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا۔ ” کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے ؟ “۔ انہوں نے جواب دیا۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” تمہیں اس کام پر کس چیز نے ابھارا ہے ؟ “ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے یہ چاہا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں گے تو ہمں آپ سے آرام مل جائے گا اور اگر آپ (واقعی) نبی ہوئے تو یہ بات (زہر ملانا) آپ کو نقصان نہیں دے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25065
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٢٤٩)، وأحمد (٩٨٢٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25065، ترقيم محمد عوامة 23986)
حدیث نمبر: 25066
٢٥٠٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن ابن جريج عن عطاء، أنه كان لا يرى بأسًا أن يأتي المؤخذ عن أهله والمسحور من يطلق (عنه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء کے بارے میں روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے کہ جادو کیا ہو اشخص اور وہ شخص کو اہل خانہ کی طرف سے جادو کیا گیا ہو۔ یہ (دونوں) اس کے پاس جائیں جو اس کو ختم کر دے (سحر کو) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25066
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25066، ترقيم محمد عوامة 23987)
حدیث نمبر: 25067
٢٥٠٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش قال: سألت عطاء الخراساني عن المؤخذ (عن أهله) (١) والمسحور (يأتي) (٢) (من) (٣) (يطلق) (٤) عنه، قال: لا بأس بذلك إذا اضطر إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن عیاش بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء خراسانی سے مسحور اور سحر میں گرفتار کے بارے میں پوچھا کہ اگر وہ کسی علاج کرنے والے کے پاس جائیں ؟ حضرت عطاء نے فرمایا : جب آدمی اس درجہ مجبور ہوجائے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25067
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25067، ترقيم محمد عوامة 23988)
حدیث نمبر: 25068
٢٥٠٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: قلت له: رجل طب بسحر، (نحل) (١) عنه؟ قال: نعم، من استطاع أن ينفع أخاه فليفعل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، حضرت سعید بن مسیب کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا۔ ایک آدمی ہے جس کو جادو کیا گیا ہے کیا اس کا علاج کیا جاسکتا ہے ؟ سعید نے جواب دیا۔ ہاں۔ جو آدمی اپنے بھائی کو نفع دے سکے تو اسے نفع دینا چاہیے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25068
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25068، ترقيم محمد عوامة 23989)